روس متحدہ عرب امارات کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کا خواہاں ہے: ماہرین


ابوظبی، 10 اکتوبر، 2019 (وام) ۔۔ اماراتی اور روسی تجارتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں خوراک کی مصنوعات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کے لئے روس متحدہ عرب امارات کو اپنی زرعی برآمدات بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں کے دوران روس نے متحدہ عرب امارات میں کاروبارباری سرگرمیاں بڑھانے کی سمت کئی اقدامات کیے ہیں جن میں 2017 میں ابوظبی میں روسی سفارت خانے میں تجارتی نمائندے کے دفتر اور 2019 میں دبئی میں رشین فوڈ ہاؤس کا افتتاح شامل ہیں۔ دبئی چیمبر میں بین الاقوامی دفاتر کے ڈائریکٹر عمر خان نے امارات نیوز ایجنسی ، وام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس مشرق وسطی اور ایشیا میں اپنی اشیائے خوردونوش کی برآمدات کو بڑھانے کے لئے سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اس رجحان سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے کیونکہ وہ خطے میں روسی مصنوعات اور اشیاء کے لئے دوبارہ برآمدات کا مرکز بنا ہوا ہے جو برآمد کنندگان کو آس پاس کی منڈیوں میں تقریبا دو ارب صارفین تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

روسی بزنس کونسل، آر بی سی کے مطابق روسی کمپنیاں Gulfoodسمیت پورے سال دبئی میں ہونے والی بڑی نمائشوں میں زبردست دلچسپی ظاہر کرتی ہیں اور رواں سال روسی شرکت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آر بی سی نے وا م کو بتایا کہ رئیل اسٹیٹ، لاجسٹکس، ہوا بازی اور توانائی کے علاوہ روسیوں نے متحدہ عرب امارات میں اپنے کام کو متنوع بنا دیا ہے۔ روس متحدہ عرب امارات کو زرعی اور صنعتی برآمدات بڑھانے کے خواہاں ہے۔ کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ہزاروں روسی مقیم ہیں اور یہ علاقائی منڈی میں داخلے کی خواہاں روسی کمپنیوں کے لئے بھی ایک پرکشش منزل ہے۔ عمر خان نے کہا کہ دبئی چیمبر کا باکو، آذربائیجان کا بین الاقوامی دفتر روس اور دیگر یوریشین منڈیوں میں کاروباری مواقع کی نشاندہی کرنے اور دبئی کو روسی کمپنیوں کے لئے ایک پسندیدہ کاروباری مرکز کے طور پر فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے سات سال پہلے باکو میں اپنا پہلا بین الاقوامی دفتر کھولا تھا اور دبئی چیمبر کے ساتھ رجسٹرڈ روسی کمپنیوں کی تعداد آج تین گنا بڑھ کر 550 ہو گئی ہے۔

خان نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث مختلف قسم کے کھانے پینے کی مصنوعات کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس سے متحدہ عرب امارات روسی کھانے کی برآمدات کے لئے ایک مناسب مارکیٹ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی خوراکی ضروریات کا 85 فیصد سے زیادہ درآمد کرتا ہے اس لئے حکومت اپنی فوڈ امپورٹ منڈیوں کو متنوع بنانے اور فوڈ سکیورٹی کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کی خواہشمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں عالمی سطح کے انفراسٹرکچر، لاجسٹک کی بہترین سہولیات اور پرکشش آزاد زون کے باعث تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے پرکشش ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی دنیا بھر سے اشیائے خوردونوش کا ایک اہم مرکز ہے اور یہاں آنے والی اشیاء کو دوبارہ خلیج تعاون کونسل، افریقہ اور ایشیاء سمیت آس پاس کی منڈیوں کو برآمد کیا جاتاہے۔ 2018 میں روس سے دبئی میں تقریبا 900 ملین درہم مالیت کی زرعی مصنوعات اور کھانے پینے کی چیزیں برآمد کی گئیں جن میں سے 104 ملین درہم سے زیادہ روسی غذائی مصنوعات متحدہ عرب امارات کے ذریعے دوبارہ برآمد کی گئیں۔

اس کے باوجود اس دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لئے کافی گنجائش ہے۔ خان کا خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات متعدد مسابقتی فوائد پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ روسی کمپنیوں کے لئے ایک پسندیدہ مارکیٹ ہے۔ متحدہ عرب امارات 40 سے زائد فری زون ویلیو ایڈڈ خدمات، 100 فیصد غیر ملکی ملکیت، سرمایہ کار دوست ماحول، صفر کارپوریٹ ٹیکس اور تیزی سے بڑھتی ہوئی کانفرنسوں، نمائشوں اور اجلاسوں کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔ دبئی ہر سال دنیا کی بعض بڑی نمائشوں اور کانفرنسوں کی میزبانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور پہلو جو متحدہ عرب امارات کو ایک پرکشش منزل بناتا ہے وہ اس کی بڑھتا ہوا سیاحت کا شعبہ ہے جو مستقبل قریب میں مزید وسعت پانے کے لئے تیار ہے کیونکہ ایکسپو 2020 میں 20 ملین سیاحوں کی شرکت کی توقع ہے۔ اپنی حالیہ سالانہ رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کی وزارت اقتصادیات نے 2018 میں متحدہ عرب امارات اور روس کے مابین تجارت کا حجم 3.4 بلین ڈالر ریکارڈ کیا۔ وزارت کے اعداد و شمار میں گندم کی مصنوعات کو ہیروں کے بعد سب سے زیادہ درآمد میں 470 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اسکے بعد 400 ملین ڈالر کی چاکلیٹ کی مصنوعات ہیں۔ روس اور متحدہ عرب امارات میں کاروباری افراد کے لئے ایک مشاورتی کمپنی اور INCONA کے جنرل ڈائریکٹر الیکسی بوسیف اور روسی فوڈ ہاؤس کے آپریٹر کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے روسی مینوفیکچررز کے پاس مطلوبہ صلاحیت موجود ہ بوسیف جو ماسکو چیمبر آف کامرس میں روس اماراتی کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں نے کہا کہ دبئی میں روسی فوڈ ہاؤس کے تعاون سے وہ خلیج تعاون کونسل کے دیگر ممالک کی مارکیٹوں میں مزید توسیع کا منصوبہ بناسکتے ہیں۔ خطے میں روس کے برآمدی عزائم کے بارے میں بات کرتے ہوئے روسی ایکسپورٹ سینٹر گروپ کے ہیڈ آف پریس کریل پشکریو نے کہا کہ ہم متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ نمائش ہال، آر ایف ایچ متحدہ عرب امارات، افریقی اور ایشیائی براعظموں میں باہمی رابطوں اور روسی مصنوعات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

http://wam.ae/en/details/1395302793802

WAM/Urdu