" لیٹر آف دی نیو سیزن " کی فالو اپ کمیٹی کا پہلا اجلاس 

  • برئاسة منصور بن زايد وعضوية 5 وزراء .. لجنة متابعة تنفيذ رسالة الموسم الجديد لمحمد بن راشد تعقد أول اجتماع لها
  • برئاسة منصور بن زايد وعضوية 5 وزراء .. لجنة متابعة تنفيذ رسالة الموسم الجديد لمحمد بن راشد تعقد أول اجتماع لها
ویڈیو تصویر

ابوطہبی ، 10 ستمبر ، 2019 (وام) ۔۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر برائے صدارتی امور عزت مآب شیخ منصور بن زاید آل نھیان کی قیادت میں " لیٹر آف دی نیو سیزن " کی فالو اپ کمیٹی کا پہلا اجلاس یہاں ابوظہبی میں وزارت صدارتی امور کے صدر دفاتر میں منعقد ہوا – یہ کمیٹی نائب صدر ، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی ہدایات پر عمل کرنے کیلئے قائم کی گئی ہے جو انکے طے کردہ چھ اصولوں کو مدنطر رکھتے ہوئے تمام قومی شعبوں میں اقتصادی ، سماجی اور ابلاغی ترقی کیلئے سٹریٹجک منصوبہ بندی ، عملی پالیسی سازی ، واضح اہداف کے تعین کو طے کرے گی – شیخ منصور نے اجلاس میں کہاکہ عزت مآب شیخ محمد کی طرف سے یہ خط بروقت اور سماجی حقائق پر مبنی ہے ۔ عرب امارات کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ اس نے حقیقت سے وابستہ رہ کر عوامی ضرریات کا خیال رکھا ، مستقبل کی منصوبہ بندی بھی انہی بنیادوں پر شفاف انداز میں ہونی چاہیئے – انہوں نے آرٹیکل 3 کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اب نئی سوچ کی ضرورت ہے جبکہ نیا ویژن بھی درکار ہے تاکہ ملک کی سلامتی اور استحکام کو پائیدار بنایا جاسکے .

 

اماراتی باشندوں کو اداروں اور کمپنیوں میں دیگر شہریت کے لوگوں کی نسبت ملازمت اور روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کرنا ویژن کا حصہ ہے .

 

اس پیغام کے معاشی وژن کے بارے میں انہوں نے کہاکہ "ہمیں اگلی دہائی کے دوران ملک کے اہم ترقیاتی منصوبوں کی حیثیت جاننے کی ضرورت ہے ، میں منصوبوں کی تکرار کے خلاف ہوں۔"

کمیٹی کے پہلے اجلاس کے ایجنڈے میں اس کی پہلے 100 دن کے لئے عملی منصوبہ بندی ، اس کے اہم ڈرائیورز کی منظوری ، ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل اور ان کے مقاصد اور کاموں کی نشاندہی کرنا شامل تھا.

 

کمیٹی کے دوسرے ممبران میں کابینہ اموراور مستقبل کے وزیر اور کمیٹی کے نائب صدر محمد بن عبد اللہ القرقاوی، وزیر اقتصادیات سلطان بن سعید المنصوری،وزیر برائے انسانی وسائل و اماراتائزیشن ناصر بن ثانی الھاملی وزیر مملکت اور نیشنل میڈیا کونسل ، این ایم سی کے چیئرمین ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر،خوشی اور فلا ح وبہبود کی وزیر مملکت عھود بنت خلفان الرومی،عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی اور قومی سلامتی کونسل کا ایک نمائندہ شامل ہے.

 

کمیٹی کے امور میں عزت مآب شیخ محمد کی ہدایت پر عمل درآمد کے لئے ضروری قانونی و طریقہ کار کے فریم ورک کے مسودہ کی تیاری ، اس کی ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل اور پہلے 100 روزہ پلان کا مسودہ تیار کرنا شامل ہے جسے عرب امارات کی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا مقصد ایسے منصوبے ، پروگرام اور اقدامات تیار کرنا ہے جو خط کے نفاذ میں معاون ہوں گے،ذیلی کمیٹیوں اوران کی کارکردگی کی نگرانی اور کابینہ کو اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کریں گے.

 

کام کے چار اہم ستونوں کی نشاندہی کی گئی ہے ، جو فیلڈ ورک اور عوامی رابطوں، میڈیا ، اماراتائزیشن ، اور مستقبل کے نئے ترقیاتی آئیڈیاز سے متعلق ہیں.

 

فیلڈ ورک اورعوامی روابط.

 

عوام سے رابطوں کی انچارج ورکنگ ٹیم کو لوگوں کےمسائل حل کرنے ، معاشی ، معاشرتی ، صحت ، تعلیم ، تجارتی اور زرعی اداروں ، منصوبوں اور سرکاری خدمات سے متعلق کاموں کی نگرانی کے دوران عہدیداروں اور وزرا کی موجودگی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ٹیم کو شہریوں کی ضروریات سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے شکایات کا فالو اپ لینا اور مختلف منصوبوں کی پیشرفت میں رکاوٹ بننے والے امور کو حل کرنا ہوگا.

