متحدہ عرب امارات کے زیراہتمام مسلم کمیونٹی سے مستحکم تعلقات کے لئے بین المذاہب مکالمہ


نیویارک، 4مئی، 2019(وام) ۔۔ اسلامی تنظیم کانفرنس،اوآئی سی، کے رکن ممالک کے گروپ چیئرمین کی حیثیت سے متحدہ عرب امارات نے مسلم کمیونٹی سے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس کے ساتھ ایک مکالمے کی میزبانی کی.

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے مکالمے کا عنوان تھا’مسلم کمیونٹی سے تعلقات میں استحکام:ڈائیلاگ،مفاہمت، برداشت اورقبولیت کا فروغ‘.

بین المذاہب مکالمے کی اسلام میں بحیثیت اہم قدراہمیت کے حوالے سے ہونے والی اس بات چیت کے کلیدی شرکا میں اقوام متحدہ میں ہولی سی کے مستقل مبصر آرچ بشپ برناڈیٹو اوزا،یونیورسٹی چیپلین اورنیویارک یونیورسٹی میں سینٹر فار جیوش سٹوڈنٹ لائف کےایگزیکٹو ڈائریکٹر ربی یہوذا سارانا،اقوام متحدہ میں او آئی سی کے مستقل مبصر اغشین مھدییف شامل تھے.

اقوام متحدہ میں عرب امارات کی مستقل نمائندہ لانا زکی نسیبۃ نے مکالمے کا آغاز کرتے ہوئے حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے عدم رواداری اور تقسیم کے واقعات کے تناظر میں مسلم معاشروں کے اندر اور اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان مفاہمت،رواداری اور قبولیت کے فروغ کی انتہائی ضرورت پر زور دیا.

انہوں نے کہا’’یہ مہلک ہے کہ لوگوں کو ان کی عبادتگاہوں کے اندر نشانہ بنایاجائے یہ ہماری جدید دنیا کے لئے ایک المیہ ہے کہ مقدس مقامات میں معصوم عبادت گزاروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے مسلح سیکیورٹی کی ضرورت ہے.

اجلاس میں عبادتگاہوں کو نشانہ بنانے کے حالیہ واقعات میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے متاثرین کے لئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی.

نسیبۃ نے بین المذاہب مکالمے میں مسلم کمیونٹی کے مرکزی کردارکی اہمیت کو اجاگر کرتے کہاکہ بحیثیت مسلمان ہماری یہ ذمہ داری ہے، ناصرف یہ کہ دنیا کی آبادی کاہم ایک چوتھائی ہیں بلکہ تمام مذاہب کےماننے والوں کو خوش آمدید کہنا اور قبول کرنا اسلام کا بنیادی اصول ہے.

سیکرٹری جنرل گتریس نے عدم رواداری اور نفرت پر مبنی تشدد کے خاتمے کے لئے اپنے اقدامات پر روشنی ڈالی۔جس میں پہلا اقوام متحدہ کے اعلی نمائندہ برائے یو این الائنس آف سولائزیشن کی زیرقیادت مذہبی مقامات کے تحفظ کے پلان آف ایکشن کی تیاری ہے.

دوسرا قدم نفرت انگیز تقاریر سے نمٹنے کے لئے یواین سسٹم کے ریسپانس کو بہتر بنانے کے لئے پلان آف ایکشن کی تیاری کا ہے جس کی سربراہی سیکرٹری جنرل کے انسداد نسل کشی کے خصوصی مشیر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں ہمیں غربت اور عدم مساوات جیسی اس مسئلے کی اصل وجوہات پر قابو پانا ہوگا۔انہوں نے رواں سال ہونے والے ابوظہبی ڈیکلیریشن کے مساوات،نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کے فروغ کے نکات جن پر اوآئی سی نے زور دیا کا خیر مقدم کیا.

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آرچ بشپ اوزا نے خصوصاً مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان بین المذاہب مکالمے کے فروغ کے مختلف پہلووں پر زور دیا۔انہوں نے ابوظہبی میں فروری میں دستخط کردہ عالمی امن اور مل جل کر رہنے کے انسانی بھائی چارے کے مشترکہ اعلامیہ کے حوالے سے کہا کہ پوپ فرانسس اور جامعہ الازہر کے امام اکبر کا پختہ یقین ہے کہ خدا کے نام کو ایک دوسرے کے قتل کرنے،جلاوطن کرنے،دہشت گردی اورجبر کو جائز ٹھہرانے کے لئے کبھی بھی استعمال نہیں ہونا چاہیئے.

ربی سارانا نے نوجوانوں کو بین المذاہب نئے چیلینجزکی تعلیم کے حوالے سے بطورایک مذہبی رہنما کے اپنے تجربات بیان کرتے کہاکہ ہمارے طالب علموں کا تعلق سکڑتی ہوئی دنیا سے ہے جہاں ان کا واسطہ زیادہ سے زیادہ ثقافتوں سے ہے۔لہذا ابھرتے ہوئے مذہبی رہنماوں کی تربیت میں مجھے امید ہے کہ رواداری ان کے پیشے کا ایک لازمی حصہ بن جائے گی.

مھدییف نے معاشروں میں رواداری اور مفاہمت کے فروغ کے لئے اوآئی سی کے کردار کو بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ دوبڑی بین الحکومتی تنظیمیں ہونے کے ناطے او آئی سی اور یواین میں قریبی تعاون کی ضرورت ہے،مشترکہ چیلنجز خصوصاً مشرق وسطی کے تنازعات کے حل کے لئے ایک ساتھ چلتے ہوئے دونوں تنظیموں کے وسائل کو ایک ساتھ استعمال کیا جانا چاہیئے.

ترجمہ۔تنویرملک.

http://wam.ae/en/details/1395302760374

WAM/Ahlam Al Mazrooi