مشرق وسطیٰ میں سائبر حملوں میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے: ماہر

ویڈیو تصویر

دبئی، 11 ستمبر، 2019 (وام) ۔۔ سائبرسیکیورٹی کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں اہم انفراسٹرکچر پر سائبرحملوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے.

ڈارک میٹر کے سینئر نائب صدر ایرک ایفرٹ نے کہا ہے کہ یہ خطہ تیل اور گیس کے شعبے سے ہٹ کر جدت طرازی اور نئی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بہت ترقی کر رہا ہے۔ قابل تجدید توانائی شمسی اور ہوا میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مخالفین اس کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ اسے معاشی جاسوسی کے لئے استعمال کیا جاسکے.

ڈارک میٹر کے نمائندے نے امارات نیوز ایجنسی، وام کو بتایا کہ یہ خطہ بہت دلچسپ ہے کیونکہ یہاں کئی ایسے عناصر موجود ہیں جو سائبر حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں.

سائبرسیکیورٹی کمپنی کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق جاسوسی اور تخریب کاری دو ایسی اہم تکنیک ہیں جو خطے میں سائبر حملوں میں استعمال کی گئی ہیں تاکہ دوسروں کی خفیہ معلومات تک پہنچا جاسکے.

انہوں نے کہا کہ یہ حملے اہم انفراسٹرکچر کو متاثر کرسکتے ہیں۔ مختلف مخالفین سائبرحملوں کے ذریعے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سعودی کمپنی آرامکو میں کمپیوٹر سسٹم تباہ ہوگئے تھے اور انہیں تبدیل کرنا پڑا تھا.

ایفرٹ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملوں کا بنیادی ڈھانچے کی صلاحیتوں پر آپریشنل اثر پڑتا ہے جس کے نتیجے میں پیداوار اور تقسیم میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ان میں سے کسی بھی اہم انفراسٹرکچر پر سائبر حملے سے اقتصادی سرگرمیوں متاثر ہوسکتی ہیں جس سے معیشت کو نقصان ہوسکتا ہے.

رواں سال جون میں جاری کی گئی ڈارک میٹر سائبر سیکیورٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطی میں تمام سائبرحملوں میں سے نصف میں تیل اور گیس کے شعبے کو نشانہ بنایا گیا.

انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات خطے پر تباہ کن اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائبر حملوں کے ذریعے مقامی آبادی کو متاثر کرکے خطے کے کسی دوسرے ملک کے اندر سیاست کو بھی متاثر کیا جاسکتا ہے.

ایفرٹ نے کہا کہ اس طرح کے حملوں کے اگر کھربوں میں نہیں تو اربوں ڈالر میں معاشی اثرات ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپریشنل نقطہ نظر سے پیداوار اور تقسیم کو متاثر کرنے والی کوئی بھی چیز زبردست ہے.

انہوں نے وضاحت کی کہ اگر گیس ٹربائن پر سائبرحملہ کیا جائے تو اسے بحال کرنے میں چار سے پانچ سال لگیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے نہ صرف براہ راست مالی اثر پڑتا ہے بلکہ کسی بھِی ادارے کے وقار کا کو بھی نقصان ہوتا ہے کیونکہ اس سے صارفین کا ان اداروں پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے.

ڈارک میٹر کے نمائندے نے کہا کہ سائبرسیکیورٹی انڈسٹری اب صحیح ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے جو سائبرحملوں سے پیدا ہونے والے خطرات اور انھیں سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے یہ ایک حقیقی خطرہ ہےجس کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کی ضرورت ہے.

ترجمہ : ریاض خان .

 

http://wam.ae/en/details/1395302785708

WAM/Urdu