پوٹن کے تاریخی دورے کے تناظر میں روس اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات پر ایک نظر


ابوظبی، 10 اکتوبر، 2019 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات اور روس نے باہمی احترام اور قطعی مقاصد پر مبنی کئی دہائیوں پر مشتمل شراکت قائم کی ہے جس کے کامیاب نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ صدر ولادمیر پوٹن کے آنے والے متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے کے تناظر میں امارات نیوز ایجنسی، وام نے دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کئی سال سے متعدد شعبوں میں استوار تعلقات پر ایک نظر ڈالی ہے۔

سفارتی تعلقات:

متحدہ عرب امارات اور روس کے تعلقات 48 سال پر محیط ہیں جب سابقہ سوویت یونین، یو ایس ایس آر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان متحدہ عرب امارات کے قیام کے چھ دن بعد 8 دسمبر 1971 کو سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے۔ یو ایس ایس آر نے 1986 میں ابوظبی میں اپنا سفارت خانہ قائم کیا جس کے فورا بعد ہی متحدہ عرب امارات نے 1987 میں ماسکو میں اپنا سفارت خانہ کھولا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے دسمبر 1991 میں روسی فیڈریشن کو یو ایس ایس آر کی جانشین ریاست تسلیم کیا۔ امتحدہ عرب امارات اور روس نے دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر اعلی ٰ سطح دوروں کے ذریعے اپنے سفارتی تعلقات کو مستحکم کیا ہے۔ روس کے صدر ولادمیر پوٹن نے ستمبر 2007 کو متحدہ عرب امارات کا پہلا سرکاری صدارتی دورہ کیا۔ 2009 میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے روس کا دورہ کیا۔ ابو ظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نھیان نے 2006 سے 2018 تک روس کے کئی سرکاری دورے کیے۔ اپریل 2017 میں شیخ محمد بن زاید اور صدر پوٹن نے سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے دونوں ممالک کے مابین اسٹراٹیجک پارٹنرشپ کی منظوری دی۔ جون 2019 میں دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک شراکت داری کے اعلامیے پر دستخط کئے۔

تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون:

اپنی حالیہ سالانہ رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کی وزارت اقتصادیات نے 2018 میں متحدہ عرب امارات اور روس کے مابین تجارت کا مجموعی حجم 3.4 ارب ڈالر (12.5 ارب درہم ) ریکارڈ کیا۔ وزارت کے اعداد و شمار میں گندم کی مصنوعات کو ہیروں کے بعد سب سے زیادہ درآمد میں 470 ملین درہم ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد 400 ملین درہم کی چاکلیٹ کی مصنوعات ہیں۔ وزارت کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 3000 سے زیادہ روسی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جن میں تقریبا 20 روسی تجارتی ایجنسیاں شامل ہیں۔ ملک میں 507 ٹریڈ مارک بھی رجسٹرڈ ہیں جس کی وجہ سے 2016 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا اسٹاک 940 ملین ڈالر 3.5 ارب درہم ) ہوگیا۔ 1994 میں دونوں ملکوں نے تجارت، اقتصادی اور تکنیکی تعاون کے لئے بین الحکومتی متحدہ عرب امارات۔روس کمیشن قائم کیا۔ قیام کے بعد سے کمیشن کے نو اجلاس ہوئے جن میں کمیشن کے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی کے لئے 2014 میں مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا گیا۔ روسی خارجہ امور کی وزارت کے مطابق براہ راست سرمایہ کاری کے لئے روسی فنڈ، آر ایف ڈی آئی اور متحدہ عرب امارات کی ممبادلہ انوسٹمنٹ کمپنی نے 2013 میں روس میں منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے لئے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا جس میں 7 ارب ڈالر (25.7 ارب درہم ) تک کی سرمایہ کاری کی شراکت کا ہدف مقرر کیا گیا ۔ اجناس میں تجارت کو بڑھانے کے لئے 2016 میں آر ایف ڈی آئی اور مبادلہ نے روسی زرعی کمپنیوں ای ایف کے او گروپ اور اے ایف جی نیشنل میں 300 ملین ڈالر (1.1 ارب درہم ) کی سرمایہ کاری پر بھی غور کیا۔ اسی سال آر ایف ڈی آئی اور ڈی پی ورلڈ نے روس کے مختلف علاقوں میں بندرگاہوں، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک ٹرمینلز میں تقریبا 2 ارب ڈالر (7.3 ارب درہم ) کی سرمایہ کاری کے لئے مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا۔ ابو ظبی کے مبادلہ نے بھی روسی کمپنی گیس پرام کے تیل کے ذیلی ادارے میں 271 ملین ڈالر (995 ملین درہم ) مالیت کے 44 فیصد حصص حاصل کئے۔ ابوظبی میں بین الاقوامی دفاعی نمائش کے دوران دو سال قبل متحدہ عرب امارات کی حکومت نے روس کی کمپنی سے Rosoboron Export کو 2.6 درہم (708 ملین ڈالر) عسکری خریداری کا معاہدہ کیا جس سے دفاعی شعبے میں تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملی۔ گذشتہ ماہ ادنوک کے عہدیداروں نے روسی ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کی جس میں روس کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کی گئی تاکہ ہائیڈرو کاربن اور مائع قدرتی گیس، ایل این جی کی پیداوار میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دی جاسکے۔

