متحدہ عرب امارات کا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں قطری دعویٰ کا جواب

جینیوا، 7 اگست، 2018 (وام) -- متحدہ عرب امارات نے نسلی امتیازی سلوک کے خاتمے کے بارے میں کمیٹی میں ایک میمو پیش کیا ہے، جس میں ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی کنونشن پر کاربند رہنے کے ملکی عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ میمو میں عرب امارات نے ذات پات کی تقسیم کو بھی مسترد کیا ہے.

متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہ میمو 8 مارچ 2018 کو قطر کی جانب سے کمیٹی کو پیش کی گئی شکایت کے جواب میں دیا گیا ہے، دوحہ نے متحدہ عرب امارات پر 5 جون 2017 کو بائیکاٹ کے فیصلے سے پہلے امارات میں رہنے والے قطری شہریوں کو ملک بدر کرنے کا الزام لگایا ہے.

میمو میں متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے 5 جون 2018 کے بیان کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں مذکورہ بالا قطری الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔ میمو میں سرکاری بیانات شامل کئے گئے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تعلقات ختم کئے جانے کے باوجود ہزاروں قطری شہری اب بھی متحدہ عرب امارات میں رہ رہے ہیں، اور ان کے ملک آنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات میں رہنے والے قطری شہریوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو دیگر غیر ملکیوں کو دیئے گئے ہیں.

میمو میں اقوام متحدہ کے قوانین اور ضابطوں اور انسانی حقوق کے منشوروں کے بارے میں متحدہ عرب امارات کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے نسلی امتیازی سلوک کے خاتمے کے بارے میں کمیٹی کے ساتھ قریبی تعاون کیا جارہا ہے.

متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس کی جانب سے کئے گئے اقدامات قطری حکومت کی پالیسیوں اور دہشت گردی اور انتہاپسندی کے لئے اس کی حمایت اور خطے کے ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے خلاف ہیں، اور انکا مقصد کسی قطری شہری کو نقصان پہنچانا نہیں، جو پہلے ہی اپنی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مصائب کا شکار ہیں.

http://wam.ae/en/details/1395302702655

WAM/MOHD AAMIR

متعلقہ خبریں