پیر 18 جنوری 2021 - 1:30:15 صبح

وام فیچر : 18 برس سے وہیل چیئر پر منحصر رئیسا الفلاسی کیلئے زندگی بدستور خوبصورت ہے

  • photo 1
  • photo 3
  • photo 2

بنسال عبدالقادر سے دبئی ، 14 دسمبر ، 2019 (وام) ۔۔ رئیسا الفلاسی کو جنیاتی مرض کی وجہ سے تقریبا دو دہائی قبل وہیل چیئر تک محدود ہوجانا پڑا تھا اور اس دوران ہر سال مشکلات کا تھا لیکن اس کا مسکراتے ہوئے کہنا ہے کہ " زندگی بدستور خوبصورت " ، " میرے خواب ہیں ، میں اپنی ملازمت اور پیرالمپکس میں اچھا کرکے دکھانا چاہتی ہوں " – الفلاسی ، وزیراعظم آفس میں وزارت کابینہ امور میں ایگزیکٹو اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں نے امارات نیوز ایجنسی ، وام کو گفتگو میں بتایاکہ وہ جب متحدہ عرب امارات جامعہ میں جیالوجی کی بیچلرز ڈگری کے تیسرے سال میں زیر تعلیم تھیں تو تب انہیں چلنے میں دشواری کا سامنا ہوا ، پھر اسکے تصور میں بھی نہیں تھا کہ دو برس کے اندر وہ چلنے کے قابل نہیں رہیں گی ۔ انہوں نے بتایا کہ تب 1999 تھا اور انکے مرض کا عرب امارات میں علاج ممکن نہیں تھا جس کے نتیجے میں جرمنی علاج کرانے گئیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوسکا ۔ الفلاسی نے بتایا کہ انکا مرض " مسکولر ڈسٹرافی " کہلاتا ہے جو جنیاتی طور پر لاحق ہوتا ہے ۔ جب یہ مرض شروع ہوا تو وہ چلتے ہوئے گرجاتی تھیں اور 2001 میں انہیں وہیل چیئر کو اپنا مستقل ساتھی بنانا پڑا ۔ انہیں اپنی تعلیم بھی ادھوری چھوڑنی پڑی کیونکہ اس تعلیم میں لازمی فیلڈ ورک کرنا ہوتا تھا – انہوں نے بتایا کہ انکے اہلخانہ ہمیشہ ان کے لئے معاون اور حوصلہ افزائی کا باعث رہے ، وہ دوسروں پر انحصار چھوڑ کر مضبوط رہنا چاہتی تھیں ۔ " میں اپنی حالت بہتر بنانے کیلئے پرعزم رہی اور خودانحصاری کیلئے ملازمت اختیار کی "- پھر انہوں نے سیکریٹریل پریکٹس ، کمپیوٹر مہارت اور انگریزی زبان کی تعلیم حاصل کی اور 2006 میں دبئی ہیلتھ اتھارٹی میں انہیں ریسپشنسٹ کی ملازمت مل گئی ۔ وہیل چیئر پر رہتے ہوئے انہوں نے کام کاج اور زندگی سے لطف اندوز ہونا شروع کیا ۔ انکا کہنا ہے کہ تب سے وہ کسی بھی عام انسان کی طرح زندگی گزار رہی ہیں – وام سے گفتگو میں ایک موقع پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہاکہ شاید وہ اس وہیل چیئر پر دوسروں سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاسکتی ہیں ۔ ڈی ایچ اے کے ساتھ بارہ سالہ ملازمت کے دوران انکے مثبت طرزعمل اور سخت محنت پر انہیں کئی تعریفی اسناد اور اہم تربیتی پروگرام کا موقع ملا ، یہیں سے انہیں سینئر ایڈمنسٹریٹر آفیسر کی ملازمت تک پہنچنے کا موقع بھی ملا – وزارت کابینہ امور نے انکی شہرت سنتے ہوئے انہیں دسمبر 2018 میں ملازمت کی پیشکش کردی ، تب سے وہ ایگزیکٹو اسسٹنٹ کے عہدے پر رہتے ہوئے اہم ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ انکی ملازمت چیلنجز اور مواقع سے بھرپور ہے ، وہ اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے 2014 سے پیرالمپکس میں مسلسل سرگرمی سے شرکت کرتی آرہی ہیں – انہوں نے باؤل جیسے پیرالمپکس کے کھیل بوکیا میں چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ، وہ اسکے کئی عالمی ایونٹس میں شریک ہوچکی ہیں اور اپنی فتح کی خوشی کو بھی مناتی ہیں ۔ وہ ٹوکیو میں 2020 کے پیرالمپکس مقابلوں میں شرکت کیلئے پرعزم ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ مشکلات درپیش ہونے کے باوجود انکے خواب زندہ ہیں ، ہرگزرتے سال کے ساتھ انکی صحت مزید خراب ہوتی رہتی ہے ، انکے پٹھے مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں ، انکے جسم کا ہر پٹھا متاثر ہورہا ہے اور وہ اسکی تکلیف محسوس بھی کرتی ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ کم ازکم انکا ذہن مکمل اور بہترین انداز میں کام کرتا ہے ، وہ اپنی وہیل چیئر کو نعمت سمجھتی ہیں جس پر وہ گھوم سکتی ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ جب تک وہ زندگی میں حصہ نہ لیں تب تک زندگی مکمل نہیں ہوتی ، وہ یہ کررہی ہیں جس میں انہیں اہلخانہ اور دوستوں کا تعاون حاصل ہے – الفلاسی کا بھائی بھی مرض کی ایسی صورتحال سے دوچار ہے لیکن وہ بغیر وہیل چیئر کے چل پھر سکتا ہے ۔ الفلاسی کا کہنا ہے کہ اللہ نے انہیں زندگی عطا کی ، وہ حوصلہ افزائی والی تقاریر سنتی اور قرآن پاک پڑھتی ہیں ، یہی ان کی زندگی کا ذریعہ ہیں ۔ وہ کبھی مستقبل کیلئے پریشان نہیں ہوتیں بلکہ حال میں رہتی ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ زندگی سے متعلق شکایت رکھنے والوں کی یہ سوچنا چاہیئے کہ وہ دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک میں رہتے ہیں ۔ یہ ملک جسمانی یا ذہنی معذوری کا شکار افراد کیلئے بہترین جائے مقام ہے ۔ انکا کہنا ہے کہ نائب صدر و وزیراعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی طرف سے ایسے افراد کو پرعزم افراد قرار دینا ازخود حوصلہ افزائی کا باعث ہے – زندگی کے بارے میں اپنے تجربے اور سبق سے متعلق انہوں نے وام کو بتایا کہ جب تک آپ میں سانس ہے آپ کو حوصلہ شکن نہیں ہونا چاہیئے – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://wam.ae/en/details/1395302810195

WAM/Urdu