متحدہ عرب امارات یونین ایک خواب تھا جو حقیقت بن گیا: صدر خلیفہ بن زاید

ابوظبی، یکم دسمبر، 2018 ، (وام) ۔۔ صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید آل نھیان نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا قیام ایک خواب تھا جو 1971 میں اس کے شہریوں، قوم، خطے اور پوری دنیا کیلئے ایک روشن حقیقت بن گیا۔ متحدہ عرب امارات کے 47 ویں قومی دن کے موقع پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یونین کا قیام شہریوں اور ملکی قیادت کی "گہری خواہش" کی عکاسی تھی.

متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے میگزین نیشن شیلڈ کو ایک بیان میں شیخ خلیفہ نے کہا کہ ملک کا قیام متحدہ عرب امارات کے بانی رہنماوں کی طرف سے مرحوم شیخ زاید بن سلطان آل نھیان کی بصیرت افروز قیادت کے تحت سنگ بنیاد کا آغاز تھا.

متحدہ عرب امارات کے صدر نے کہا کہ آج ہم اپنے یونین کے اعلان اور ملک کی قیام کی شاندار 47 ویں سالگرہ کا جشن مناتے ہیں۔ ایک خواب جو ہمارے لوگوں، قوم، خطے اور دنیا کے لئے روشن حقیقت بن گیا۔ ہمارے ملک کا قیام ہمارے بانی رہنماوں کی طرف سے مرحوم شیخ زاید بن سلطان آل نھیان کی دوراندیش قیادت کے تحت ایک اہم قدم تھا.

انھوں نے کہا کہ یونین ہمارے شہریوں کی خواہشوں کی عکاس اور قیادت کے نقطہ نظر اور یہ لوگوں کے درمیان ایک غیر معمولی ہم آہنگی کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس نے ہمارے تجربات کو خصوصیات اور کامیابی حاصل کرنے کا عزم دیا اور اب ہمارا ملک ترقی اور خوشحالی کا ایک عالمی ماڈل بن گیا ہے.

صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید آل نھیان نے کہا ہے کہ اس قومی موقع پر اور متحدہ عرب امارات کے لوگوں کی طرف سے وہ اپنے بھائیوں نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم، ابوظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نھیان اور سپریم کونسل کے ارکان کو مبارکباد دیتے ہیں.

انھوں نے کہا کہ اس شاندار موقع پر وہ اپنے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنکی قربانیوں کو ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ وہ ہمیشہ ہمارے لئے باعث فخر رول ماڈل ہیں اور ان کے نام ہماری تاریخ میں ہمیشہ کے لئے لکھے جاچکے ہیں۔ انکے خاندان اور بچے ہمیشہ ہماری ترجیحات کا مرکز رہیں گے اور ہم ہمیشہ ان کی دیکھ بھال کریں گے کیونکہ انھوں نے مادر وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے.

شیخ خلیفہ بن زاید نے کہا کہ دسمبر کا دوسرا دن ایک تاریخی اور شاندار موقع ہے۔ اس دن ہم مرحوم شیخ زاید بن سلطان آل نھیان اور ان کے ساتھی بانی رہنماوں کو یاد کرکے ان کی زندگیوں سے سبق سیکھتے ہیں جنہوں نے انصاف اور مساوات کی ٹھوس بنیادیں رکھ کر اپنے لوگوں اور ملک کی بہتری کیلئے خود کو وقف کردیا۔ انہوں نے ایک کامیاب جدید ملک کی بھی بنیاد رکھ دی جہاں تمام لوگ خوشحالی، سلامتی اور خوشی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اپنی نمایاں کامیابیوں اور اچھی ساکھ کے ساتھ دنیا کے دیگر ممالک کے لئے ایک رول ماڈل بن گیا ہے.

انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے بین الاقوامی سطح پر مسابقت، جدت، انسانی ترقی، تنوع، لیبرمارکیٹ کی کارکردگی اور قانون کی حکمرانی کے سلسلے میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا پاسپورٹ دنیا کی سب سے طاقتور سفری دستاویزات میں سرفہرست آگیا ہے.

