بریک بلک مڈل ایسٹ 2019 امارات سعودیہ سٹریٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گی


دبئی،9 جنوری،2019(وام)۔۔دنیا بھر کے صف اول کے صنعتی رہنماوں اور ماہرین کی سالانہ کانفرنس، بریک بلک مڈل ایسٹ،بی بی ایم ای متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان معاشی تعاون کے فروغ کے اہداف کے ساتھ منعقد ہونے جارہی ہے.

 

وزیر برائے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اورچیئرمین فیڈرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی برائے لینڈ ومیری ٹائم ڈاکٹر عبداللہ بلحیف النعیمی کی زیر سرپرستی کانفرنس کا چوتھا ایڈیشن گیارہ سے بارہ فروری کو دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ہوگا۔بریک بلک صنعت بحری شعبے کے لئے اہم پیش رفتوں کی تکمیل میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے. بی بی ایم ای 2019 "متنوع حکمت عملی" کو مضبوط بنانے اور قدرتی وسائل پر انحصار سے زیادہ متنوع اور قابل اعتماد معیشتوں کو مضبوط بنانے میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی مدد کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔ ڈاکٹر علی نعیمی نے کہا "آئندہ ایڈیشن بریک بلک مڈل ایسٹ کو ایک اسٹریٹجک دور میں لے جا رہا ہے جو اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے صنعت کاروں کے لئے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے مقاصد کے مطابق مضبوط تعلقات کے قیام کے لئے امارات اورسعودی عرب یکساں ویژن رکھتے ہیں.

 

فیڈرل اتھارٹی برائے لینڈ اینڈ میری ٹائم کے ڈائریکٹر جنرل احمد الخوری کا کہنا ہے کہ بی بی ایم ای اس حکمت عملی کی توثیق کرے گی جو دونوں ممالک کو اپنے مفادات کو یکجا کرنے اور اپنے عوام کے مفاد میں معاشی تعلقات کی ترقی میں معاون ہیں۔موجودہ دور میں معاشی تعلقات ایک جدید مثالی تعلق اور انفراسٹرکچرکاتقاضا کرتے ہیں۔ معیشت کے فروغ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لئے مختلف شعبوں میں توازن کے حصول کے لئے امارات کا ویژن واضح اور جامع ہے۔اس وجہ سے ہم بریک بلک کی اہمیت کے معترف اور ہماری ترجیح سعودی عرب کے ساتھ میری ٹائم شعبہ میں تعاون کو فروغ دیناہے.

 

کنگ عبداللہ پورٹ کے چیف ایگزیکٹو افسرریان قطب کا کہنا ہے کہ.ایونٹ کے ایجنڈا کا ایک اہم موضوع سعودی عرب میں تنوع اور اس کے ویژن 2030 کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ کانفرنس کے دوران علاقائی انفراسٹرکچر کے منصوبوں اور تیل وگیس سے انحصار کم کرنے کی حکمت عملیوں پر غور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فعال ہونے کے بعد سے کنگ عبداللہ پورٹ نے اہم مرکز کی حیثیت کے حصول کی جانب تیزی سے پیش رفت کی ہے اور سعودی عرب کی علاقائی اور عالمی تجارت میں ایک ناگزیر کردارادا کیا ہے.

 

بحری کے چیف ایگزیکٹو افسر عبداللہ الدبیکی کا کہناتھا کہ سعودی عرب اور امارات جی سی سی کی دواہم ترین معاشی قوتیں ہیں. دونوں ملکوں کامشترکہ جی ڈی پی تقریبا 1.1 ٹریلین امریکی ڈالر ہے جو جی سی سی کی جی ڈی پی کے تقریبا 70 فی صد اور عرب لیگ کے 22 اراکین کی مشترکہ معیشت کے43 فی صد کے برابر ہے۔ دونوں ملکوں نے پائپ لائن معیشت اور مستقبل کے منصوبوں کو فروغ دیا ہے. ہم یقین رکھتے ہیں کہ بریک بلک مشرق وسطی 2019 فیصلہ ساز سازوں اور دیگر صنعتی رہنماوں کو بریک بلک انڈسٹری اور پروجیکٹ کارگو کاروبار میں ابھرتے ہوئے رجحانات کی تلاش میں مدد فراہم کرے گی.

 

بی بی ایم ای کانفرنس اور ایکسپو میں باون سے زائد ممالک کے پراجیکٹ کارگو اور بریک بلک انڈسٹری کے تمام شعبوں سے متعلق افراد شریک ہوں گے.

 

ترجمہ۔تنویرملک.

 

http://wam.ae/en/details/1395302731337

WAM/