عرب ڈیجیٹل اکانومی کے لئے سی اے ای یو کی جانب سے مشترکہ ویژن کا اعلان

قاہرہ،30 نومبر،2018(وام) -- کونسل برائے عرب اقتصادی اتحاد (سی اے ای یو) کے مشیر ڈاکٹرعلی محمد الخوری نے کہا ہے کہ عرب لیگ کے پلیٹ فارم سے عرب ممالک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے فروغ کے لئے سی اے ای یو کا مشترکہ عرب ڈیجیٹل اکانومی کا خیال ایک جراتمندانہ اقدام ہے۔ڈاکٹرعلی محمد الخوری کا کہنا ہے کہ عرب اقتصادی کونسل اتحاد کے مشترکہ ڈیجیٹل اکانومی کے اس اقدام کو ابوظہبی کے ولی عہد اور عرب مارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر عزت مآب شیخ محمد بن زاید آل نھیان کی حمائت حاصل ہے۔منصوبے کا مقصدڈیجیٹل انضمام۔علم کی بنیاد پرقانون سازی،ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر اور سرکاری وغیر سرکاری شراکت داری سے عرب معاشروں میں سیکیورٹی،بہبوداورخوشحالی کو فروغ دینا ہے.

سرمایہ کاری مواقعوں،روزگار اور نئی منڈیوں کے ذریعے پائیدار ترقی اورشرح پیداوار کے اہداف کے حصول کے لئے ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے الخوری کا کہنا تھا کہ عرب امارات کی جانب سے مشترکہ عرب ویژن کی حمایت سے مشترکہ ڈیجیٹل اکانومی کے اقدام کو پزیرائی حاصل ہوگی۔عرب امارات کا علم کی بنیاد پرترقی اورنوجوانوں کو باختیار بنانے کے حوالے سے ایک مقام ہے۔:ون ملین عرب کوڈرز منصوبے:دنیا بھر میں پانچ کروڑ سے زائد عرب طلبا کے لئے تعلیم تک رسائی کے ای لرننگ پلیٹ فارم سمیت عرب معاشروں میں پائیدار ترقی کے متعدد منصوبوں کے ذریعے عرب امارات فنی تربیت کے کئی ایک اقدامات اٹھارہا ہے.

انہوں نے کہا کہ کونسل برائے عرب اقتصادی اتحاد کااس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور اس شعبہ میں کام کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کے فروغ کے لئے مرکزی کردار ہے۔سی اے ای یوکے وفد نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی میں عرب ممالک کے اسسٹنٹ ایڈ منسٹریشن اینڈ ریجنل ڈائریکٹر کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل مراد وھبہ اور اقوام متحدہ کے ڈویژن برائے پبلک انسٹی ٹیوشنز اینڈ ڈیجیٹل گورنمنٹ کے سینئر حکام سے ملاقات کی.

الخوری کا کہنا تھا کہ یو این ڈی پی کی جانب سے عرب خطے میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی مالیت ایک ارب امریکی ڈالر ہے۔یہ اقدام عرب ملکوں میں سماجی ومعاشی سیکیورٹی کے فروغ کے لئے ایک بنیاد ہے۔اسی وجہ سے عالمی اداروں کے درمیان تعاون ،عرب اور بین الاقوامی ماہرین کواس حکمت عملی کی کامیابی کے لئے ایک دوسرے کے قریب لانااہم ہے۔۔انہوں نے کہا کہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے عرب دنیامیں اقتصادی ترقی کا یہ ایک نیا ماڈل ہے.

یہ حکمت علمی رواں سال سولہ اور سترہ دسمبر کو ابوظہبی میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کی جائے گی۔اس حکمت عملی کے نتائج مارچ دوہزار انیس کو تیونس میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس میں عرب رہنماوں کے سامنے رکھیں جائیں گے.

عالمی بینک بھی عرب ملکوں میں جامع اقتصادی وترقیاتی مواقع کے لئے اس حکمت عملی کی اہمیت کو تسلیم کرچکا ہے۔ اس اقدام کو اقوام متحدہ،یواین ڈی پی اورعالمی بینک کی حمائت حاصل ہے.

ترجمہ: تنویر ملک

http://wam.ae/en/details/1395302724451

WAM/MOHD AAMIR