عالمی توانائی کانگریس 2019ابوظہبی میں شروع ہوگئی


ابوظہبی، 9 ستمبر ، 2019 ( وام ) ۔۔ 24 ویں عالمی توانائی کانگریس ، ڈبلیو ای سی، ابو ظہبی میں شروع ہوگئی ،جس میں 150 ممالک سے وزرا ، سی ای اوز ، پالیسی ساز اور صنعت کارتوانائی کے نئے مستقبل،ناگزیرجدت کے شعبوں اورنئی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کریں گے .

" توانائی برائےخوشحالی " کے عنوان کے تحت ہونے والی انرجی کانگریس چار روزہ انٹرایکٹو پروگرام کے ذریعے مندوبین کی رہنمائی کرے گی جو عالمی توانائی کی صنعت کو درپیش انتہائی سنجیدہ مسائل کو حل کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے.

ابوظہبی قومی نمائش سینٹر میں نو سے بارہ ستمبر تک جاری رہنے والا یہ ایونٹ انرجی کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہے جس میں شرکا کو توانائی شعبہ کو درپیش مسائل کوبہتر طور پر سمجھنے کا ایک منفرد موقع میسرآئے گا.

اپنے افتتاحی کلمات میں ورلڈ انرجی کونسل کے چیئرمین ینگون ڈیوڈ کم نے کہا کہ امارات کا دارالحکومت "پائیدار توانائی کے مستقبل کامحاذ بن گیا ہے۔"

انہوں نے پائیدار توانائی کے مقاصد کے حصول کے لئے باکس پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کے لئے "ٹرائل بلیزنگ" ٹیکنالوجیز کی اہمیت اور "فوری ضرورت" سے متعلق بتایا جو عالمی برادری کے لئے قابل قبول اور آئندہ نسلوں کے لئے جوابدہ ہیں.

وزیرمملکت اور ادنوک گروپ کے سی ای او ڈاکٹر سلطان الجابر نے کم کے خیالات سے اتفاق کرتے کہا کہ اس صنعت کا بنیادی مشن "پائیدار معاشی نمو کے لئے درکار توانائی کی ذمہ داری کے ساتھ فراہمی ہے۔"

انہوں نے کہاکہ ، "اس وقت یورپ میں استعمال ہونے والی توانائی مقدار سے تین گنا زیادہ آئندہ دو دہائیوں میں توانائی کی عالمی طلب کا حصہ ہوگا ۔ جسے پورا کرنے کے لئے ہمیں متنوع توانائی کو بہتر بنانے والے جامع ردعمل کی ضرورت ہوگی۔ "

ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ "عرب امارات کی قیادت نے ایک ماحولیاتی نظام تشکیل دیا ہے جو تیل اور گیس سے لے کر قابل تجدید ذرائع اور جوہری توانائی تک ہرطرح کی توانائی پیداوار کے لئے مناسب ہے۔ ہم آگاہ ہیں کہ دنیا کی اکثریت اب بھی تیل اور گیس پرانحصار کرے گی۔ادنوک2020 تک چار ملین بیرل تیل یومیہ اور 2030 تک 50 لاکھ بیرل یومیہ کی پیداواری صلاحیت کے ہدف کو حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔"

ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ "عرب امارات کی قیادت نے دنیا کی توانائی مارکیٹوں میں قابل اعتماد ترسیل کنندہ کی حیثیت برقرار رکھنے کے لئے تیل اور گیس کے شعبوں میں لگ بھگ 11 کھرب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ اہداف طے کیے ہیں.

انہوں نے کہا کہ"ہم دنیا میں کاربن کی کم سے کم مقدار کے ساتھ تیل پیدا کرتے ہیں۔اور ہم ایسی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو صنعتی پیداوار کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ کی انتہائی کم مقدار پیداکرتی ہے۔"

نوے سال قبل عالمی توانائی کونسل کے قیام کے بعد سے پہلی بار ورلڈ انرجی کانگریس کا مشرق وسطی میں انعقاد کیاجارہا ہے ۔.

ترجمہ۔تنویر ملک.

http://wam.ae/en/details/1395302785083

WAM/Urdu