سعودی شاہ اور محمد بن زاید کا علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

  • خادم الحرمين ومحمد بن زايد يبحثان تعزيز العلاقات الأخوية الراسخة وعددا من القضايا الإقليمية والدولية
  • خادم الحرمين ومحمد بن زايد يبحثان تعزيز العلاقات الأخوية الراسخة وعددا من القضايا الإقليمية والدولية
  • خادم الحرمين ومحمد بن زايد يبحثان تعزيز العلاقات الأخوية الراسخة وعددا من القضايا الإقليمية والدولية

مکہ، 12 اگست، 2019 (وام) ۔۔ ابو ظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نھیان نے مکہ مکرمہ میں خادم حرمین شریفین اور سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود سے ملاقات کی.

 

سعودی عرب کے ولی عہد، نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز اور متحدہ عرب امارات کی قومی سلامتی کے مشیر شیخ طاہنون بن زاید آل نھیان بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات میں شاہ سلمان اور شیخ محمد بن زاید نے ایک دوسرے کو عید الاضحی کی مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا تبادلہ کیا.

 

شیخ محمد بن زاید نے سعودی شاہ کو ابوظبی کے صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید آل نھیان کی طرف سے بھی عید کی مبارکباد پیش کی.

 

خادم حرمین شریفین نے شیخ محمد بن زاید کے سعودی عرب کے دورے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس سے دونوں برادر ممالک کے مابین مضبوط تعلقات مزید مستحکم ہونگے.

 

ملاقات میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال اور موجودہ علاقائی چیلنجوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا.

 

شیخ محمد نے کہا کہ سعودی عرب علاقائی سلامتی اور استحکام کا کلیدی ستون ہے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط ہیں اور آئندہ بھی مستحکم رہیں گے کیونکہ یہ مضبوط بنیادوں، مشترکہ اقدار، پالیسیوں اور ایسے مفادات پر مبنی ہیں جو دونوں ممالک کے لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں ۔ شیخ محمد نے کہا کہ دونوں ملک مل کر خطے کے امن اور سلامتی کیلئے خطرہ بننے والی طاقتوں کا مقابلہ کریں گے اور ترقی اور خوشحالی کے حصول کے لئے اپنے عوام کے حقوق کا دفاع کریں گے.

 

ابوظبی کے ولی عہد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب متنازعہ یمنی فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یمن اور اس کے عوام کے لئے بات چیت کو ترجیح دیں ۔ انھوں نے یمنی جماعتوں کو مذاکرات کیلئے عدن میں مدعو کرنے پر سعودی قیادت کی طرف سے دکھائی جانے والی دانشمندی کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ اقدام یمن کے استحکام کے لئے مشترکہ تشویش کی علامت اور تناؤ کو ختم کرنے اور یمن کے عوام میں یکجہتی کے حصول کے لئے ایک اہم فریم ورک کی نمائندگی کرتا ہے.

 

شیخ محمد نے کہا کہ مذاکرات ہی یمنیوں کے مابین اختلافات کو حل کرنے کا واحد راستہ ہیں ۔ انھوں نے یمنی فریقین پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر مذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوشش کریں جو یمن اور اس کے عوام کے مفاد میں ہو.

 

ترجمہ: ریاض خان .

 

http://www.wam.ae/en/details/1395302779951

WAM/Urdu