وام فیچر: رواداری کی اقدار کا امارات بھر کی عوامی تقریبات میں فروغ


ابوظہبی ،4 ستمبر ، 2019 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے بین الثقافتی اور مذہبی رابطوں کے ساتھ مذاکرے اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کی بھرپور کوششوں کے سلسلے میں عرب امارات بھر میں گزشتہ ماہ کے دوران عوامی سطح اور بڑی تقریبات میں روداری کی اقدار کو بھرپور اہمیت حاصل رہی .

 

قید میں موجود افراد کے اہلخانہ کو خوشی دینے کیلئے متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید النھیان نے عیدالاضحی کے موقع پر مختلف قومیتوں کے 669 قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ۔ شیخ خلیفہ نے ان قیدیوں کی مالی ذمہ داریوں کو بھی طے کرنے کی یقین دہانی کرائی – یہ نوبل اقدام صدر کے اس عزم کا آئینہ دار ہے جس میں وہ ایسے افراد کو اپنے اہلخانہ کے مسائل دور کرکے زندگی کو نئے سرے سے جینے کا موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں ۔ صدر کے اس اقدام کی پیروی میں عزت مآب سپریم کونسل کے ارکان اور امارات کے حکمرانوں نے قیدیوں کی سزا معافی کے ایسے ہی اقدام کیئے – عالمی سطح پر روداری اقدار کی خاطر لبنان میں متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے نے زاید بن سلطان النھیان چییریٹی اینڈ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن ، محمد بن راشد المکتوم ہیومینیٹرین چیریٹی اسٹیبلشمنٹ ، امارات ہلال احمر ، شارجہ چیریٹی انٹرنیشنل اور ہیومن اپیل انٹرنیشنل جیسے اماراتی فلاحی اداروں کی طرف سے قربانی کے گوشت اور عید ملبوسات کی تقسیم کرائی ۔ اس سے وہاں 24 ہزار شامی ، فلسطینی اور لبنانی پناہ گزینوں کو فائدہ ملا گزشتہ فروری میں کیتھولک چرچ کے پوپ فرانسس اور جامعہ الازھر کے امام اعظم ڈاکٹر احمد الطیب کی طرف سے جاری کردہ " انسانی بھلائی کے دستاویز " پر عملدرآمد کیلئے ابوظہبی میں قائم اعلی کمیٹی کا قیام بھی سال رواداری کی مناسبت سے ایک اور سنگ میل رہا ۔ اس کمیٹی میں مذہبی شخصیات ، دانشور اور میڈیا کے نمائیندے شامل ہیں – ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النھیان کا کہنا ہے کہ ترقی کے اقدامات کے ویژن اور فروغ برداشت ، تعاون ، بقائے باہمی کے خیالات پر عملدرآمد کیلئے اس کمیٹی کا قیام اہمیت کا حامل ہے ۔ انکا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات فروغ امن کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور بھائی چارے ، پرامن بقائے باہمی کو دنیا بھر میں فروغ دلانے کا حامی ہے – اس کمیٹی کو " عالمی امن و مل کر جینے کیلئے انسانی بھلائی کے دستاویز " پر عملدرآمد کا فریم ورک بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ ان مقاصد کو حقیقت بنایا جاسکے ۔ یہ کمیٹی اس دستاویز کے عالمی اور علاقائی سطح کے انتہائی ضروری منصوبوں پر عملدرآمد کی تیاری کرے گی ، مذہبی قائدین ، عالمی اداروں کے سربراہان اور دیگر سے ملاقاتیں کرے گی اور اس تاریخی دستاویز کی بنیادی روح اور فلسفہ کو اجاگر کرے گی – یہ اعلی کمیٹی ، قانون ساز حکام کو بھی اس دستاویز کی سفارشات اور نکات کی پیروی کرنے کیلئے آمادہ کرے گی تاکہ باہمی احترام ، بقائے باہمی کی اقدار پر عملدرآمد کیا جاسکے ۔ یہ کمیٹی ابریھیمیۃ فیملی ہاؤس کو سپروائز کرے گی ، کمیٹی میں باہمی اتفاق سے نئے ارکان کا بھی شامل کیا جاسکے گا – انسانی بھلائی کی دستاویز ۔ابوظہبی اعلامیہ ۔جو فروری میں جاری کیا گیا ۔انسانیت کو متحد کرنے اور عالمی امن کے لئے کام کرنے کی کوششوں کا مشترکہ اعلامیہ تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ آئندہ نسلیں باہمی احترام اور صحت مند بقائے باہمی کے ماحول میں رہ سکیں۔ اس دستاویز پر پوپ فرانسس کے عرب امارات کے تاریخی دورے کے دوران دستخط ہوئے تھے.

