Mon 16-07-2018 15:21 PM

صدر شی جنپنگ کے دورہ متحدہ عرب امارات سے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی: چینی بزنس کونسل

ابوظہبی 16 جولائی، 2018 (وام) -- متحدہ عرب امارات میں چینی بزنس کونسل کے صدر نے کہا ہے کہ چین کے صدر شی جنپنگ کا آنے والا دورہ متحدہ عرب امارات صحیح وقت پر ہوگا. اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی.

امارات نیوز ایجنسی کے ساتھ انٹرویو میں ہوانگ جان ژانگ نے کہا کہ اس بروقت دورے سے متحدہ عرب امارات اور چین کے درمیان نہ صرف سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ ملے گا بلکہ اضافی تجارتی روابط پیدا ہوں گے. جس سے دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے باہمی مقاصد حاصل کئے جاسکیں گے.

انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی اور گلوبل معیشت میں سست روہی کے باوجود ضروری ہے کہ پچھلے تجربات سے سیکھا جائے کیونکہ موجودہ معاشی حالات سے فائدہ اٹھانے اور مستقبل کی ترقی سے نمٹنے کے لئے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے، اور دونوں اطراف کو اصلاحات اور جدت کے ذریعے اپنی معیشتوں کو بحال کرنے کی بھرپورکوششیں کرنی چائیں.

ژانگ نے زور دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعلقات سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینے کے لئے دونوں ملکوں کی خواہشات کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "متحدہ عرب امارات مشرق وسطی کے بازاروں میں داخل ہونے کا دروازہ ہے."

متحدہ عرب امارات اور چین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے چینی بزنس کونسل کی کردار کے بارے میں ژانگ نے کہا کہ کونسل متحدہ عرب امارات میں چینی اداروں اور کمپنیوں کے درمیان باہمی رابطہ اور تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ اراکین کے قانونی حقوق اور مفادات کا تحفظ کرتی ہے، اور یہ مقامی حکومتوں اور کاروباری برادری کے درمیان رابطہ کو فروغ دینے اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ چین کے اقتصادی اور تجارتی تعاون کو آگے بڑھانے میں سرگرم عمل ہے.

ژانگ نے بتایا کہ 2017 کے اختتام تک تقریبا 4200 چینی کمپنیاں متحدہ عرب امارات میں کام کر رہی تھیں اورمتحدہ عرب امارات میں چین کی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کا حجم 9.1 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جس میں تیل، گیس، بنیادی ڈھانچے، فنانس، تعمیر، ٹیلی مواصلات، تجارت اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ گزشتہ سال چین سے متحدہ عرب امارات کے لئے غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی قدر 610 ملین ڈالر تھی.

ژانگ نے کہا کہ آنے والے دور میں امارات اور چینی کمپنیوں کے درمیان نئی شراکت داریاں قائم ہوں گی، ان میں انڈسٹری، مینوفیکچررنگ، فنانس، ثقافت، تعلیم، توانائی اور زراعت کے شعبے شامل ہیں ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ چینی سیاح متحدہ عرب امارات آنے والے سیاحوں کی کل تعداد کا 1.7 فیصد تھے ، جو 2016 کے مقابلے میں چار فیصد اضافہ کو ظاہر کرتا ہے،جس میں آئندہ سالوں میں مزید اضافہ متوقع ہے.

ژانگ نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات مشرق وسطی کا پہلا ملک ہے جو " بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے" میں حصہ لے رہا ہے اورعام پاسپورٹ کے حامل اس کے شہریوں کو 2017 میں باہمی ویزا کی چھوٹ دی گئی، جبکہ متحدہ عرب امارات آنے والے چینی سیاحوں کی تعداد گزشتہ سال بڑھ کر 1.1 ملین ہوگئی جو کہ 50 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے.

ژانگ نے کہا کہ دو ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کی قدر2017 میں 53.3 بلین ڈالر تک پہنچ گئی، اور متحدہ عرب امارات چین کا دوسرا معروف کاروباری پارٹنر ہے اور مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں اس کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ ہے.

ژانگ نے زور دیا کہ چینی کمپنیاں "انسانیت کے لئے ایک مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی کی تعمیر: انوویشن اور مواقع" کے نعرے کے تحت ایکسپو 2020 دبئی میں شرکت کریں گی۔ اورمشرق وسطی میں چین کے اہم شراکت داروں میں سے ایک کے طور پر، متحدہ عرب امارات "بیلٹ اور روڈ منصوبے" کے لئے اہم مقام ثابت ہوگا.

انہوں نے مزید کہا کہ چھ ماہ تک جاری رہنے والی اس نمائش میں چین کی شرکت سے تجارتی، سرمایہ کاری، ثقافت اور سیاحت میں دو طرفہ تعاون کو فروغ ملے گا.

http://wam.ae/en/details/1395302699093

WAM/MOHD AAMIR