Sun 03-06-2018 23:18 PM

شیخ زاید: عالمی انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کا ایک مثالی نمونہ

ابوظہبی، 3 جون، 2018 (وام) -- متحدہ عرب امارات پیر 19 رمضان المبارک کو "زاید انسانی ہمدردی کے کام کا دن" منا رہا ہے، جو بابائے قوم مرحوم شیخ زاید بن سلطان آل نھیان کی وفات کی برسی کے موقع پر منایا جارہا ہے.

رواں سال میں انسانی فلاح و بہبود کے اہم پروگراموں کا اجرا شامل ہے جوہزاروں کی تعداد میں سرکاری اور کمیونٹی تقریبات کے ذریعے کیا جائے گا جسکا اہتمام حکومتی، نجی اور غیر سرکاری تنظیمیں کریں گی.

شیخ زاید نے مقامی اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی اور چیریٹی امور کو اولیت دی اور انکی ہدایات کے مطابق 2000 کے آخر تک متحدہ عرب امارات کی طرف سے فراہم کردہ امداد کی مجموعی رقم 98 ارب درہم تھی، جو گرانٹس، قرضوں اور امداد کی شکل میں تھی.

فلسطین یروشلم میں شیخ زاید مضافاتی پروجیکٹ جس کی مالیت تقریبا 15 ملین درہم ہے ،فلسطین میں شیخ زاید کے اہم منصوبوں میں سے ایک ہے. ان کے دیگر منصوبوں میں جنین کیمپ کی بحالی شامل ہے، جس پر تقریبا 100 ملین درہم خرچ کیا گیا ہے، اسی طرح غزہ میں 220 ملین درہم کی لاگت سے شیخ زاید سٹی کی تعمیر، رفاہ میں شیخ خلیفه سٹی اور خان یونس میں اماراتی ڈسٹرکٹ کا پراجیکٹ شامل ہے. انہوں نے غزہ اور مغرب کنارے میں فلسطینی دیہات، کیمپوں اور شہروں میں معذور افراد کے لئے بہت سے اسپتال، سکول، صحت کے مراکز بھی شروع کئے.

شیخ زاید نے 1981 میں ایک سربراہی اجلاس کی صدارت کی جس میں خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے قیام کا اعلان کیا گیا، جبکہ ابوظہبی فنڈ برائے ترقی نے بحرین کو توانائی اور صنعتی منصوبوں کے لئے 160 ملین درہم کا قرضہ دیا.

1972 میں شیخ زاید نے صنعاء ریڈیو شروع کرنے کے لئے یمن کی مدد کی ، اور 1974 میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو منصوبوں کو برقرار رکھنے کے لئے 1.71 ملین ڈالر کی اضافی رقم دی۔ شیخ زاید کی ہدایات کے تحت 1990 کی دہائی میں سیلاب کے اثرات کو کم کرنے کے لئے متحدہ عرب امارات نے یمن کو3 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد فراہم کی.

مصر شیخ زاید کی ہدایات پر مصر میں سیاحوں اور رہائشی گاؤں اور شہروں کی تعمیر، زرعی زمین کی کاشت کے کئی منصوبے شروع کئے گئے جبکہ طبی مراکز اور ہسپتالوں کی امداد بھی شامل ہے.

اکتوبر 1973 کے جنگ کے بعد، شیخ زاید نے سویز کینال، الإسماعيلية اور پورٹ سعید کی تعمیر نو کے اخراجات برداشت کئے، جو 1967 میں اسرائیلی حملے میں تباہ ہوگئے تھے۔ 1990 میں أسوان میں تاریخی بین الاقوامی تقریبات میں شرکت کے دوران شیخ زاید نے اسکندریہ میں قدیم لائبریری کو بحال کرنے کے لئے 20 ملین ڈالر کا عطیہ دیا.

مراکش شیخ زاید نے متحدہ عرب امارات اور مراکش کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے کئی اقدامات کئے جن میں شیخ زاید ٹریٹمنٹ انسٹی ٹیوٹ اور مریم چلڈرن سینٹرسمیت دیگر مربوط رہائشی یونٹوں کی تعمیر شامل ہے.

1976 میں ابوظہبی فنڈ برائے ترقی نے مراکش کی اسلامی امور اور اوقاف کی وزارت کو 40 ملین درہم کا قرضہ فراہم کیا.

سوڈان شیخ زاید نے سوڈان کو بڑے پیمانے پر امداد فراہم کی اور وادی مادانی میں نصر ہسپتال اور میڈیکل کالج کے قیام کے لئے 50،000 درہم کاعطیہ دیا. سوڈان میں خشک سالی کے خاتمے کے لئے انہوں نے 3 کروڑ درہم بھی دیئے ہیں. ابوظہبی فنڈ برائے ترقی نے مغربی سوڈان میں دارفور میں ایک دیہی ترقی کے منصوبے کے لئے 5.16 ملین درہم کا قرض بھی فراہم کیا.

