مانچسٹر سٹی گیارہ سالہ عروج کے سفر پر گامزن


ابوظبی،2 ستمبر، 2019 (وام) ۔۔ مانچسٹر سٹی ایف سی نے 2 ستمبر 2008 میں ابوظبی یونائیٹڈ گروپ فار ڈویلپمنٹ اینڈ انویسٹمنٹ کے زیر انتظام آنے کے بعد سے کئی دہائیوں کی اپنی کمزور کارکردگی کو شاندار کامیابی میں تبدیل کرکے انگلش فٹ بال کے پورے منظرنامے کو تبدیل کردیا ہے.

 

نائب وزیر اعظم اور صدارتی امور کے وزیر شیخ منصور بن زاید آل نھیان کی سرپرستی میں کلب کی مارکیٹ ویلیو صرف 11 سال میں 200 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسکے ساتھ سیزن کی ٹکٹوں کی فروخت میں سال بہ سال مستقل طور پر اضافہ ہورہا ہے.

 

The Citizensنے گذشتہ ایک دہائی میں کسی بھی دوسرے کلب کے مقابلے میں سب سے زیادہ بار لیگ چیمپئن شپ/ پریمیر لیگ کا ٹائٹل جیتا ہے۔ اس طرح یہ Stellar Quartet کا آخری سیزن جیتنے والا واحد انگلش کلب بن گیا ہے.

 

موجودہ منیجر گارڈیوولا کے تحت مانچسٹر سٹی نے پریمیر لیگ کی تاریخ کے سب سے زیادہ پوائنٹس کے ساتھ 2017-18کے پریمیئر لیگ کا ٹائٹل جیتا اور متعدد دوسرے کلبوں اور انگلش لیگ کے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ گزشتہ گیارہ برسوں میں مانچسٹر سٹی نے ایسی ٹرافیاں بھی جیتیں جو کلب اپنی پوری تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں جیت سکا تھا۔ کلب 1880 سے 2008 تک صرف 12 چیمپین شپ جیت سکا ہے جبکہ گزشتہ صرف 11 سالوں میں کلب نے مجموعی طور پر 13 ٹائٹل جیتے جن میں 2019 میں چار شامل ہیں.

 

جب سے ابوظبی یونائیٹڈ گروپ برائے ترقی و سرمایہ کاری نے کلب کا انتظام سنبھالا ہے اس کا مقصد یہ رہا ہے کہ اسے بارسلونا ایف سی کی سطح پر لایا جائے ۔ اس مقصد کیلئے عالمی سطح کے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا گیا اور بہترین کوچز کی خدمات حاصل کی گئیں اس سلسلے میں بڑی رقم خرچ کی گئی.

 

ابو ظبی انتظامیہ کے تحت ٹیم کے اسٹیڈیم کو بڑھا کر 55000 شائقین تک توسیع دی گئی ہے۔ خراب نتائج کے سبب منیجر Mark Hughesکو2009 میں ہٹا کر 2013 میں Roberto Mancini کی خدمات حاصل کی گئیں.

 

موجودہ ہسپانوی منیجر Pep Guardiola کے تحت Citizensکا ہدف اب بارسلونا ایف سی کو پیچھے چھوڑ کر آنے والے عشرے میں دنیا کا سب سے بہترین فٹ بال کلب بننا ہے.

 

مانچسٹر سٹی کے فیس بک پیجز پر 41 ملین فالورز ہیں جبکہ ٹویٹر اکاؤنٹ میں نو ملین فالوورز ہیں۔ عربی، انگریزی، فرانسیسی، چینی اور ہسپانوی شائقین لاکھوں کی تعداد میں کلب کی کثیرالغت ویب سائٹ کو فالو کررہے ہیں.

 

امارات نیوز ایجنسی، وام کو معلوم ہوا ہے کہ مالی لحاظ سے بھی 2007 میں کلب کی آمدنی 28 ملین ڈالر سے بڑھ کر 600 ملین ڈالر ہوگئی ہے۔ اس طرح کلب نے بارسلونا ، ریئل میڈرڈ، مانچسٹر یونائیٹڈ اور بایرن میونخ جیسے دنیا کے بڑے کلبوں میں نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے.

 

ترجمہ: ریاض خان .

 

http://wam.ae/en/details/1395302783428

WAM/Urdu