ہوابازی امارات کی جی ڈی پی میں  2037تک اضافی 80ارب ڈالر شامل کرسکتی ہے: IATA


ابوظبی، 8 اکتوبر، 2019 (وام) ۔۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن، IATA نے متحدہ عرب امارات میں ہوائی نقل و حمل کی اہمیت کے بارے میں اپنی تازہ ترین سٹڈی میں بتایا ہے کہ ایک اہم اسٹریٹجک اثاثے کے طور پر ہوا بازی ملک میں چھ لاکھ بیس ہزار اضافی ملازمتیں اور 2037 تک قومی معیشت کیلئے جی ڈی پی میں 80 ارب ڈالر اضافی پیدا کرسکتی ہے۔ سٹڈی کے مطابق متحدہ عرب امارات کی معیشت میں ہوائی نقل و حمل کی شراکت پہلے ہی نمایاں ہے۔

اس وقت یہ صنعت تقریبا آٹھ لاکھ ملازمتیں پیدا کررہی ہے اور معیشت میں اسکا حصہ 47.4 ارب ڈالر ہے جو متحدہ عرب امارات کی جی ڈی پی کا 13.3 فیصد ہے۔ اگر حکومت ہوابازی کے لئے مثبت ایجنڈے پر عمل پیرا رہتی ہے تو متحدہ عرب امارات کی ہوابازی کی مارکیٹ 2037 تک 170 فیصد بڑھے گی جس سے 1.4 ملین ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونگے اور جی ڈی پی میں ملکی معیشت میں 128 ارب امریکی ڈالر کی شراکت ہوگی۔ IATA نے تین ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جہاں حکومتی کارروائی ہوابازی کی نمو کو فروغ دے سکتی ہے اور متحدہ عرب امارات کو اس سے بھی زیادہ فائدہ ہوسکتاہے۔

ان میں بھیڑ کو کم کرنے اور مستقبل کی طلب کو پورا کرنے کے لئے فضائی حدود میں اضافہ کرنا ، متوقع نمو کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کو ہم آہنگ کرنا اور استعداد کار اور مسافروں کے سفر کو مزید بہتر بنانے کے لئےنئی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھانا اور جدت طرازی کا عمل جاری رکھنا شامل ہیں۔ مشرق وسطی کے لئے IATAکے علاقائی نائب صدر محمد علی الباکری نے کہا کہ پچھلے 25 سال کے دوران متحدہ عرب امارات نے معاشی تبدیلی کا تجربہ کیا ہے اور ہوا بازی کا شعبہ اس ارتقاء کو محور رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ریاستیں متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں ہوائی رابطوں سے ہونے والے معاشی فوائد کے بارے میں بہتر انداز میں آگاہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہوا بازی کے شعبے کی ترقی کیلئے حکومتی پالیسی سے زبردست فائدہ ہوا ہے۔

الباکری نے کہا کہ آج متحدہ عرب امارات فضائی تجارت کی سہولت کے لئے عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔ متحدہ عرب امارات ویزا کی آسانی میں مشرق وسطی کے خطے میں سرفہرست ہے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ہوا بازی کا پاور ہاؤس ہے اور اس کی ایئر لائنز دنیا کے کونے کونے تک جاتی ہیں۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

https://wam.ae/en/details/1395302793142

WAM/Urdu