خواتین کو بااختیار بنانے کی او آئی سی کانفرنس میں عرب امارات کی شرکت

واغادوغو ، برکینا فاسو ، 5 دسمبر ، 2018 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات نے ترقیاتی عمل میں خواتین کے کردار سے متعلق او آئی سی تنظیم کی ساتویں وزارتی کانفرنس میں شرکت کی ۔ مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کی یہ کانفرنس برکینا فاسو کے دارالحکومت واغادوغو میں ہوئی اور اسکا موضوع " رکن ممالک میں خواتین کو بااختیار بنانے میں درپیش چیلنجز اور مواقع " تھا.

عرب امارات کی وزیر مملکت ڈاکٹر میثہ بنت سالم الشامسی کی قیادت میں یو اے ای کے وفد نے اس مین شرکت کی ۔ وفد میں وزارت خارجہ میں اقوام متحدہ کے نمائیندہ محمد عیسی بوعسیبہ بھی شامل تھے ۔ کانفرنس سے خطاب میں ڈاکٹر الشامسی نے عرب امارات کی جنرل ویمن یونین کی سربراہ اور ماں اور بچے کیلئے سپریم کونسل کی صدر عزت مآب شیخہ فاطمہ بنت مبارک کا خیرسگالی کا پیغام پیش کیا ۔ انہوں نے عرب امارات میں خواتین کی ترقی انہیں بااختیار بنانے اور زندگی کے ہر شعبے میں انہیں آگے آنے کے حاصل مواقع پر روشنی ڈالی.

انہوں نے کہاکہ عرب امارات کا آئین مرد اور خاتون کا امتیاز کیئے بغیر تمام شہریوں کو برابر حقوق دیتا ہے اور حال ہی میں مردوں اور خواتین کی تنخواہین برابر کرنے کیلئے نیا قانون بھی لاگو کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ معاشرے میں آگے آنے کی خواہش مند خواتین کو حکومت کی طرف سے مکمل حوصلہ افزائی ملتی ہے ، ملکی پارلیمنٹ یعنی وفاقی قومی کونسل کی سپیکر خاتون ہیں جبکہ سفارتی شعبے میں بھی کئی اہم عہدوں پر خواتین تعینات ہیں.

ڈاکٹر الشامسی نے عرب امارات کی جنرل ویمن یونین کی طرف سے شیخہ فاطمہ کی قیادت میں کئے جانے والے ان فلاحی انقلابی اقدامات پر روشنی ڈالی جو خواتین کی ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کے اصولوں کی روشنی میں مرتب کیئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایاکہ عرب امارات میں کل افرادی قوت میں 43 فیصد خواتین ہین جبکہ سرکاری ملازمتوں میں ان کی شرح 66 فیصد ہے ، ان میں سے 30 فیصد خواتین فیصلہ سازی کے عہدوں پر جبکہ 15 فیصد تکنیکی سطح کا کردار ادا کرتی ہیں.

ترجمہ :تنویر ملک

http://wam.ae/en/details/1395302725311

WAM/Ahlam Al Mazrooi