پیر 21 ستمبر 2020 - 4:37:21 صبح

حکمت اور سفارتکاری خطے میں کشیدگی کم کرنے میں غالب آرہی ہے: سلطان الجابر

  • jkrs4010.jpg
  • jkrs4020.jpg
  • jkrs4013.jpg
  • jkrs4052.jpg
  • jkrs4043.jpg
  • jkrs4026.jpg
  • jkrs3974.jpg
  • whatsapp image 2020-01-11 at 1.12.18 pm
  • jkrs4032.jpg
ویڈیو تصویر

ابوظبی، 11 جنوری، 2020 (وام) ۔۔ وزیر مملکت اور ادنوک گروپ کے سی ای او ڈاکٹر سلطان بن احمد سلطان الجابر نے کہا ہے کہ خطے میں گزشتہ کچھ دنوں سے جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی ختم ہوگئی ہے اور یوں لگتا ہے کہ حکمت، توازن اور سفارتکاری غالب آرہی ہے۔ ابوظبی ہفتہ پائیداری، ADSW کے موقع پر اٹلانٹک کونسل گلوبل انرجی فورم کی افتتاحی تقریب میں توانائی کے رہنماؤں اور پالیسی سازوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ اگرچہ جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال برقرار ہے تاہم 2020 میں عالمی معیشت گذشتہ سال کے مقابلے میں بہتر حالت میں دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی تناؤ میں کمی، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں تجدید نمو اور عالمی سطح پر صارفین کی قوت خرید میں اضافہ عالمی معیشت کو تقویت دینے کے نمایاں آثار ہیں۔ ڈاکٹر الجابر نے توانائی کی طلب پر ان عالمی معاشی رجحانات کے اثرات پر روشنی ڈالی اور تیز رفتاری سے ارتقا پذیر توانائی کی صورتحال پر متحدہ عرب امارات اور ادنوک کے لائحہ عمل کا خاکہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاشی نقطہ نظر کا مطلب ہے کہ توانائی کی مختصر اور طویل المیعاد مانگ دونوں مضبوط ہیں۔ اگلی دو دہائیوں کے دوران ہم توانائی کی طلب میں کم از کم 25 فیصد کی ترقی دیکھیں گے۔ انھوں نے کہا ک یہ اضافہ کی ایسی شرح ہے جسے کسی بھی ایک ذریعے سے پوری نہیں کیا جاسکتا اور کم اخراج کے ساتھ مزید توانائی پیدا کرنا ایک اہم چیلنج ہے۔ ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں ہم اس چیلنج کو ایک موقع اور اپنی موجودہ توانائی کی قدرتی توسیع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ پچھلے 10 سال میں ہم نے شمسی صلاحیت میں 400 فیصد اضافہ کیا ہے اور متحدہ عرب امارات اور دنیا بھر کے 25 ممالک میں 12 گیگا واٹ تک پہنچنے والے قابل تجدید توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنے گھریلو پورٹ فولیو میں صاف جوہری توانائی بھی شامل کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات خطے کا پہلا ملک ہوگا جو اس سال بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تعاون سے ایک محفوظ تجارتی اورپرامن جوہری بجلی گھر چلائے گا۔ ڈاکٹر الجابر نے اس بات پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات توانائی کے صاف ذرائع کو چلانے کے لئے عالمی منڈیوں میں توانائی کی قابل اعتماد فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ذمہ داری کے ساتھ اپنے ہائیڈرو کاربن وسائل میں اضافہ کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ رواں سال کے آخر تک ادنوک میں خام تیل کی پیداواری صلاحیت کو 4 لاکھ بیرل روزانہ تک بڑھانے کے لئے کوشاں ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وہ گیس میں خود کفالت اور بعدازاں برآمد کنندہ بننے کے لئے بھی اقدامات کررہے ہیں۔ مضبوط ماحولیاتی انتظام پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ کمپنی متحدہ عرب امارات کے مرحوم بانی شیخ زاید بن سلطان آل نھیان کے ذمہ دارانہ پیداوار کے اصولوں پر عمل درآمد کرتی ہوئی اپنی ویلیو چین میں توسیع کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ ادنوک ذمہ داری کے ساتھ دنیا کو درکار توانائی فراہم کرتی ہے لہذا کمپنی مارکیٹ کی زیادہ شفاف صورتحال کی تشکیل میں بھی مدد فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آئی سی ای فیوچر ابوظبی کے پیچھے یہی محرک ہے جسے انٹرکانٹینٹل ایکسچینج ، آئی سی ای نے دو ماہ قبل ادنوک اور بڑی بین الاقوامی تیل کمپنیوں (آئی او سی) کے ساتھ شراکت میں مربان ابو ظبی کے خام مال کے دستخط گریڈ کو تجارت کرنے کے لئے شروع کیا تھا۔ ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ اس سال متحدہ عرب امارات اگلے 50 سال کی راہ پر گامزن ہوکر ایسے مستقبل کے لئے تیاری کر رہا ہے جس میں ماحولیاتی اثرات کو کم توانائی سے زیادہ توانائی کی ضرورت ہوگی اور اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا بہت ضروری ہوگا۔ دو روزہ اٹلانٹک کونسل گلوبل انرجی فورم کا انعقاد ابوظبی ہفتہ استحکام کے موقع پر متحدہ عرب امارات کی وزارت توانائی، ادنوک اور مبادلہ انوسٹمنٹ کمپنی کے اشتراک کیا جارہا ہے۔ 11 سے 12 جنوری تک ہونے والے اس دو روزہ پروگرام میں بین الاقوامی اور علاقائی سیاسی اور صنعتی ماہرین شرکت کررہے ہیں تاکہ وہ اس سال کے لئے عالمی توانائی کا ایجنڈا مرتب کریں اور بدلتے ہوئے توانائی کے نظام کے طویل مدت جغرافیائی اقتصادی مضمرات کا جائزہ لیں۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302815159

WAM/Urdu