 

مستقبل کے نئے ترقیاتی آئیڈیاز.

 

اس ستون کا مقصد کمیٹی کے قیام کے ایک مہینے کے اندر دس ​​جدید اور عملدرآمد میں آسان ترقیاتی آئیڈیاز کو عزت مآب شیخ محمد کے سامنے پیش کرنا ہے۔ ہر آئیڈیا کا واضح معاشی اثر ہونا چاہئے جو عرب امارات کی آئندہ دہائی کے مجموعی ترقیاتی منصوبے کے حصول کے لئے وفاقی اور مقامی حکومتوں کے درمیان فریم ورک کے ساتھ قومی منصوبوں کی مدد کرے.

 

امارتائزیشن.

 

امارتائزیشن کا مقصد عرب امارات کے شہریوں کی تربیت اور صلاحیتوں کے فروغ کے لئے جامع قومی منصوبے کا مسودہ تیارکرنا ہے ان میں صحیح سرمایہ کاری کرتے ہوئےان کی اہم شعبوں میں درست تقسیم کو یقینی بنانا ہےجو ان کی مہارت اور معلومات سے فائدہ اٹھاسکیں.

 

میڈیا.

 

اس ستون کا مقصد سوشل میڈیا صارفین کے لئے واضح کنٹرول اور معیار قائم کرتے ہوئے عرب امارات کی ساکھ کو ناجائز استعمال کرنے والوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ قومی موضوعات پرسوشل میڈیا صارفین کے لئے آگاہی ورکشاپس کا انعقاد کرنا ہے.

 

سو روزہ منصوبہ کمیٹی کے سو دن کے ورک پلان میں ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل ، ہر موضوع سے متعلق پہلے سے متعین ستونوں اور اقدامات کے فریم ورک کے تحت وفاقی اور مقامی کوششوں کو مربوط اور معاون بنانا اور اس کی وضاحت شامل ہے.

 

نیو سیزن لیٹر.

 

عزت مآب شیخ محمد نے اپنے خط کے نفاذ کی نگرانی کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے، جس کا مقصد اپنے پیغام کے چھ اصولوں کو جامع کمیونٹی ورکنگ سسٹم میں تبدیل کرنا ہے اور اسے اپنے وژن کے فریم ورک کے تحت سو دن کے منصوبے کے ساتھ پیش کرنا ہے .

 

اپنے پیغام میں ، عزت مآب شیخ محمد نے اہم قومی اور معاشی موضوعات پر روشنی ڈالی جو ملک کے اداروں اور کمیونٹی کو متاثر کرتی ہیں۔ ان کے پیغام کا پہلا عنوان عہدیداروں اور وزرا کے کام سے متعلق ہے جس میں پر زور دیا گیا ہے کہ وزرا اور عہدیدار لوگوں کے ساتھ براہ راست کام کریں نہ کہ کانفرنس ہالز اور فورمز میں وسائل اور توانائی کا غلط استعمال کریں .

 

دوسرے آرٹیکل کا مقصد عرب امارات کی ساکھ کا تحفظ اوراس کی اچھی شبیہ کو فروغ دینا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر افراتفری کو روکنا ہے.

 

تیسرے آرٹیکل کا مقصد اماراتائزیشن کو مستقل ترجیح بنانا ہےعزت مآب شیخ محمد کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سلسلہ وار اہم فیصلے جاری کیے جائیں گے.

 

چوتھے آرٹیکل میں عرب امارات کی عالمی مسابقت کو مستحکم کرنے کی اہمیت کی نشاندہی کی گئی ہے ،معاشی مضبوطی کے جدید منصوبوں کو اپنایا جائے گا۔ عزت مآب شیخ محمد نے قومی معیشت کے لئے کمیٹی کو رئیل اسٹیٹ منصوبوں کی رفتار بڑھانے کی ہدایت کی.

 

پانچواں آرٹیکل عوام کی خدمت کے حوالے سےحکومت کے کردار سے متعلق ہے۔عزت مآب شیخ محمد نے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی ضروریات کو پورا اور ان کی مشکلات کو حل کریں.

 

عزت مآب شیخ محمد نے اپنے خط کی تحریر کا اس امید کے ساتھ اختتام کیا ہے کہ مستقبل روشن ہے اورعرب امارات خطے کے سب سے زیادہ مسابقتی، تیزترین ترقی ، اور ترقی یافتہ ملک کی حیثیت سے مستقبل کے لئے تیار ہے.

 

ترجمہ۔تنویر ملک.

 

http://wam.ae/en/details/1395302785548

WAM/Urdu