محمد بن زاید،امارات کے حکمرانوں اور عالمی رہنماوں کی سپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت

ابوظہبی، 14مارچ، 2019(وام) ۔۔ ہزاروں افراد کے مجمع نے جن میں پرعزم افراد، سربراہان مملکت، معزز شخصیات،وی آئی پیز، اعلی حکام، شہری،فیملیز اور شائقین سے فل اسٹیڈیم نے اس شاندار لائیو شو کو دیکھا جس نے امارات کے ورثے،سپیشل اولمپکس کی سپرٹ،ابوظہبی سپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز کے مقاصد اور عرب امارات کے ویژن کوایک لڑی میں پرو دیا تھا.

سپیشل اولمپکس کے چیئرمین ٹم شریور نے شیخ محمد بن زاید ،عرب امارات کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے رضاکاروں، خاندانوں،کوچز، سپانسرز،حکام،صحت عامہ،تعلیم اور سپورٹس رہنماوں سمیت کراون پرنس کورٹ۔ابوظہبی، اور مقامی انتظامی کمیٹی کا بھی شکریہ ادا کیا.

ان کا کہناتھا کہ اگرچہ سپیشل اولمپکس کی تاریخ پچاس سال پرانی ہے لیکن اس کی ابھی شروعات ہوئی ہے۔انہوں نے شرکا سے کہاکہ وہ ان کے ساتھ، خاندان،میری ڈیوس، اور سپیشل اولمپکس بورڈ آف ڈائریکٹر کے ساتھ ہم آواز ہوتے ہوئے ان کھیلوں کی بانی،ان کی والدہ آنس کینیڈی شریور کا شکریہ ادا کریں.

سپیشل اولمپکس کے چیئرمین نے کہا کہ کینیڈی شریور آج ابوظہبی میں اس قدر لوگوں کے اجتماع کو دیکھ کر خوش ہوتی لیکن یہ جان کر کہ یہاں موجود ہر شخص ان کھیلوں کا بانی ہے انہیں حقیقی مسرت ہوتی۔ یہاں موجو د آپ سب ان نئے اولمپکس کے بانی ہیں۔ شریور نے کہا کہ ان کھیلوں کی پچاسویں سالگرہ ایک انقلاب سے کم نہیں جس نے انسانی تاریخ میں آزادی کی ایک نئی قسم کومتعارف کرایا ہے.

انہوں نے کہا کہ سپیشل اولمپکس کی تحریک نے ناصرف احساسات اور خیالات کی دنیا کو تبدیل کیا بلکہ انسانوں کو محبت اور التفات کی نگاہوں سے دیکھنے کا ڈھنگ بھی سکھایا ہے، اس نے یکجان کیا ہے ہم کسی کو مسترد کرنے کے لئے پیدا نہیں ہوئے.

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس لئے پیدا نہیں کیا گیا کہ ہم زندگی کو ایک طرف بیٹھ کر گزار دیں بلکہ ہمیں تریبت دینے اور ٹیم کے ساتھ رہنے،مقابلہ کرنے اور جیتنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ ہم انسانیت کو انصاف اور فیصلوں کی زنجیروں سے آزادی دلاکر ایک ایسی راہ دکھاتے ہیں جو دنیا کو متحدہ کرتی ہے۔ صدیوں قبل ، ایک طاقتور ،رحم کرنے والے اور رحمدل خدائے واحد کے لئے وقف،دین اسلام کا یہاں ظہور ہوا۔پھرمقدس الفاظ لکھے گئے تھے: "ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم پر نازل کیا گیا ہے اور ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد کو اور جو موسی اور یسوع کو دیا گیا تھا اور جو کچھ دیا گیا ان کے رب کے نبیوں کو۔ہم ان میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔ شریو نے مجمع سے ان الفاظ پر غور کرنے کو کہا.

شریور نے کہا کہ سپیشل اولمپکس کے ایتھلیٹس یہاں دنیا کو عدم تفریق کا پیغام دینے آئے ہیں۔ یہاں کوئی ہم یا تم نہیں آج ہم یہاں سب ایک ہیں۔ایتھلیٹس سے براہ راست مخاطب ہوتے انہوں نے کہا کہ آپ سے محبت رکھنے والے آپ کو دیکھ رہے ہیں۔اس موقع پر مجھے امارات کے بانی یاد آرہے ہیں جنہوں نے اس ملک کی بنیاد رواداری پر رکھی۔ مجھے آج بھلا دیے گئے بہنوں اور بھائیوں کی یاد آرہی ہیں جنہوں نے اس دن کا خواب دیکھا تھا۔مجھے یقین ہے آج وہ سب یہاں اس لمحہ میں موجود ہیں۔ایتھلیٹس سے انہوں نے کہا کہ جب وہ اپنی پوزیشنز پر ہوں تو انہیں ایک بات یاد رکھنی چاہیئے کہ آزادی جس سے آپ نے دنیا کو بیدا ر کیا،بہادری جس نے تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا اور محبت جس سے آپ زندگی کاگولڈ میڈل پہلے ہی جیت چکے ہیں.

