UNIDO کی جنرل کانفرنس کا 18 واں اجلاس ابوظبی اعلامیہ کی منظوری کے ساتھ ختم


ابوظبی، 7 نومبر ، 2019 (وام) ۔۔ ابو ظبی میں اقوام متحدہ کی صنعتی ترقیاتی تنظیم، UNIDO کی جنرل کانفرنس کا 18 واں اجلاس پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کے حصول کے سلسلے میں پانچ دن تک جاری رہنے کے بعد پیشرفت کے عزم کے ساتھ ختم ہوگیا۔ اجلاس 3 سے 7 نومبر تک ابوظبی میں جاری رہا۔ اقوام متحدہ کی تاریخ میں صرف چار بار ایسے ہوا ہے کہ جنرل کانفرنس کا انعقاد آسٹریا کے شہر ویانا میں اس کے ہیڈ کوارٹر کے باہر کسی ملک میں کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل کانفرنس کا مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے خطے میں یہ پہلا اجلاس ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مڈغاسکر کے صدر آندرے راجولینا نے متحدہ عرب امارات کو تبدیلی، جدیدیت اور دنیا کی عظیم منزلوں میں سے ایک کی علامت قرار دیا۔ صدر راجولینا نے متحدہ عرب امارات کو جدیدیت کی یادگار قرار دیتے ہوئے صنعتی اور معاشی مواقع کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے میں متحدہ عرب امارات کی کامیابی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات وژن، کام اور عزم کے ساتھ سب کچھ ممکن ہے کے نعرے کے ساتھ باقی دنیا کے لئے ایک عمدہ مثال کے طور پر کام کرتا ہے۔ جنرل کانفرنس میں مختلف ملکوں کے صدور، وزراء صنعت و تجارت اور معیشت، 580 سفارت کاروں اور دنیا بھر کے معروف عہدیداروں، یو این آئی ڈی او اور اقوام متحدہ کی دیگر تنظیموں کے سینئر نمائندوں اور نجی شعبے، سول سوسائٹی اور اکیڈمیا کے رہنماؤں سمیت 1700 افراد نے شرکت کی ۔ متحدہ عرب امارات کے انرجی اینڈ انڈسٹری کے وزیر سہیل محمد المزروئی، مڈغاسکر کے صدر آندرے راجولینا، جمہوریہ نائجر کے صدر مہامادو ایسوفو اور وانواتو کے نائب وزیر اعظم جوتھم نیپٹ نوکا کی موجودگی میں جنرل کانفرنس کے صدر کا اعلان کیا گیا۔ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے UNIDO کے ڈائریکٹر جنرل LI Yong نے کہا کہ اب جبکہ ہم 2030 ایجنڈے کو حاصل کرنے کے لئے آخری دہائی میں داخل ہو رہے ہیں تو جامع اور پائیدار صنعتی ترقی کو ایک مضبوط UNIDO کی ضرورت ہے جو ایک نئے سرے سے ملنے والے کثیر جہتی نظام میں اپنے فرائض انجام دے۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بین الاقوامی تعاون میں اضافے، نجی شعبے کی شمولیت انتہائی ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ رکن ممالک، اقوام متحدہ اور اس کی خصوصی ایجنسیوں اور تمام شراکت داروں کو عمل درآمد میں تیزی لانے اور ہم آہنگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ یو این آئی ڈی او او جنرل کانفرنس کے 18 ویں اجلاس میں ابو ظبی اعلامیہ کی منظوری دی گئی جس میں نجی شعبے پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جامع اور پائیدار صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے اور عالمی خوشحالی کے حصول کے لئے اتحاد بنائے۔ ابو ظبی اعلامیہ قومی معیشت کو ترقی دینے کے لئے سرکاری و نجی شراکت داری سے استفادے کی تاریخ کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے ۔ ابوظبی اعلامیہ نجی شعبے کی کمپنیوں کا عالمی اتحاد پیدا کرنے کے لئے ایک روڈ میپ طے کرے گا جو صنعتی نظام کو مزید جامع اور پائیدار بنانے کے مشترکہ نقطہ نظر کی تشکیل میں مدد دے گا۔ ابوظبی اعلامیہ عالمی صنعتی شراکت داری جیسے گلوبل مینوفیکچرنگ اینڈ انڈسٹریلائزیشن سمٹ سے بھی متاثر ہے جو یو این آئی ڈی او یو اے ای کا مشترکہ اقدام ہے اور جس نے نجی شعبے کے ساتھ 100 سے زیادہ شراکتیں قائم کیں اور جدید تکنیکی اقدامات کو آگے بڑھایا۔ یو این آئی ڈی او کی جنرل کانفرنس نے متعدد کلوز ڈور کمیٹی اجلاس منعقد کیے جن میں تنظیم کے بجٹ اور 2030 ایجنڈے کی فراہمی اور پائیدار ترقیاتی اہداف کی تکمیل سے وابستہ دیگر تفصیلات مرتب کی گئیں۔ کانفرنس میں 7 ویں جامع اور پائیدار صنعتی ترقی فورم کی میزبانی بھی کی گئی۔"صنعت کے لئے شراکت داری 2030" کے تحت منعقدہ آئی ایس آئی ڈی صنعتی کاری کے لئے UNIDO کے نقطہ نظر کا ایک مرکزی ستون ہے۔ یو این آئی ڈی او جنرل کانفرنس میں متعدد اعلی سطح ضمنی پروگراموں اور متحدہ عرب امارات ۔یو این آئی ڈی او کی مشترکہ نمائش بھی ہوئی جس میں 450 افراد شریک ہوئے۔ اس میں یوتھ اینڈ انٹرپرینیورشپ، صنف، صنعت 4.0، پائیدار توانائی، صنعتی پارکس اور سرکلر اکانومی پر توجہ دی گئی۔ صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کی حکمت عملی (2022-23) کا بھی یو این آئی ڈی او کی جنرل کانفرنس کے موقع پر آغاز کیا گیا۔ یہ حکمت عملی UNIDO کے اس وژن کو فروغ دیتی ہے جس میں خواتین اور مرد یکساں طور پر سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور آئی ایس آئ ڈی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس موقع پر محمد بن راشد آل مکتوم پروگرام کے تحت ترقی یافتہ ممالک کی آٹھویں وزارتی کانفرنس میں گلوبل میکر چیلنج کے کوہورٹ 2 کا بھی آغاز کیا گیا۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://www.wam.ae/en/details/1395302801008

WAM/Urdu