سال رواداری لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے کر آیا ہے:آسٹریلین پیرااولمپیئن

  • 20191008_australianembassy_marketkitchen_103544
  • 20191008_australianembassy_marketkitchen_102946
  • 20191008_australianembassy_marketkitchen_113249
  • 20191008_australianembassy_marketkitchen_111751
  • jessica smith
ویڈیو تصویر

ابوظہبی ، 9 اکتوبر ، 2019 (وام) ۔۔ آسٹریلیا کی پیرااولمپیئن جیسکا اسمتھ نے کہا ہے کہ رواداری کے سال نے انہیں ایک اچھا احساس دیاہے۔ آسٹریلیا کے سفارت خانے کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پروگرام کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی ، وام سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ "عرب امارات آمد کے بعد سے ایمانداری سے وہ سال رواداری سے متعلق ہر چیز سے خوشگوار حیرت میں ہیں ۔"

پیدائشی طور پر بائیں ہاتھ اور بازو سے محروم اسمتھ نے سات سال تک تیراکی کے مقابلوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی اور ایتھنز میں 2004 میں ہونے والے پیرا اولمپک کھیلوں میں شریک ہوئی۔ آرڈر آف آسٹریلیا میڈل حاصل کرنے والی اس ریٹائرڈ ایتھلیٹ نے وام، کو رواں سال کے شروع میں عرب امارات آنے اور سال رواداری سے متعلق اپنے تجربے سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یقینی طور پر پرعزم فرد کی حیثیت سے اماراتی معاشرے اور اس ماحول میں آنا اور خوش آمدید کہا جانا نہایت فرحت کا باعث ہے۔"

اسمتھ نے کہاکہ عرب امارات میں ہر شخص میں ایک حقیقی تجسس پایا جاتا ہے میں جس کسی سے بھی ملی ہوںوہ "زیادہ سے زیادہ سیکھنا اور ترقی کرنا چاہتا ہے ، اور ایک دوسرے کو [نہ صرف] معاشرتی سطح پر ، بلکہ عالمی سطح پر بھی سمجھنا چاہتا ہے۔ "

انہوں نے مزید کہا کہ " لوگ سوال کرتے ہیں مزید جاننے اور سمجھنے کی خواہش رکھتے ہیں جو حقیقت میں ایک اچھا احساس ہے۔"

کھیلوں کے معاشروں کی تشکیل پر اثرات سے متعلق اسمتھ نے کہا کہ"میرے خیال میں کھیل لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کاایک عمدہ پلیٹ فارم ہیں۔"

پیرااولمپیئن نے رابطوں اور زبان کی تبدیلی کے اثرات میں اہمیت کے حوالے سے کہا کہ "مختلف قومیتوں اور پرعزم لوگوں سے بات چیت اور گفتگو کرنے سے باقی رہ جانے والی رکاوٹوں کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔"

دو کمسن بچوں کی ماں اسمتھ نے معذوری اور معاشرتی قبولیت سے متعلق بچوں کے لئے کتابیں بھی تحریری کی ہیں۔ان کی پہلی تصنیف 'لٹل مس جیسکا گوز ٹو اسکول' ہے جو اسکول میں اس کے پہلے دن کی روداد پر مبنی ہے۔ 10 اکتوبر کو عالمی دماغی صحت کے دن سے متعلق اسمتھ نے دماغی صحت اور ذہنی امراض سے متعلق بتایا کہ"بدقسمتی سے ، ابھی بھی ذہنی صحت اور ذہنی امراض کے حوالے سے ایک رسوائی کا ڈر پایا جاتا ہے۔ "

سمتھ نے معاشرتی اور پالیسی پر مبنی اہداف میں موثر تبدیلی لانے کے لئے بات چیت اور رابطے کی اہمیت پر ایک بار پھر زور دیا۔ اور کہا کہ "پہلا قدم ہمیشہ رابطے کا ہوتا ہے۔ "

اس سوال پر کہ وہ "پرعزم افراد" کے استعمال کے پیچھے کیا پیغام خیال کرتی ہیں تو اسمتھ نے کہا "یہ ایک خوبصورت تصور ہے۔"

انہوں نے مزید کہا ، "جب لوگ ان خاص امور کے بارے بات کرتے ہیں تو پرعزم افراد ہماری زبان کو تبدیل کرنے کا ایک بہت بڑاطریقہ ہوتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا "میرے تجربے میں ، لوگوں کوظاہری شکل وصورت سے آگے دیکھنے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے ، اور یہ دیکھیں کہ لوگ کیا کچھ کرنے کے قابل ہیں ناکہ یہ سوچا جائے کہ وہ کیا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔"

اسمتھ نے کہا"اس حوالے سے بہت زیادہ امید ہے ، صرف ان چند الفاظ سے ، پرعزم لوگوں ، معذوری کاشکار افرادکو یہ محسوس کرنے کا ایک بے مثال طریقہ ہے انہیں معزوری یا ان کی ظاہری شکل کے ساتھ دیکھنے کی بجائے معاشرے کے دوسرے افراد جیسا ہی خیال کیا جائے"۔ "مجھے لگتا ہے کہ ہم یہاں عرب امارات میں واقعی بہتر طور پر کام کر رہے ہیں ، اور مجھے لگتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے سیکھنے کے خواہاں ہیں میرے خیال کے مطابق مستقبل میں چیزوں کی تشکیل کی یہی پہلی کلید ہے"۔ اسمتھ نے تبدیلی کے لئے نوجوانو ں کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ عرب امارات کے جوانوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہاں ہیں۔ اسمتھ نے تبدیلی لانے کے لئے آگاہی، رواداری اور قبولیت کے فروغ کے لئے نوجوانوں کی شرکت کے حوالے سے اپنی امید کا اظہارکرتے کہا کہ "یہ بہت ولولہ انگیزاوقات ہیں"۔تصویری ماخذ: وکٹوریا ونیکاوا / جیسکا اسمتھ

ترجمہ۔تنویر ملک

http://wam.ae/en/details/1395302793382

WAM/Urdu