سیاحت اور ثقافتی تعلقات:

سیاحت اور ثقافتی امور کے شعبے میں دوطرفہ تعاون سے دونوں ممالک کے مابین نئی پیشرفت دیکھنے کو ملتی ہے۔ ثقافتی تبادلہ متحدہ عرب امارات کے رواداری اور بقائے باہمی کے پیغام کا اہم حصہ ہے۔ متحدہ عرب امارات میں متعدد روسی ثقافتی تقریبات اور پرفارمنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس طرح کی سرگرمیوں میں جنوری 2011 میں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت میں "پیس انٹرنیشنل یوتھ آرکسٹرا" شامل ہے۔ ستمبر 2016 میں روس کے کرسنویارسک اوپرا اور بیلے تھیٹر نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور دبئی اوپرا اسٹیج پر شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔ اس سال کے شروع میں سپریم کونسل کے رکن اور شارجہ کے حکمران ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے 32 ویں ماسکو بین الاقوامی کتاب میلے میں شرکت کی۔ دونوں ممالک کے مابین وسیع سطح پر میڈیا تعاون بھی موجود ہے۔ آر آئی اے نووستی اور روس ٹوڈے سمیت روسی میڈیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے متحدہ عرب امارات میں دفاتر قائم کئے ہیں۔ امارات نیوز ایجنسی، وام نے اطلاعات، خبروں اور نشریاتی مواد کے تبادلے کی سہولت کے لئے بالترتیب 2018 اور 2019 میں روسی میڈیا اداروں Sputnik اور آر ٹی کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور روس کے درمیان ثقافتی اور سیاحتی رابطوں کو سلسلہ جاری ہے اور متحدہ عرب امارات نے 2017 میں ویزا چھوٹ کی سہولت کے ذریعے اس سلسلے کو مزید فروغ دیا ۔ اس سہولت کی وجہ سے روسی سیاحوں کی 2015-16 میں متحدہ عرب امارات میں تعداد چھ لاکھ سے بڑھ کر 2018 میں دس لاکھ کے قریب پہنچ گئی۔ متحدہ عرب امارات میں اس وقت 40,000 روسی قیام پذیر ہیں۔ 28 اپریل سے یکم مئی 2019 کو دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ہونے والی عرب ٹریول مارکیٹ سے پہلے شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات کا سفر کرنے والے روسی سیاحوں کی تعداد 2023 میں 12 فیصد کے اضافے کے ساتھ 16 لاکھ ہوجائے گی۔ایکسپو دبئی 2020 میں بھی روس کی پویلین کے ساتھ لاکھوں سیاحوں کی شرکت متوقع ہے۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

http://wam.ae/en/details/1395302793786

WAM/Urdu