یہ تمام کامیابیاں علاقائی اور عالمی سطح پر ہمارے ملک کے احترام، شناخت اور عمدہ کارکردگی کی عکاس ہیں.

انکا کہنا ہے کہ اس عظیم سالگرہ پر ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ یونین کی روح کو برقرار رکھنا ہماری سب سے بڑا سٹریٹیجک مقصد ہوگا۔ ہم مربوط نقطہ نظر، مخصوص مقاصد اور جامع ترقیاتی اور ترقی پسند پالیسیوں کے ذریعے اس مقصد کے حصول کی کوشش کریں گے۔ یہ مقصد وفاقی اور مقامی اداروں کے درمیان باقاعدہ رابطوں اور انکی اپنی ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے انجام دہی کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔. یونین کی روح ہمارے ملک کو مضبوط رکھتی ہے اور ہمار ا ملک قوموں کے درمیان اپنی مخصوص جگہ برقرار رکھتا ہے.

انھوں نے کہا کہ ہمارا ملک قیام کے مرحلے سے احسن طریقے سے بااختیار بنانے کے مرحلے میں منتقل ہوگیا ہے۔ آج یہ خود کو تعمیر کرنے اور اپنے مستقبل کو ایک روشن کل تک پہنچنے کے لئے تیار ہے۔ مستقبل کے لئے راستوں کا انتخاب متحدہ عرب امارات کے ویژن 2071 میں کیا گیا ہے جو اگلے پانچ دہائیوں کے لئے روڈ میپ ہے.

مستقبل کے اس ویژن کے پہلےدو اقدامات پہلی مرتبہ دو اماراتی خلائی نوردوں کو خلا میں بھیجنا اور اماراتی انجینئرز کی طرف سے مکمل طور پر ڈیزائن اور تیار کیا گیا پہلا عرب سیٹلائٹ "خلیفہ سیٹ" کا لانچ ہیں ۔ یہ کامیابیاں مستقبل پر ہمارے اعتماد کو بڑھاتی ہیں جو ہمارے قابل فخر متحدہ عرب امارات کے شہریوں کی طرف سے بنایا گیا ہے.

ہمارے لئے مستقبل کا ملک سائنس، جدت، قانون، قیادت، کامیابی، اقدار اور اخلاقیات کا ملک ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جس میں باصلاحیت اور تخلیقی ذہنوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔ یہ ملک نوجوان ذہنوں پر توجہ دیتا ہے اپنے قدرتی وسائل اور تنوع کو محفوظ رکھتا ہے اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا دیتا ہے۔ یہ اپنی قومی معیشت کو متنوع اور مسابقت کو بڑھا کر خوشحالی کے لئے علم پر مبنی فعال معیشت کے حصول کیلئے کوشاں ہے.

اس ملک میں آئین کی پاسداری ، حقوق اور فرائض کی حفاظت اور کمیونٹی کے مفادات کا خیال رکھ جاتا ہے۔ اس ملک میں افراد کی حفاظت کی جاتی ہےتاکہ سب محفوظ رہ کر امن سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہم آہنگی سے رہیں.

ہمارے ملک کو اس کے اصل، شناخت، زبان اور تاریخ پر فخر ہے۔ اسے اپنے بانی رہنماوں، تہذیبی میراث، عرب ثقافت، قومی شخصیات اور شہیدوں پر بھی فخر ہے۔ ہمارا ملک اخلاقیات اور دیانت داری ، وقار، سخاوت اور ضرورت مندوں کی مدد کے اقدار کا احترام کرتا ہے۔ اخلاقیات کے بغیر کسی قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ کسی ہم آہنگ معاشرے، ثقافتی ڈھانچے ، اسکول کے جدید نظام اور مساجد جو اسلام کے رواداری کے مقاصد کو فروغ دیتے ہیں کے بغیر کسی قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہے.

