متحدہ عرب امارات میں ایک لاکھ روسی بولنے والے دوطرفہ تعلقات  میں مضبوطی کاباعث ہیں: روسی سفارتکار


ابوظبی، 10 اکتوبر، 2019 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات میں روسی زبان بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد اور رواداری کی مشترکہ قدر نے روس اور متحدہ عرب امارات کو مزید قریب لانے میں کردار ادا کیا ہے ۔ ابوظبی میں روسی سفارت خانے میں مشن کے نائب سربراہ یوری ودکاس نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات مشرق وسطی میں روس کا ایک اہم شراکت دار ہے۔ روسی صدر ولادمیر پوٹن اگلے ہفتے متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کریں گے۔ یوری ودکاس نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں تقریبا ایک لاکھ افراد روسی زبان بولتے ہیں جن میں سے 40,000 روسی شہری اور 60,000 سابقہ ​​سوویت ریاستوں کے شہری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ افراد دونوں عظیم ممالک کے درمیان عوامی رابطوں اور تعلقات کو فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔ ابوظبی میں روسی سفارت خانے میں منتخب صحافیوں کے ایک گروپ سے دونوں ممالک کے مابین مشترکہ عناصر اور رواداری کی اقدار کا ذکر کرتے ہوئے روسی سفارتکار نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں تقریبا 200 قومیتوں کے لوگ آباد ہیں اور اسی طرح روس میں بھی تقریبا 180 قومیتوں کے لوگ رہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں اتنی قومیتوں کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی کثیر الثقافتی معاشروں میں رواداری کی ایک مثال ہے۔ روسی اہلکار نے کہا کہ خلیجی خطے میں واحد روسی آرتھوڈوکس چرچ شارجہ میں ہے۔ روس میں متعدد مساجد ہیں اور روسی علاقے چیچنیا میں حکام نے حال ہی میں یورپ کی سب سے بڑی مسجد کا افتتاح کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک میں مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو سراہا ۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی سیاحت سے عوام کے مابین تعلقات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ 2018 میں تقریبا 900,000 روسی سیاحوں نے متحدہ عرب امارات کی سیر کی۔ روس اور متحدہ عرب امارات کے مابین ہفتے میں 111 پروازیں ہوتی ہیں۔ متعدد پروازیں روس کے مختلف علاقوں سے سیاحوں کو متحدہ عرب امارات خصوصا دبئی، شارجہ، راس الخیمہ اور فجیرہ لاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ رجحان مختلف روسی علاقوں اور متحدہ عرب امارات کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات کی ایک مثال ہے۔ یوری ودکاس نے کہا کہ کہ یہ تعلقات وفاقی حکومتوں سے آگے بڑھ کر امارات اور شہروں تک وسیع ہوچکے ہیں۔ شارجہ کو ستمبر میں منعقد ہونے والے 32 ویں ماسکو بین الاقوامی کتاب میلے میں منتظمین نے "مہمان شہر" کا درجہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح مختلف روسی خطے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے بہت سے پروگراموں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں۔ تعلیمی شعبے میں کم از کم پانچ روسی جامعات متحدہ عرب امارات میں اپنی شاخیں کھولنے کا ارادہ کر رہی ہیں۔ ودکاس نے کہا کہ اس میں وقت لگ سکتا ہے جب انہیں مقامی ضابطوں کے مطابق تصدیق نامہ اور دیگر متعدد رسمی کارروائیوں کو مکمل کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس عالمی سطح کی یونیورسٹیاں اور خاص طور پر میڈیکل ایجوکیشن فراہم کرنے والے تعلیمی ادارے ہیں۔ سیاسی محاذ پر حالیہ برسوں میں اعلی سطح کے دورے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ اہمیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابوظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نھیان گذشتہ پانچ سال میں چھ بار روس کا دورہ کر چکے ہیں ۔ روسی سفارت کار نے کہا کہ جون 2018 میں دونوں ملکوں کے درمیان "اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلامیہ" ایک اہم اقدام تھا جو تعلقات میں مستقبل کی پیشرفت کے لئے بنیادی ڈھانچے کے طور پر کام کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دسمبر 1971 میں جب متحدہ عرب امارات کی بنیاد رکھی گئی تو روس ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اسے تسلیم کیا۔ دو طرفہ تجارت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ متحدہ عرب امارات کی وزارت اقتصادیات کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں دوطرفہ تجارت کا حجم 3.4 ارب ڈالر تھا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے سالوں میں اس میں یقینا بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات خطے میں ایک محفوظ ملک ہے۔ روسی اہلکار نے کہا کہ جدت دونوں ممالک کی ترجیح ہے۔ ہم جدت کے ثمرات سے مستفید ہوکر ترقی میں بھی شراکت دار بن سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خلا میں پہلا خلاباز بھیجنے پر روس بھی متحدہ عرب امارات کی خوشی کی تقریبات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ھزاع المنصوری ایک قومی ہیرو ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں بھی ہم خلا بازوں کو ہیرو مانتے ہیں۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

http://wam.ae/en/details/1395302793790

WAM/Urdu