متحدہ عرب امارات کے بنکوں میںBase III معیار کے نفاذ  کے بعد بھی مالیاتی استحکام برقرار

ابوظبی، 12 مارچ، 2019 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کے بینکوں نے عالمی رضاکارانہ ریگولیٹری فریم ورک Base III معیار کے نفاذ کے بعد 2018کی چوتھی سہ ماہی میں اپنا مالی استحکام برقرار رکھا ہے.

 

متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے مطابق متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے بینک اعلی منافع بخش اور مضبوط مالیاتی پروفائل کے حامل ہیں۔ ان بنکوں میں Capital Adequacy کی شرح، پہلی قسط، پہلی قسط کیلئے Ordinary Share Correspondence باالترتیب 18.2 فیصد، 16.9 فیصد اور 14.9 فیصد رہی۔ یہ اعدادوشمار متحدہ عرب امارات کے مرکزی بنک کی طرف سے مقرر ریگولیٹری ضروریات سے زیادہ ہیں.

 

تمام بنکوں کے ایل ڈی آر کی شرح ستمبر 2018 میں 94.8فیصد سے کم ہوکر 2018 کی چوتھی سہ ماہی کے اختتام تک 94.4 فیصد ہوگئی۔ یہ شرح 2017 کی چوتھی سہ ماہی میں 99فیصد تھی.

 

روایتی اور اسلامی بینکوں میں ایل ڈی آر بالترتیب 94.7 فیصد اور 93.1 فیصد رہی جو پچھلی سہ ماہی سے بالترتیب 4 فیصد اور 5 فیصد کم ہے.

 

یہی شرح قومی بینکوں میں 94.1 فیصد تک پہنچ گئی جو ستمبر 2018 کے مقابلے میں 0.6 فیصد کم ہے۔ متحدہ عرب امارات میں غیر ملکی بینکوں میں یہ شرح 96.7 فیصد رہی جو 2018 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر 95.5 فیصد تھی.

 

Liquid اثاثوں کا تناسب 2018کی تیسری سہ ماہی کے آخر کے16.1 فیصد سے بڑھ کر 2018کی چوتھی سہ ماہی کے اختتام تک 17.4 فیصد ہوگیا.

 

YOY متحدہ عرب امارات کے بینکوں میں مجموعی Liquid اثاثوں کی مالیت 2.4 فی صد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 9.7 ارب درہم ہوگئی .

 

ریاض خان .

 

http://wam.ae/en/details/1395302746873

WAM/