رواداری بلیٹن:متحدہ عرب امارات نے رواداری کے عالمی مرکز اور دارالخلافہ کے طور پر اپنی حیثیت کو مزید مضبوط کرلیا


ابوظہبی، یکم جولائی، 2019 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہونے والے اقدامات اور ایونٹس نے اس کی بحیثیت رواداری کے ایک عالمی مرکز اور دارالخلافہ کے پوزیشن کو مضبوط کیا ہے.

خطے میں کشیدگی میں اضافہ کے باوجود عرب امارات کے سفارتی پیغام اور بین الاقوامی موقف سے روداری کو فروغ حاصل ہوا ہے.

اس رپورٹ میں، امارات خبر ایجنسی، وام ،سال رواداری کے پہلے چھ ماہ کے دوران متحدہ عرب امارات کی کوششوں نمایاں کرے گا.

رواداری سے دہشت گردی کا مقابلہ: کیتھولک چرچ کے سربراہ تقدس مآب پوپ فرانسس اور الازہر الشریف کے امام اکبر فضیلت مآب ڈاکٹر احمد الطیب کے درمیان رواں سال فروری میں عرب امارات میں ہونے والی ملاقات اور دنیا بھر سے بارہ مذاہب کے نمائندوں اور سات سو دانشوروں کے اجتماع کا مقصد گزشتہ دو عشروں کے دوران عالمی بحرانوں کا باعث بننے والے تنازعات کا خاتمہ تھا.

اس تاریخی ملاقات کے بعد جاری ہونے والی’ انسانی بھائی چارے کی دستاویز‘ کا مقصد مزاکراے،مفاہمت، رواداری اور قبولیت کو فروغ دیتے ہوئے نفرت اور مذہبی کشیدگیوں کا خاتمہ کرنا ہے.

متحدہ عرب امارات مذہبی آزادیوں کے فروغ اور ثقافتی تنوع کوتحفظ دینے کا بھی خواہاں ہے۔اس لئے ابوظہبی کے محکمہ کمیونٹی ڈویلپمنٹ نے عبادتگاہوں کے قیام اور لائسنسنگ کے لئے لیگل فریم ورک اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جو مذاہب کی آزادی کے تحفظ کے قانونی سسٹم کی تشکیل کے لئے عرب امارات کی خواہش کی تصدیق کرتا ہے.

رواداری کی رفتار کو تیز کرنے والے منصوبے: متحدہ عرب امارات نے رواداری کواقدامات میں تبدیل کرکے اس کے معنوںکو تبدیل کیا ہے اور واضح حکمت عملی اور طریقہ کار کے تحت منصوبوں پر عملدرآمد کیا جو ملک کی سفارتی کوششوں اور تعلیم،کھیل،چیرٹی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی اقدامات کے شعبوں میں اس کے اٹھائے گئے رواداری اقدامات سے عیاں ہے.

روادار کمیونٹی: گزشتہ چھ ماہ کے دوران، متحدہ عرب امارات کے خیراتی وامدادی اقدامات نے خیراتی کاموں کے فروغ اور پورے معاشرہ کی ان کاموں میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کے لئے ایک ولولہ انگیز پیغام کے طور پرکام کیا ہے.

’امید کاکنواں‘ مقابلے اور’ روہنگیا بچوں اور خواتین کے لئے متحدہ عرب امارات کی مہم‘ او اس جیسی دوسری سرگرمیوں میں کمیونٹی اور میڈیا کے انٹرایکشن کا دیکھاجانا،عرب امارات کے رواداری اور خیراتی روایات کا عکاس ہے.

پرعزم لوگوں کی حمایت: متحدہ عرب امارات نے مارچ دوہزار انیس میں سپیشل اولمپکس میں ایک سونوے سے زائد ممالک کے ساڑھے سات ہزار ایتھلیٹس کی میزبانی کرکے پرعزم لوگوں(معزور افراد) کی حمایت کے ذریعے دنیا کو ایک متاثر کن پیغام بھیجا.

ابوظہبی کے ولی عہداورمتحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر عزت مآب شیخ محمد بن زاید آل نھیان نے کہا کہ" عرب امارات کی جانب سے سپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز کا کامیابی سے انعقاد، پرعزم لوگوں کو بااختیار بنانے اور ان کے قومی کردار کو فروغ دینے کے لئے عرب امارات کی کوششوں کا نقطہ عروج تھا".

ترجمہ۔تنویر ملک.

http://wam.ae/en/details/1395302771387

WAM/Urdu