ہمارا ملک ایک تبدیلی سے گزر رہا ہے اور اس مرحلے پر مواقع اور چیلنجوں کی ابتدائی نگرانی کی ضرورت ہے۔ لہذا پالیسیوں، قوانین اور اداروں کے تیز رفتار ارتقاء، پہل کرنے، تخلیق اور جدت کی حوصلہ افزائی اور خواتین اور نوجوانوں کو یکساں مواقع اور دینے کی ضرورت ہے۔ یہ عوامل ایک ایسے ماحول کی تعمیر میں مدد دیتے ہیں جو ترقی، کامیابیوں کے حصول اور موجودہ اور مستقبل کی نسلوں کے لئے معیاری زندگی کی فراہم کو یقینی بنانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے.

اس کے علاوہ ہم ماحولیات، وسائل اور دولت کے تحفظ اور استحکام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک کے قدرتی وسائل کسی خاص نسل سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ اس کے مالک قوم اور مستقبل کی نسلیں ہیں۔لہذا آنے والی نسلوں کے حقوق کی ضمانت کے لئے ہمیں ان وسائل کو سمجھداری سے استعمال کرنا ہوگا.

عالمی معیشت کو درپیش غیر یقینی صورتحال سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کے باوجودہمیں اپنی معیشت کے پرکشش سرمایہ کاری کے ماحو ل کی تحریک اور استحکام پر اعتما د ہے۔ ہماری معیشت کی بنیاد سیاسی استحکام، سیکورٹی اور تحفظ، سرمایہ کاری، لچک اور بحران کا سامنا کرنے کی صلاحیت کے ساتھ بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور سماجی امداد کے منصوبوں پر رکھی گئی ہے.

اس تناظر میں ہم نے اس سال غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے قوانین کا سلسلہ جاری کیا ہے۔ منی لانڈرنگ سے متعلق جرائم کیلئے سخت سزاوں کے ساتھ دہشتگردی کی مالی امداد روکنے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس قانون سازی اور اس سے منسلک پالیسیوں کا مقصد پیداوار اور ترقی کے عمل کو تیز کرنا، قومی معیشت کو پرکشش بنا کر اسے مستحکم بنانا، غیر تیل کے شعبوں میں مجموعی گھریلو مصنوعات، جی ڈی پی، معاشی اور سماجی فلاح و بہبود کی سطح کو بہتر بنانا اور ہماری قومی قیادت پر دنیا کے اعتماد کو بڑھانا ہے.

ہم نجی شعبے کو اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ میں سب سے اہم محرک اور جی ڈی پی میں سب سے بڑا شراکت دار سمجھتے ہیں ۔ہمیں اس شعبے کی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ، تخلیقی نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے، اماراتی نوجوانوں میں مسابقت کو بہتر بنانے، تحقیق اور ترقی کو فنڈ کرنے اور سماجی ذمے داری کے دائرے کو وسیع کرنے کی صلاحیت پر پورا اعتماد ہے.

ہمارے ملک کے باشندے ہماری معیشت اور ہمارے آزاد، روادار اور ثقافتی لحاظ سے متنوع معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک محفوظ ملک اپنے بیرونی ماحول سے الگ تھلگ میں نہیں رہ سکتا۔ ہماری حکومت نے درجنوں غیر ملکی پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ برادر ملکوں میں صحت، تعلیم اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں کو بہتر بناکر پینے کے پانی کی فراہمی، غربت کے خاتمےاور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جاسکے.

ہماری مسلسل کوششوں اور بین الاقوامی سطح پر انسانی ہمدری کی بنیاد پر کام کرنے کی اقدار کے فروغ کے عزم کے ایک حصے کے طور پر متحدہ عرب امارات نے بہت سے برادر ممالک میں منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے "زاید کا سال" شروع کیا.

گزشہ سال فروری میں ہم نے پائیدار ترقیاتی مقاصد کے حصول کیلئے گلوبل کونسلز کا پروگرام شروع کیا جو 2030 تک اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی کے اہداف کو نافذ کرنے کے لئے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتا ہے.

