اہل ہونے پر بھی امریکی صدارتی انتخاب نہیں لڑوں گی: ایرینہ ہفٹنگٹن

دبئی، 10 فروری، 2019 وام ۔۔ ہفنگٹن پوسٹ کی شریک بانی اور معروف وکیل ایرینہ ہفنگٹن کا کہنا ہے کہ اگر وہ اہل ہو گئیں تو بھی امریکی صدر کے انتخاب میں حصہ نہیں لیں گی کیونکہ وہ ایک بڑا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں.

 

ہفنگٹن پیدائشی امریکی شہری نہیں ہے کیونکہ وہ یونان میں پیدا ہوئی تھیں لہذا وہ صدارتی انتخاب نہیں لڑ سکتی ہیں.

 

دنیا کے مؤثر ترین ذرائع ابلاغ میں سے ایک ہفنگٹن پوسٹ کو چلانے کے لئے مشہور ہفنگٹن اچھی نیند کے بارے میں شعور پیدا کرنے اور کمپنیوں اور افراد کی دیکھ بھال کے حوالے سے بھی شہرت رکھتی ہیں تاہم اسکے باوجود وہ وہ صدارت میں دلچسپی نہیں رکھتی ہیں.

 

امارات نیوز ایجنسی ، وام سے گفتگو میں انکا کہنا تھا کہ وہ امریکہ پیدا نہیں ہوئیں لیکن اگر وہ امریکہ میں پیدا بھی ہوتیں تب بھی وہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہ لیتیں کیونکہ میں اپنے کام سے محبت کرتی ہیں اور امید کرتی ہیں کہ وہ اس سے زیادہ بڑے کام کرسکتی ہیں.

 

ہفنگٹن نے اگست 2016 میں کارپوریٹ اور صارفین کی فلاح وبہبود کیلئے Thrive Global گلوبل مہم شروع کی تھی .

 

اسمارٹ فون کی بدولت انٹرنٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے اس سوال پر کہ کیا مشرق وسطی ڈیجیٹل جلا کی طرف بڑھ رہا ہے ہفنگٹن نے کہا کہ اس سلسلے میں حدود متعین ہونی چاہئیں ورنہ اس بڑھتے ہوئے نشےمیں ہم کہیں کھو جائیں گے.

 

ہفنگٹن کا کہنا ہے کہ کھیل بدل رہا ہے جب لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے فون سے پیار کرسکتے ہیں، سوشل میڈیا سے پیار کرتے ہیں، کھیلوں سے محبت کرسکتے ہیں لیکن ہمیں حدود کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے آپ ، اپنے پیاروں اور ہر اس چیز سے مل سکیں جو ہماری زندگی میں اہمیت رکھتی ہے.

 

ہارورڈ بزنس ریویو کے حالیہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ میں ایسے افراد کے نفسیاتی اور جسمانی مسائل کے صحت کی دیکھ بھال کے سالانہ اخراجات 125 ارب ڈالر سے بڑھ کر 190 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اسکے پیداواری، ذاتی اور کاروباری حالات پر اثرات اس سے کہیں زیادہ ہیں.

 

اس سوال پر کہ متحدہ عرب امارات کی طرح کے ممالک جدید حکمت عملی اور مصنوعی انٹیلی جنس کے ذریعے کس طرح ترقی کے مستحکم ذرائع پیدا کر سکتے ہیں ہفنگٹن نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا اس سلسلے میں نقطہ نظر متوازن ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کے وزیر کے ساتھ خوشی کے وزیر بھی ہیں۔ انہوں نے کہایہاں صرف وزیر صحت نہیں ہے بلکہ وہ صحت اور روک تھام کے وزیر ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی قیادت کو معلوم ہے کہ ملک کا مستقبل صرف اسی صورت روشن ہو سکتا ہے جب تکنیکی جدت کو فروغ دینے کے ساتھ انسانی جدت کو بھی فروغ دیا جائے.

 

ریاض خان .

 

http://wam.ae/en/details/1395302738366

WAM/Ahlam Al Mazrooi