متحدہ عرب امارات مسلح تنازعات میں بچوں کی حفاظت کیلئے پرعزم ہے


نیویارک،3 اگست،2019 (وام) ۔۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بچوں اور مسلح تصادم کے بارے میں سالانہ مباحثے کے دوران متحدہ عرب امارات نے عرب اتحاد کی طرف سے یمن میں جائز حکومت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے.

 

اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی نائب مستقل نمائندہ عمیرا الہفیطی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتحاد یمن میں بچوں کے تحفظ کے لئے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ یہ قریبی تعاون اس سال مارچ میں اسوقت مزید مضبوط ہوا جب اتحاد نے بچوں اور مسلح تصادم سے متعلق اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کے دفتر کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے.

 

الہفیطی نے یمن میں حوثیوں کی طرف سے بچوں، اسکولوں اور تعلیمی مراکز کے استحصال اور تعلیمی عمارتوں کی تباہی خاص طور پر حوثی ملیشیا کی طرف سے اسکولوں میں اسلحہ رکھنے اور بچوں کی بھرتی ، تربیت اور نظربندی کے مراکز کے طور پر استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور وہ کونسل سے مطالبہ کرتی ہیں کہ حوثیوں کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے.

 

الہفیطی نے کہا متحدہ عرب امارات بچوں کی تکالیف کے خاتمے کے لئے انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے گذشتہ چار سالوں میں یمن کو بچوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے 5 ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد فرہم کی ہے۔ اس میں سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ طور پر ورلڈ فوڈ پروگرام کے ذریعے 240 ملین ڈالر کی مالی امداد کی فراہمی بھی شامل ہے.

 

الہفیطی نے کہا کہ بالآخر یمن کے بچوں کی حفاظت کا بہترین طریقہ امن اور استحکام ہے۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات اسٹاک ہوم معاہدے اور اقوام متحدہ کی زیرقیادت سیاسی عمل کے مکمل نفاذ کی حمایت کرتا ہے.

 

ترجمہ: ریاض خان .

 

http://www.wam.ae/en/details/1395302778415

WAM/Urdu