لبنان کی تعمیر اور شام کی امداد شیخ زاید نے لبنان کے جنوب میں اپنے خرچے پر بارودی سرنگوں کی صفائی کا ایک منصوبہ شروع کیا۔ ان کی خواہش تھی کہ متحدہ عرب امارات لبنان میں جنگ کے بعد تعمیراتی عمل میں اہم کردار کرے، اور ملک نے اہم ترقیاتی منصوبوں کے لئے مالی امداد، فنڈز اور قرض فراہم کیے.

شیخ زاید کے دور میں متحدہ عرب امارات نے شام میں چیرٹی اور ترقیاتی منصوبوں میں مدد کی، اور ابوظہبی فنڈ برائے ترقی نے دمشق میں تین معاہدوں پر دستخط کیے اور تین صنعتی منصوبوں کے لئے 911 ملین درہم فراہم کئے.

پاکستان پاکستان میں، کراچی، لاہور اور پشاور کے شہروں میں تین اسلامی مراکز ایسے ہیں جو شیخ زاید نے پاکستانیوں کے درمیان اسلامی اور عرب ثقافت کو فروغ دینے کے لئے قائم کئے تھے. انہوں نے بلوچستان کے ضلع خاران میں پہاڑی سڑک کی ہمواری اورتوسیع کا منصوبہ میں مالی معانت کی ، انہوں نے مساجد کی تعمیر،سکولوں کے قیام اور کئی رہائشی منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا.

شیخ زاید نے 1982 میں کراچی میں تجارت اور صنعت کا اسلامی چیمبر قائم کرنے کے لئے 500،000 درہم کا عطیہ دیا اور زلزلے اور سیلاب متاثرین کو طبی امداد، اسکالرشپ اور فوری امداد فراہم کی.

غیر ملکی امداد شیخ زاید کے دور میں اماراتی چیریٹی منصوبے عرب اور اسلامی ممالک تک محدود نہیں تھے، بلکہ ترقی یافتہ دنیا کو بھی اس میں شامل کیا. 1992 میں، متحدہ عرب امارات نے سمندری طوفان اینڈریو کے متاثرین کی مدد کے لئے امریکہ کو 5 ملین ڈالرز کا عطیہ دیا ہے .

شیخ زاید نے بوسنیا اور ہرزوگوینا میں غیر یقینی حالات کے متاثرہ افراد کی امداد کے لئے 26 اپریل 1993 کو 10 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی. اورزخمیوں کو امارات کے ہسپتالوں میں علاج کے لئے خصوصی اقدامات کئے.

مئی 1990 میں چینی مسلمانوں کی مدد کے لئے شیخ زاید نے 3.1 ملین درہم کی امداد دی، انہوں نے متحدہ عرب امارات اور چین دوستی ایسوسی ایشن کے لئے 500,000 درہم کاعطیہ دیا.

1999 میں، شیخ زاید کی ہدایات پر یونان میں زلزلے کے متاثرین کے لئے ابوظہبی سے امدادی سامان ارسال کیا.

2000 میں شیخ زاید کی ہدایات پر امارات ریڈ کریسنٹ نے انگوشتیا چیچنیا میں پناہ گزینوں کو گوشت تقسیم کیا۔ زاید بن سلطان آل نھیان نے قرن افریقہ میں 145 ٹن غذائی امداد فراہم کی۔ اس طرح گوٹے مالا میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لئے 100,000 درہم کی ہنگامی امداد دی.

بین الاقوامی اداروں شیخ زاید نے بین الاقوامی اور اسلامی تنظیموں کو بھی امداد دی ، انہوں نے یونیسیف کی سرگرمیوں میں مدد کے لئے یونین کے قیام کے بعد 50,000 ڈالر کا عطیہ دیا.

متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام( یو این ڈی پی) کو 424,000 ڈالر، یونیسیف کو100,000 ڈالر، اور اقوام متحدہ کے پناہ گزین ایجنسی ( یو این ایچ سی آر) کو 54,000 ڈالر کا عطیہ دیا.

1974 میں متحدہ عرب امارات نے اسلامی ترقیاتی بینک کو 10 ملین اسلامی دینار فراہم کئے اور اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کو 2.4 ملین ڈالر کا بلا سود قرض فراہم کیا. 1982 میں ابو ظہبی فنڈ برائے ترقی نے سینیگال دریا بیسن تنظیم کی مدد کے لئے 259 ملین درہم کا قرض دیاتھا.

http://wam.ae/en/details/1395302692600

WAM/MOHD AAMIR