متحدہ عرب امارات نےمصنوعی ذہانت میں 2.15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی


دبئی،11 جون، 2019 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات گزشتہ 10 سال کے دوران مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مجموعی طور پر 2.15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ خطے کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے.

مائیکروسافٹ کی مشرق وسطی اور افریقہ کے بارے میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایک نئی سٹڈی کے مطابق اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور ٹرانزیکشنز پر خرچ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے بعد سمارٹ موبائل،گیمیفیکشن اور مشین لرننگ سمیت دیگر آٹھ ٹیکنالوجیوں پر قابل ذکر رقم خرچ کی گئی.

سٹڈی میں جواب دہندگان نے مشین لرننگ کو سب سے زیادہ مفید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے طور پر نمبر دیئے ہیں.

نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے کاروباری اداروں میں اگلے تین سال کے دوران مصنوعی ذہانت کے استعمال میں ڈرامائی طور پر بہتری کی توقع ہے۔ متحدہ عرب امارات میں خاص طور پر ایگزیکٹوز کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اپنے ڈیجیٹل ایجنڈوں کو چلانے کے لئے مصنوعی ذہانت کا استعمال فروغ پا رہا ہے.

متحد ہ عرب امارات میں 18 فیصد کاروباری اداروںمیں مصنوعی ذہانت انکی اہم ڈیجیٹل ترجیح ہے۔ متحدہ عرب امارات کی ترقی کیلئے مصنوعی ذہانت کے فروغ کی وجہ ملک بھر کے اداروں کے سربراہوں کی طرف سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کو ترجیح دینا ہے.

مائیکروسافٹ گلف کے ریجنل جنرل منیجر سید حشیش نے کہا کہ جب ہم کمپنیوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی جانچ پڑتال کرتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو خود ان کمپنیوں کے سی ای اوز چلاتے ہیں۔ انھوں نے کہ اکہ اعلی سطح پر اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے.

رپورٹ میں اس بات کا تعین کیا گیا ہے کہ مختلف کاروباری اداروں میں مصنوعی ذہانت کیوں، کہاں اور کیسے استعمال ہورہی ہے۔ یہ سٹڈی مشرقی وسطی اور افریقہ بھر میں 101 کمپنیوں کے سروے اور انٹریوز پر مشتمل ہے۔ یہ سٹڈی صحت، مینوفیکچرنگ اور وسائل، مالیاتی خدمات، پیشہ ورانہ خدمات، آئی سی ٹی اور میڈیا، انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ سمیت سات اہم شعبوں پر مشتمل ہے.

ترجمہ: ریاض خان .

http://wam.ae/en/details/1395302767266

WAM/Urdu