جدید تقاضوں کے مطابق نظام تعلیم اختیار کرنا ناگزیرہے، وزیر تعلیم


یکاترنبرگ، روس، 11جولائی، 2019 (وام) ۔۔ صحیح انسانی سرمایہ کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا،اور تعلیم کسی بھی معاشرے کے لئے آگے بڑھنے کا بنیادی ستون ہے ان خیالات کا اظہار متحدہ عرب امارات کے وزیر تعلیم حسین بن ابراھیم الحمادی نے گلوبل مینوفیکچرنگ اینڈ انڈسٹرلائزیشن سربراہ کانفرنس،جی ایم آئی ایس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

 

متحدہ عرب امارات اور اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کے ادارے کا مشترکہ اقدام جی ایم آئی ایس روس کے شہر یکاترنبرگ میں نوجولائی سے گیارہ جولائی تک منعقد ہوا.

 

عرب امارات کے وزیر نے کہا کہ چوتھے صنعتی انقلاب کے باعث تبدیلیوں کی لہر اس قدر تیز ہے کہ مستقبل کی مہارت حاصل کرنا لازمی ہے اور یہ کہ ممالک کو اپنی تعلیمی پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کرنے اور اس کے لئے وسائل مختص کرنے کی ضرورت ہے.

 

انہوں نے مزید کہا کہ ممالک کے لئے ضروری ہے کہ وہ ذہن کو کھلا رکھیں اور تبدیلی کی رفتار سے خوفزدہ ہونے کی بجائے ان تبدیلیون کو اپنائیں اور تیزی کے ساتھ پیش رفت کریں.

 

الحمادی نے واضح کیا کہ عرب امارات نے اپنے تعلیمی طرزعمل کو ملک کی مستقبل کی ضروریات سے عہدہ برا ہونے کے لئے دوہزار چودہ سے تبدیل کرنا شروع کیا اور کے ۔12 نظام کو اختیار کرنے کے ساتھ ڈیزائن اور ٹیکنالوجی جیسے مضامین نصاب میں شامل کئے.

 

انہوں نے کہا کہ جدید معاشرہ زندگی بھر تعلیم کا تقاضا کرتا ہے جس کے لئے اعلی تعلیمی نظام کو اختیار کرنا لازم ہے۔ تاکہ لوگ جلدی سے خود کو جدید مہارتوں سے لیس کرتے رہیں۔ وزیر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں رہنے والے ہر فرد کو مستقبل کے لئے ایک اثاثہ سمجھا گیا اور ملک کے متنوع تعلیمی نظام کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا کہ ہر طالب علم کو اس کے ٹیلنٹ کے مطابق اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا مکمل موقع فراہم ہو.

 

انہوں نے کہا کہ کم مہارت والے کام آہستہ آہستہ ختم ہوجائیں گے کیونکہ ٹیکنالوجی روٹین اور مسلسل دہرائے جانے والے کاموں کو منظر سے ہٹا دیتی ہے اور یہ تعلیم کی ضروت کو کہیں زیادہ لازمی بنادیتا ہے.

 

الحمادی نے مزید کہاکہ تعلیمی نصاب کو آج کے جدید دور سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور صنعت اور معیشت کی ضروریات کے مطابق اس پر سالانہ نظر ثانی کی ضرورت ہے۔۔" دس پندرہ سال پہلے کے لئے مناسب کلاسیکل تعلیمی نظام آئندہ کے دس پندرہ سالوں کے لئے کسی ملک کو تیار نہیں کرسکتا".

ترجمہ۔ تنویر ملک.

 

http://wam.ae/en/details/1395302773504

WAM/Urdu