ہم ترقی پذیر ممالک کے ساتھ شراکت داری کے مضبوط نیٹ ورک کے قیام کے لئے اپنی اپنے خارجہ تعلقات کو متنوع اور وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پالیسی ہمارے قومی مفادات کا تحفظ اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے، دہشتگردی کی تنظیموں سے لڑنے، دہشتگردی کے ذرائع کے خاتمے، ایران کی مداخلت اور فلسطینیوں کے انکے جائز حقوق سے انکار پر اسرائیلی خلاف ورزیوں کی روک تھام میں مدد دے گی.

ہم عرب اور خلیج کی سلامتی کو درپیش چیلنجوں اور خطرات پر بھی قابو پانا چاہتے ہیں تاکہ تنازعات اور بحران ختم کرکے خطے کو شدت پسندی کے چنگل سے آزاد کرایا جاسکے۔ہماری خارجہ پالیسی رواداری اور مذاکرات، رابطوں اور تعاون اور ایک ایسی مشترکہ عرب حکمت عملی پر اتفاق کرنے پر مبنی ہے جس کا مقصد ترقی، سلامتی اور استحکام ہے.

ہم اپنے برادر ملک سعودی عرب کی وحدت اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے اور اسکی قیادت اور عوام کو بدنام کرنے کی کوششوں کیخلاف سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ سعودی عرب خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کی قیادت میں قرآن کریم کی پہلی وحی کا مقام، مسلمانوں کا قبلہ، دو مقدس مساجد اور خلیج عرب اور پوری مسلم امہ کی سلامتی اور استحکام کا محافظ ہے.

سعودی عرب کو نقصان پہنچا نے کی کوئی کوشش ہمارے ملک پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس تناظر میں ہم یمن میں جائز حکومت کی بحالی اور حوثی بغاوت کے خاتمے کیلئے یمن کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ ہم یمن کے لوگوں کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی اور وہاں سلامتی اور استحکام بحال کرنے کے لئے آزاد کرائے گئے علاقوں کی تعمیر نو کرتے رہیں گے.

ہماری خارجہ پالیسی کے اصولوں کے مطابق ہم بحرین، لیبیا، عراق، شام اور لبنان کے اپنے بھائیوں کے ساتھ پوری یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور پوری طرح ان کی سلامتی اور اتحاد کے خلاف کوششوں کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں ہم 20 سال کے تنازعے کے بعد ایتھوپیا اور اریٹریا کے درمیان امن کے قیام میں ہماری اہم سفارتی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ ہمارا امن پسند ملک خطے میں تنازعات کے حل اور امن قائم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا۔ یہ امر ہمارے اس عزم کی عکاسی ہے کہ عوام کو جنگوں کی لعنت سے تحفظ دیکر استحکام اور پائیدار ترقی کے حصول کیلئے علاقائی اور بین الاقوامی امن اور سلامتی لازمی ہے.

صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید آل نھیان نے کہا ہے کہ آج جب ہم اپنے ملک کے قیام کی 47 ویں سالگرہ کا جشن منارہے ہیں ہم اسکے روشن مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ پرامید ہیں۔میں ایک ایسے ملک پر فخر کرتا ہوں جہاں میں اپنے بھائیوں نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم، ابوظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نھیان ، سپریم کونسل کے ارکان کے ساتھ قیادت کا اشتراک کرتا ہوں.

انھوں نے کہا کہ میں اس قوم پر فخر کرتا ہوں جس کے شہری باشعور ہیں اور اپنے وطن کی حفاظت ، اس کی کامیابیوں کو برقرار رکھنے، اپنے حقوق کے تحفظ، اس کی ترقی کو جاری رکھنے اور مختلف مواقع پر اس کا وقار بلند کرنے کیلئے کیلئے پرعزم ہیں.

ترجمہ: ریاض خان

http://wam.ae/en/details/1395302724498

WAM/MOHD AAMIR