تیل قیمت کا تعین اوپیک ارکان نہیں مارکیٹ کرتی ہے ، وزیرتوانائی امارات و سابق صدر اوپیک کانفرنس

ابوظہبی، 8 جنوری، 2019(وام)۔۔ عرب امارات کے وزیرتوانائی وصنعت سھیل محمد فرج المزروعی نے کہا ہے کہ اوپیک اور اس کے رکن ملک تیل کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرتے مارکیٹ تیل کی قیمتوں کا تعین کرتی ہے اور یہ کہ اوپیک صارفین اور پروڈیوسرز دونوں کے لئے ایک قابل قبول متوازن تیل کی مارکیٹ کے قیام کی کوشش کے ساتھ مستقبل کی پیدوار کے لئے ضروری اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

اوپیک کانفرنس کے صدر کی حیثیت سے اپنی مدت کے اختتام پرایک رائے میں دوہزاراٹھارہ کے دوران تنظیم کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے امارات کے وزیر توانائی نے اوپیک اور نان اوپیک شراکت داروں کے درمیان چارٹر پر پیش رفت کو دوہزاراٹھارہ کی اہم ترین کامیابی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس تاریخی معاہدہ کا آغاز دسمبر میں اوپیک کی ایک سوپچھہترویں کانفرنس میں ہوا۔انہوں نے کہا کہ عرب امارات گزشتہ پچاس سالوں سے اوپیک کا ایک قابل فخر رکن ہے جو ایک مستحکم تیل مارکیٹ کے حصول کے لئے اویپک کے اندر اور اس کے باہر اپنے ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ مل کرکام کررہا ہے۔

یکم دسمبر دوہزار سترہ کو اوپیک کے ایک سو تہترویں اجلاس کے دوران المزروعی کو اوپیک کانفرنس کا ایک سال کے لئے صدر منتخب کیا گیا اور ان کے عہدہ کی مدت یکم جنوری دوہزار اٹھارہ کو شروع ہوئی۔

اپنے بیان میں المزروعی نے کہا کہ عرب امارات کی جانب سے ایک سال کے لئے اوپیک کانفرنس کے صدر کے عہدہ پر کام کرنا ان کے لئے باعث فخر تھا۔یہ دور میرے لئے اس لئے بھی اہم تھا کہ اس کو زاید کاسال قرار دیا گیاجس کے دوران بابائے قوم کو یاد کرتے ہوئے تقریبات کا اہتمام کیا گیا مرحوم شیخ زاید کی قائم کی گئی روایات ہمارے ملک اور قوم کے جذبے کو تحریک فراہم کرتی ہیں۔

شیخ زاید کی مزاکرات،باہمی احترام وتعاون کی قائم کردہ روایات دوہزاراٹھارہ میں اوپیک اور اس کے شراکت داروں کے لئے یکساں اہم ثابت ہوئیں اور ہم نے غیریقینی اور دباو کے ماحول میں آئل مارکیٹ میں استحکام کے لئے مل کر کوششیں کیں۔دسمبر دوہزار سولہ میں اوپیک اور اس کے شراکت داروں کے درمیان ہونے والے معاہدہ کی روح کے مطابق صارفین اور پیداوار کنندگان کے مفاد میں آئل مارکیٹ میں دیرپا استحکام کا مقصد ہمارے پیش نظر رہا۔دوہزاراٹھارہ کے وسط میں تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے اضافی انوینٹری کم ہوئی اوپیک اور اس کے شراکت داروں نے اپنے طے شدہ اہداف سے بڑھ کر حاصل کیا اور تیل کی صنعت میں دوبارہ امید کااحساس پیدا ہوا۔جس کاثبوت ویانا میں ہونے والے اوپیک کے ساتویں عالمی سیمینارمیں پچاس سے زائد ممالک سے ایک ہزار کے قریب مندوبین کی شرکت تھی۔

ایسے ایونٹ پالیسی سازوں اور صنعت کے رہنماوں کو مستقبل کے رجحان،مواقعوں اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کا اہم موقع فراہم کرتے ہیں۔بحیثیت اوپیک کانفرنس کے صدر پورے سال کے دوران اہم اجلاسوں اور ایونٹس میں شرکت کرنا ایک اعزاز تھا۔اور اس چیز کا مشاہدہ کیا کہ کئی ممالک،تنظیمیں اور انفرادی حیثیت میں لوگ تیل کی صنعت میں استحکام کے لئے کوشاں ہیں۔یہ چیز بھی واضح ہے کہ تیل اور گیس کی صنعت کا معاشی ترقی اور پیداوار میں ناگزیر کردار ہے۔

ہماری صنعت عالمگیر حیثیت کی حامل اور مسلسل تغیر پزیر ہے ہم کبھی مطمئن ہوکر نہیں بیٹھ سکتے صرف محتاط مانیٹرنگ اور تجزیہ سے ہی ہم طویل المیعاد مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔دوہزار اٹھارہ کے دوران مسلسل ایک سوال جو مجھ سے کیا گیا وہ یہ تھا کہ اوپیک یا امارات تیل کی کیا قیمت چاہتا ہے،ایک اچھی قیمت کیا ہے؟ایک صحیح قیمت کیا ہے؟ اور جیسا کے میرے میڈیا کے دوست جانتے ہیں میرا جواب ہمیشہ ایک ہی رہا ہے کہ اوپیک یا اس کے ارکان تیل کی قیمت کنٹرول نہیں کرتے مارکیٹ قیمت کا تعین کرتی ہے۔ اور یہ کہ اوپیک صارفین اور پروڈیوسرز دونوں کے لئے ایک قابل قبول متوازن تیل کی مارکیٹ کے قیام کی کوشش کے ساتھ مستقبل کی پیدوار کے لئے ضروری اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔اور میں نے اسی مستقل مزاج نقطہ نظر کو سال بھر کے دوران اپنے خطابات میں بیان کیا۔

ہر اہم پیش گوئی سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں تیل ہی عالمی توانائی کا محور رہے گا اور اگر ہم مستقبل میں کسی اتار چڑھاو سے بچنا چاہتے ہیں تواس کے لئے ہمیں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔اوپیک کے ورلڈ آوٹ لک دوہزار اٹھارہ کے مطابق دوہزار چالیس تک کی تیل کی مجموعی صنعت سے متعلق گیارہ کھرب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایاگیا ہے۔اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ صنعت کی حالیہ مندی کے دوران ترقیاتی شعبہ میں ایک کھرب ڈالر کی کٹوتی کرنا پڑی اور سرمایہ کاری میں ایسی بڑی کٹوتی مستقبل میں تیل کی پیداوار اور فراہمی کے لئے ایک خطرہ ہوگی۔

ایسی صورتحال سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم سرمایہ کاری خصوصا طویل المدت اور بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کوجاری رکھیں ۔آخر میں میں اوپیک کے سیکرٹری جنرل محمد سنوسی بارکیندو اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے سخت محنت کے ساتھ میری حمائت اور نصرت کی،اپنے وزارتی رفقا خصوصاً سعودی عرب کے وزیر توانائی،صنعت و معدنی وسائل خالد الفالح،روس کے وزیر توانائی الیگزینڈر نوواک کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے ہم منصب بولیویا کے وزیر پٹرولیم مینوئل کوویدو فرنینڈیز کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں کہ وہ دوہزار انیس کے دوران اوپیک کانفرنس کے صدر کی ذمہ داریوں سے بااحسن عہدہ برا ہوں۔

 

ترجمہ: تنویرملک

 

http://wam.ae/en/details/1395302731095

WAM/Ahlam Al Mazrooi