ونڈانرجی میں خواتین نمائیندگی پر ایرینا کی نئی رپورٹ کل جاری ہوگی


ابوظہبی ، 9 جنوری ، 2020 ، (وام) ۔۔ قابل تجدید توانائی کی عالمی ایجنسی ، ایرینا ہوا کی توانائی سے بجلی پیداوار کے شعبے میں خواتین کی نمائیندگی سے متعلق کل رپورٹ جاری کرنے جارہی ہے ، اس رپورٹ کا اجراء ایرینا میں متحدہ عرب امارات کے مشن کی میزبانی میں ہونے والے خواتین کے اعلی سطح کے عشائیہ میں کیا جائے گا – ابوظہبی میں ایرینا کی 10ویں جنرل اسمبلی کے پہلے دن کے اختتام پر جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں ونڈانرجی میں خواتین کیلئے ملازمت کے موجود مواقع اجاگر کیئے جائیں گے کیونکہ اس شعبے میں عالمی سطح پر ابھی بامقصد صنفی مساوات کی منزل حاصل کیا جانا باقی ہے ۔ رپورٹ اجراء کے موقع کو " قابل تجدید توانائی میں خواتین " کا موضوع دیا گیا ہے جبکہ رپورٹ میں اس سروے کے نتائج شامل ہونگے جس کو ایرینا ، گلوبل ونڈ انرجی کونسل اور انرجی ٹرانزیشن کیلئے عالمی خواتین نیٹ ورک نے مشترکہ طور پر مرتب کرایا – ڈی جی ایرینا فرانسسکو لا کمیرا کا کہنا ہے کہ قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی سے ملازمت کے کثیر مواقع پیدا ہوسکتے ہیں اور اس امر کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ سماجی و معاشی ترقی کے اس امر میں سب کو برابر فوائد ملیں جس میں صنفی مساوات کلیدی اہمیت کی حامل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس نئے سروے میں معلوم ہوا ہے کہ اس شعبے کیلئے خواتین میں بے پناہ صلاحتیں موجود ہیں لیکن ہمارے معاشروں میں موجود رکاوٹیں انہیں آگے آنے سے روک رہی ہیں – ایرینا کی طرف سے 2019 میں جاری کئے گئے جائزے کے مطابق تیل و گیس کے روایتی توانائی ذرائع میں 22 فیصد خواتین ورکرز ہین جبکہ قابل تجدید توانائی میں انکی شرح 32 فیصد ہے اور ونڈ انرجی میں یہ شرح 21 فیصد ہے ۔ ایرینا کے مطابق 2011 سے 2019 تک قابل تجدید توانائی میں دنیا بھر میں 40 لاکھ کے قریب ملازمت مواقع پیدا ہوئے – ایرینا میں عرب امارات کی مستقل مندوب ڈاکٹر نوال الحوسنی کا کہنا ہے کہ عرب امارات نے اپنی طویل مدتی حکمت عملی میں صنفی مساوات کو کلیدی اہمیت دے رکھی ہے اور قابل تجدید توانائی کا شعبہ اس تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ ترجمہ ۔ تنویر ملک – https://wam.ae/en/details/1395302814962

WAM/Urdu