عرب ممالک میں ایس ایم ایز کو مزید مالی مدد کی ضرورت ہے،ڈبلیوجی ایس ورکشاپ


دبئی،10فروری، 2019 (وام)۔۔مشرق وسطی میں قائم چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری ادارے(ایس ایم ایز) کل کمپنیوں کا نوے فیصد ہیں تاہم ان میں سے صرف سات فیصد بینک قرضوں کی سہولت سے مستفید ہورہے ہیں۔ضروت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کاروباری کمپنیوں کو قرضہ کی سہولت فراہم کی جائے۔ان خیالات کا ظہار عرب دنیا میں ایس ایم ای ڈویلپمنٹ اور مالی جامعیت کے حوالے سے منعقدہ اعلی سطح ورکشاپ میں کیاگیا، اس ورکشاپ کا انعقاد امارات کی وزارت خزانہ کے زیر اہتمام اورآئی ایم ایف کے تعاون سے ہونے والی ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کی سائڈ لائن پر کیا گیا۔ورکشاپ کا افتتاح وزیر مملکت خزانہ عبید الطایر اور آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹائن لیگارڈنے کیا۔بند کمرہ میں ہونے والے مباحثہ میں عرب ممالک کے وزراخزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز نے ایس ایم ایز کو قرضہ کی سہولت سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا،بحرین،الجیریا مصر اور سوڈان کے نمائندوں نے بھی اظہار خیال کیا۔ورکشاپ میں عرب مانیٹری فنڈ،کینیا کے مرکزی بینک کے گورنر اور کروشین بینک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔متحدہ عرب امارات کی جانب سے الطایر کے علاوہ وزیرمعاشیات سلطان بن سعید المنصوری، یواے ای سینٹرل بینک کے گورنر مبارک راشد المنصوری نے خیالات کا ظہار کیا، وزیر مملکت اور ابوظہبی گلوبل مارکیٹ کے چیئرمین احمد الصایغ بھی ورکشاپ میں شریک ہوئے.

ترجمہ۔تنویرملک.

 

http://wam.ae/en/details/1395302738292

WAM/Ahlam Al Mazrooi