محمد بن راشد، محمد بن زاید اور امارات کے حکمرانوں کی قومی دن کی تقریبات میں شرکت

  • محمد بن راشد ومحمد بن زايد والحكام يشهدون الاحتفال باليوم الوطني الــ 48 تحت شعار "إرث الأولين"
  • محمد بن راشد ومحمد بن زايد والحكام يشهدون الاحتفال باليوم الوطني الــ 48 تحت شعار "إرث الأولين"
  • محمد بن راشد ومحمد بن زايد والحكام يشهدون الاحتفال باليوم الوطني الــ 48 تحت شعار "إرث الأولين"
  • محمد بن راشد ومحمد بن زايد والحكام يشهدون الاحتفال باليوم الوطني الــ 48 تحت شعار "إرث الأولين"
  • محمد بن راشد ومحمد بن زايد والحكام يشهدون الاحتفال باليوم الوطني الــ 48 تحت شعار "إرث الأولين"
  • محمد بن راشد ومحمد بن زايد والحكام يشهدون الاحتفال باليوم الوطني الــ 48 تحت شعار "إرث الأولين"
  • محمد بن راشد ومحمد بن زايد والحكام يشهدون الاحتفال باليوم الوطني الــ 48 تحت شعار "إرث الأولين"
  • محمد بن راشد ومحمد بن زايد والحكام يشهدون الاحتفال باليوم الوطني الــ 48 تحت شعار "إرث الأولين"
  • محمد بن راشد ومحمد بن زايد والحكام يشهدون الاحتفال باليوم الوطني الــ 48 تحت شعار "إرث الأولين"
  • محمد بن راشد ومحمد بن زايد والحكام يشهدون الاحتفال باليوم الوطني الــ 48 تحت شعار "إرث الأولين"
ویڈیو تصویر

ابوظبی، 2 دسمبر ، 2019 (وام) ۔۔ صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید آل نھیان کی سرپرستی میں نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم، ابو ظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نھیان، امارات کے حکمرانوں اور ولی عہد شہزادوں نے بیس ہزار تماشائیوں کے ہمراہ ابو ظبی کے زاید سپورٹس سٹی اسٹیڈیم میں متحدہ عرب امارات کے 48ویں قومی دن کی تقریبات کے موقع پر ایک اسٹیج شو دیکھا ۔ "ہمارے آباواجداد کی میراث" کے عنوان سے 50 منٹ کے یادگاری اسٹیج پروڈکشن شو کی تیاری میں 70 ممالک کے پانچ ہزار ماہرین مشترکہ کاوشیں شامل تھیں۔ شو میں 6 سے 60 سال سے زیادہ عمر کے 900 اداکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔ متحدہ عرب امارات میں اس سے پہلے تماشائیوں نے اس قسم کے شو کا مشاہدہ کبھی نہیں کیا تھا۔ شو میں داستانوں کے ذریعے اس قابل فخر قوم کے تہذیبی ورثے کی عکاسی کی گئی۔ تقریب میں شارجہ، عجمان، فجیرہ، ام القوین اور راس الخیمہ کے حکمرانوں ، شاہ ملائیشیا سلطان عبد اللہ سلطان احمد شاہ، چیچنیا کے صدر رمضان قادروف اور آرمینیا کے صدر آرمین سرکیسیان نے بھی شرکت کی۔ متحدہ عرب امارات کے 20,000 شہریوں اور رہائشیوں کے ساتھ ساتھ کابینہ کے متعدد وزراء، معززین اور اعلی عہدیدار بھی تقریب میں شریک تھے۔ قومی دن کی تقریبات کا آغاز نومبر میں صدر مملکت کے نمائندے مرحوم شیخ سلطان بن زاید آل نھیان مرحوم کی زندگی اور میراث کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ہوا تھا۔ شیخ سلطان نے ایک متمول میراث چھوڑی جو متحدہ عرب امارات کے آباؤ اجداد کی ابدی میراث میں شامل ہوجائے گی۔ وہ متحدہ عرب امارات کے ورثے اور اس کے لوگوں کے رواج اور روایات کو محفوظ رکھنے کے لئے پرعزم تھے۔ خراج تحسین میں ایسی ویڈیوز اور نظمیں پیش کی گئیں جن میں اماراتی شناخت کے انوکھے پہلووں کو فروغ دینے میں شیخ سلطان کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر انھیں متحدہ عرب امارات کا قومی ترانہ بجا کر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اسٹیج شو کے دوران دس ہزار مربع میٹر پر پھیلے اسٹیج پر اداکاروں نے متحدہ عرب امارات کی تاریخی داستانوں کے ذریعے اپنے آباؤ اجدادکی دانشمندی ، عزم ، اعتماد، ہمت اور وقار کی عکاسی کی۔ اداکاروں نے ان کہانیوں، اقدار اور اسباق پر بھی روشنی ڈالی جس پر متحدہ عرب امارات آج بھی عمل پیرا ہے۔ شو میں ایک ایسی لڑکی کی کہانی سنائی گئی جو چاند کا خواب دیکھتی تھی اور اس کی روشنی سے حکمت اور علم سے متاثر ہو کر ایسے اشعار لکھتی تھی جو متحدہ عرب امارات کی تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے ۔ اوشہ خلیفہ السویدی کا نام پورے عرب میں فتت العرب کے نام سے مشہور ہوا۔ ان کہانیوں میں ایک ایسی والدہ کے دکھ کو بھی دکھایا گیا جو چاندنی رات میں سمندر کنارے کھڑے ہوکر صبر سے اپنے بیٹے کی واپسی کی منتظر رہتی ہے ۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو آنے والی نسلوں کو صبر اور عزم کا سبق دیتی ہے۔ ایک اور کہانی میں ایک غوطہ خور کی داستان سنائی گئی ۔ اس میں ایک غوطہ خور کو ایک خوبصورت اور قیمتی موتی مل جاتا ہے جس کے بعد اس کی قسمت جاگ جاتی ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی دولت کھو دیتا ہے مگر وہ کبھی ناامید نہیں ہوتا اور محنت جاری رکھتا ہے۔ "ہمارے آباؤ اجداد کی میراث" شو اماراتی لوک داستانوں سے اخذ کردہ اسباق اور اقدار کا آئینہ دار تھا ۔ یہ کامیاب شو ہزاروں شرکا کی اجتماعی کاوشوں اور ٹیم ورک کو نتیجہ ہے جنہوں نے متحدہ عرب امارات کے ورثے کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے گزشتہ کئی مہینوں سے سخت محنت سے یہ کہانیاں تیار کیں۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302807830

WAM/Urdu