 

انسانی بھلائی کی دستاویز متحدہ عرب امارات کے بین المذاہب مکالمے اور تمام مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں میں رواداری اور پرامن بقائے باہمی کی مشترکہ اقدار کو فروغ دینے کے عزم کا ثبوت ہے.

 

مثبت رد عمل کے ساتھ اس اعلان کوبین الاقوامی مذہبی رہنماوں کی جانب سے سراہا گیا۔ پوپ فرانسس نے انسانی بھائی چارے کو فروغ دینے کے لئے نئی کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کیا اوراس دستاویز میں شامل نظریات کو فروغ دینے کے لئے عرب امارات کے لئے تشکر کااظہار کیا .

 

پوپ نے کمیٹی کے کام کی حوصلہ افزائی کی اور متحدہ عرب امارات کے "انسانی بھائی چارے کے حوالے سے دکھائے جانے والے اس ٹھوس عزم کے لئے"شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کی اس طرح کے اقدامات دنیا کے دیگر حصوں میں بھی فروغ پاسکتے ہیں.

 

الازہر کے امام اعظم اور مسلم علما کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر شیخ احمد الطیب نے "انسانی بھلائی کی دستاویز "کے مقاصد پر عمل درآمد کے لئے کمیٹی کے قیام کو سراہا.

 

امام اعظم نے جمعرات کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ کمیٹی کی تشکیل "انسانی بھلائی کی دستاویز کے مقاصد کے حصول کی جانب ایک سنجیدہ قدم ہے ، جوشہریت ، بقائے باہمی اوربھائی چارے کے کلچر کے قیام کی جانب اس جدید دور میں اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے.

 

ڈاکٹر الطیب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دنیا بھر میں یکجہتی ، اتحاد ، بقائے باہمی ، بھائی چارے اور رواداری کاحصول اس کمیٹی کے قیام کا ایک اہم مقصد ہے.

 

امام اعظم نے کہا کہ "ا س دستاویز کے اصولوں کی ترویج اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے پوری دنیا میں سلامتی اور استحکام کاحصول ایک طویل سفرہے۔"

زاید ہائر اورگنائزیشن برائے پرعزم افراد اور مسلم علما کونسل ملکر پرعزم افراد میں اس دستاویز بارے شعور پیدا کریں گی، نابینا افراد کے لئے اس دستاویز کاعربی اور انگریزی بریل میں ترجمہ کیا جائے گااوراور ڈیف ایسوسی ایشن عرب امارات کے تعاون سے اس کو اشاروں کی زبان میں تبدیل کیا جائے گا.

 

زاید ہائر اورگنائزیشن برائے پرعزم افراد اس دستاویز کو عربی اور انگریزی بریل میں ترجمہ کرنے اور اس دستاویز کے مشن کی اشاعت کے لئے ایک سو کاپیوں کی اشاعت کی خواہاں ہے.

 

اٹھائیس اگست کو متحدہ عرب امارات میں'' خواتین رواداری کی شبیہیں ہیں '' کے مرکزی خیال کے تحت اماراتی خواتین کا دن منایا گیا.

