• قطاع الطيران الإماراتي.. ريادة في السماء .. وتميز على الأرض. 1
  • قطاع الطيران الإماراتي.. ريادة في السماء .. وتميز على الأرض. 2

متحدہ عرب امارات کا ایوی ایشن سیکٹر: آسمان میں قیادت، زمین پر مہارت: رپورٹ

ابوظہبی، 21 مئی، 2018 (وام) -- متحدہ عرب امارات کا ایوی ایشن کا شعبہ مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے، جو کئی اقسام کی مہارت اورکامیابیوں سے مستفید ہورہاہے، اور یہ جدید ترین بین الاقوامی ائیرپورٹ کے مسائل کا حل پیش کر رہا ہے جس سے عرب امارات کی قومی فضائی کمپنیوں کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے.

ابتدا سے ہی متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اس بات کا ادراک کیا کہ ایوی ایشن کا شعبہ ملک کے مجموعی مستقبل کی پائیدار ترقی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جس کے بعد اس نے بین الاقوامی ہوائی اڈے تعمیر کئے، ممتاز بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کا قیام عمل میں لایا، اور بنیادی ڈھانچے میں اربوں کی سرمایہ کاری کی.

دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ اب عالمی سطح پر مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے جبکہ ابوظہبی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اسی اعداد و شمار کے ساتھ تیزی سے ترقی کررہا ہے.

متحدہ عرب امارات میں ٹرانسپورٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کا جدید نظام موجود ہے جو مشرق و مغرب کے درمیان ایک رابطہ کا کام کرتا ہے، یہ سیاحت، کاروبار، ٹرانزٹ اور دوبارہ برآمد کرنے کے لئے ایک بین الاقوامی مرکز ہے، ان سہولتوں کی وجہ سے اس کا جدید ایوی ایشن سیکٹر آج کے مسابقتی دنیا میں کامیابی سے ہمکنار ہے.

5 اکتوبر، 1932 کے بعد سے جب پہلا طیارے شارجہ کے المحطة ہوائی اڈے پر اترا،تب سے لیکر اب تک اماراتی ایوی ایشن کے شعبے نے ترقی کی نئی منزلیں طے کیں، اور اب مجموعی ملکی پیداوار میں اسکا حصہ 169 ارب درہم (46 ارب امریکی ڈالر)، یا تقریبا 15 فیصد ہے.

2017 کے اختتام پر چار قومی فضائی ایئرلائن کمپنیوں جن میں ایمریٹس ائیر لائن، اتحاد ایئرویز، ایئرعریبہ اور فلائی دبئی شامل ہیں کے فضائی بیڑے میں طیاروں کی تعداد بڑھ کر512 ہوگئی، اور اسی سال ملک کے ہوائی اڈوں کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد بڑھ کر 126.5 ملین ہوگئی.

جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی فضائی حدود کے اندر پروازوں کی تعداد پچھلے سال 882,600 تک پہنچ گئی جبکہ دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے ذریعے مسافروں کی تعداد 91.3 ملین تک پہنچ گئی.

ابو ظہبی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے 24 ملین مسافروں، شارجہ ہوائی اڈے پر 9.76 ملین، المکتوم ائیرپورٹ پر 899,000 ، رأس الخيمة ائیرپورٹ پر 427,600، العين ائیرپورٹ 74,800 ، البطين ائیرپورٹ 11,000 ، الفجيرة ائیرپورٹ 3,400 اور الظفرة ائیر پورٹ پر371 مسافروں کو ہیڈل کیا گیا.

2017 میں قومی فضائی کمپنیوں کے بین الاقوامی روٹس میں 13 نئے مقامات کا اضافہ ہوا، اور ملک بھر کے مختلف ہوائی اڈوں سے مجموعی طور پر بین الاقوامی روٹس کی تعداد بڑھ کر 444 ہوگئی.

متحدہ عرب امارات نے 2015 بین الاقوامی ائیر سیفٹی معیاروں پرتعمیل کرنے والے ممالک میں پہلی پوزیشن حاصل کی، یہ مقام آئی سی اے او کے "سیفٹی آڈٹ پروگرام" کی طرف سے ایک جامع آڈٹ کے بعد حاصل ہوا امارات کو تنظیم کی تاریخ میں سب سے زیادہ 98.86 فیصد کی ریٹنگ ملی.

متحدہ عرب امارات کے ایوی ایشن کے شعبے نے زمین پر بھی اپنی کامیابی کو منوایا، اور اس کے پاس گنجائش، پروازوں کی تعداد، خدمات کی سطح، اور مسافروں کے لئے سہولتوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ جدید ترین اور سب سے بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈے موجود ہیں.

دوبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے روزانہ 250,000 مسافر سفر کرتے ہیں، اور روزانہ 1,200 پروازیں اڑتی ہیں، اور 1960 میں اپنے آغاز سے اس سال کے اختتام تک مسافروں کی تعداد کا تقریبا ایک ارب تک پہنچنے کا امکان ہے.

ابوظہبی کے نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تعمیر سے متحدہ عرب امارات کے ایوی ایشن کے شعبے کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی اور ایک اندازے کے مطابق تقریبا 84 ملین مسافر ہر سال اس ہوائی اڈے کو استعمال کر سکیں گے جو رش کے اوقات میں تقریبا 11 ہزار مسافرفی گھنٹہ بنتے ہیں.

نئے ہوائی اڈے کے لئے 19.1 بلین درہم کا بجٹ رکھا گیا ہے اور یہ ایک چھت کے نیچے دنیا کی سب سے بڑی عمارت ہے۔ یہ ہوائی اڈہ 2019 کی آخری سہ ماہی میں مکمل کیا جائے گا جبکہ اس کا آزمائشی آپریشن 2018 کے اختتام سے شروع ہو جائے گا.

http://wam.ae/en/details/1395302690446

WAM/MOHD AAMIR