افتتاحی تقریب میں الظفرة ریجن میں حکمران کے نمائندے عزت مآب شیخ حمدان بن زاید آل نھیان، وفاقی قومی کونسل کی سپیکر ڈاکٹر امل القبیسی، العین ریجن میں ابوظہبی کے حکمران کے نمائندے عزت مآب شیخ طحنون بن محمد آل نھیان،عزت مآب شیخ سیف بن محمد آل نھیان،،عزت مآب شیخ سرور بن محمد آل نھیان، ابوظہہبی ایگزیکٹو کونسل کے ڈپٹی چیئرمین عزت مآب شیخ ھزاع بن زاید آل نھیان،زاید بن سلطان آل نھیان خیراتی وامدادی فاونڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین عزت مآب شیخ نھیان بن زاید آل نھیان، نائب وزیر اعظم اور وزیر برائے صدارتی امور عزت مآب شیخ منصور بن زاید آل نھیان، ابوظہبی ولی عہد کی عدالت کے سربراہ عزت مآب شیخ حمد بن زاید آل نھیان،زاید بن سلطان آل نھیان خیراتی وامدادی فاونڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے ڈپٹی چیئرمین عزت مآب شیخ عمر بن زاید آل نھیان،زاید ہائر اورگنائزیشن برائے ہیومینٹیرینزکئر اینڈ سپیشل نیڈز کے بورڈ چیئرمین عزت مآب شیخ خالد بن زاید آل نھیان اور نیشنل اولمپکس کمیٹی کے چیئرمین عزت مآب شیخ احمد بن محمد بن راشد آل مکتوم نے بھی شرکت کی.

دنیائے موسیقی کے عظیم فنکاروں نے ورلڈ گیمز کا باضابطہ ترانہ پیش کیا جن میں گریمی ایوارڈ یافتہ گریگ ویلز، رےیان ٹیڈر،کوئنسے جونز شامل تھے،اس ترانے پر عالمی سپرسٹار ویرل لیوائن ،لوئس فونسے ،اماراتی سنگر حسین الجسمی ،شامی سپرسٹار اصالہ نصری اور مصر ی سٹارتامر حسنی نے پرفارم کیا۔پرعزم افراد نے بھی افتتاحی تقریب میں قائدانہ رول ادا کیا اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اولمپکس کی سپرٹ کو پیش کیا۔اور بتایا کہ پرعزم افراد معاشرے کی مضبوط آواز ہیں جو عظیم رہنما،استاد اور ہر میدان کے چیمپئن ہیں.

وون ورلڈ کے نام سے سینکڑوں بچوں نے پہلے عربی اور بعد میں انگریزی میںشاندار پرفارمنس پیش کی جسے اسٹیڈیم میں موجودہزاروں لوگوں نے دل کھول کر داد دی۔ان سینکڑوں بچوں کی آواز کی گونج میں ہزاروں سپیشل ایتھلیٹس گراونڈ میں داخل ہوئے،مقابلے میں حصہ لینے والے ممالک کے ایتھلیٹس نے گراونڈ میں تالیوں اور پرجوش خیر مقدمی نعروں کی گونج میں پریڈ کی۔سپیشل اولمپکس ورلڈگیمز اور امارات کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک ہزار سے زائد ممتاز شخصیات نے بھی سپیشل ایتھلیٹس کا ساتھ دیا۔اس موقع پر برطانیہ کے شہرہ آفاق ڈی جے پال اوکن فیلڈ نے اپنے میوزک سے اس تقریب کو چار چاند لگادئے۔ ہر ملک کی ٹیم کا نام سٹیڈیم میں لگی بڑی بڑی سکرینوں پر نمایاں کیا گیا،جبکہ اماراتی پرچم کی کشائی کے موقع پر ہر کوئی تعظیم سے کھڑا ہوا تو اماراتیوں اور یہاں مقیم تارکین اور کھیلوں کو کامیاب بنانے والوںکو فخر کا احساس ہوا.

بعد ازاں سپیشل اولمپکس کے چیئرمین نے خطاب کیا۔جس کے بعد یواے ای سپیشل اولمپکس کمیونٹی،ایتھلیٹس اور مقامی انتظامی کمیٹی کی جانب سے اتحاد کا پیغام دیا گیا،شائقین کو اور سٹیڈیم میں موجود افراد کو سپیشل اولمپکس کی بانی کے حوالے سے ایک مختصر دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی.

کھیلوں کے اس عالمی مقابلے کی افتتاحی تقریب کے آخر میں تمام ساتوں براعظموں کے کھلاڑی اور حکام سپیشل اولمپکس کی مشعل، امید کی شمع کے ہمراہ اسٹیڈیم میں داخل ہوئے،مشعل نے گراونڈ کا چکر لگایا جس کے دوران مارات کی ثقافتی دھنیں،نغمے اور رقص پیش کئے گئے ۔افتتاحی تقریب ختم ہونے کے ساتھ ہی سات روزہ کھیلوں کے اس عالمی ایونٹ کا باضابطہ آغاز ہوگیا.

ترجمہ۔فرخ تنویر.

http://wam.ae/en/details/1395302747626

WAM/