 

جنرل ویمن یونین ، جی ڈبلیو یو کی چیئر وومین ، سپریم کونسل برائے زچہ بچہ کی صدر اور فیملی ڈویلپمنٹ فاونڈیشن ، ایف ڈی ایف کی سپریم چیئر وومین عزت مآب شیخہ فاطمہ بنت مبارک کی ہدایت کے تحت خاندانوں اور کمیونٹی میں روادری کی اقدار کو فروغ دینے میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے اور ان کی کوششوں کے اعتراف کے لئے متعدد تقریبات کا انعقاد کیا گیا.

 

انیس اگست کو عالمی یوم انسانیت منانے کے لئے ، متحدہ عرب امارات کی واٹر ایڈ فاونڈیشن ، سقیہ نے محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشییٹوز ایم بی آر جی آئی کے تحت ، اعلان کیا ہے کہ دوہزار اٹھارہ کے آخر تک ، سقیہ کے منصوبوں سے چونتیس ممالک میں نوے لاکھ افراد مستفید ہوئے.

 

متحدہ عرب امارات دنیا بھر میں انسان دوستی کے حوالے سے بڑے عطیہ دہندگان میں سے ایک ہے۔ کم خوش قسمت لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانا عرب امارات کی غیر ملکی امداد ی پالیسی کا ایک اہم مقصد ہے.

 

سقیہ متعلقہ مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے پانی کی قلت اور آلودگی سے دوچار برادریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہے.

 

وزارت کمیونٹی ڈویلپمنٹ ، ایم او سی ڈی کے مطابق دوہزار اٹھارہ کے آخر تک ، دو سو تئیس انجمنیں ، غیر منافع بخش تنظیمیں ، این جی اوز اور سماجی تکافل فنڈز وزارت کی زیر نگرانی اور زیر انتظام کام کررہے تھے.

 

اس فہرست میں شامل ایک سو پچاسی انجمنیں،سترہ تکافل فنڈز اور اکیس این جی اوز وزارت کے ڈیٹا بیس میں رجسٹرڈ ہیں.

 

وزارت کا کہنا ہے کہ عرب امارات میں سول سوسائٹی کی تنظیمیں معاشرے کی ترقی اور جدت میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں – عزت مآب شیخ محمد بن زاید النھیان کی سرپرستی میں اقدار عالمی سربراہ کانفرنس کا انعقاد ماسکو ، روس میں 29 اگست سے 1 ستمبر تک ہورہا ہے اور اسکا موضوع " سماجوں کی عالمی بااختیاری ، تجربات اور اسباق " رکھا گیا ہے – اس تیسری سربراہ کانفرنس میں سماجی بااختیاری کے موجودہ موضوعات جن میں انسان سے ذہانت اور ثقافتی تنوع شامل ہیں پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ تمام اقوام کو مستحکم اور محفوظ مستقبل حاصل ہو ۔ یہ چار روزہ کانفرنس مختلف ایونٹس کی حامل ہے جس میں مرکزی کانفرنس ، عالمی نمائش ، ورکشاپس اور مختلف پینل مباحثے شامل ہیں – اقدار عالمی سربراہ کانفرنس جو کہ ماسکو گلوبل فورم کے ساتھ ساتھ منعقد ہورہی ہے ، میں عرب امارات کی 8 وزارتوں کی 12 اعلی شخصیات نمایاں انداز میں شریک ہیں ۔ اس کے نمایاں خطاب کرنے والوں نے تعلیم ، ثقافت ، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں انسانی بااختیاری پر اظہار خیال کیا ۔ اس کے تین بنیاد موضوعات میں اماراتی نوجوان کو بااختیار بنانے کیلئے تعلیمی و قومی خدمات ، سماج و نوجوان کو بااختیار بنانے کے سٹریٹجک ستون کیلئے تیکنیکی ، ذہانت اور خوراک کی سکیورٹی اور معاشرے کی بھلائی کو بہتر و بااختیار بنانے میں مستقبل کے منصوبوں میں ایڈوانسڈ سائنسز کا کردار شامل ہیں – ترجمہ۔تنویر ملک.

 

http://wam.ae/en/details/1395302783856

WAM/Urdu