متحدہ عرب امارات کاربن کے اخراج پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے: ماہرین

  • atlantic council - gef 2020
  • headshot_david_livingston-e1568141611843
  • 02731-1024x682
  • large-44607822611660
ویڈیو تصویر

ابوظبی، 11 جنوری، 2020 (وام) ۔۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا خاتمہ اور موافقت کے حصول کی طرف عالمی توانائی کے شعبے کی منتقلی اکثر ایک متنازعہ اور مہنگا عمل سمجھا جاتا ہے تاہم بحر اوقیانوس کونسل گلوبل انرجی فورم میں شامل ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پیرس معاہدے 2030 کے عہد کے مطابق کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے لئے Carbon Capture Utilisation and Storage, CCUS کو آپنا کر مستقبل کے توانائی رہنما کی حیثیت اپنی صلاحیت کو ثابت کیا ہے۔ کاربن کے اخراج کی روک تھام وہ عمل ہے جو گیس کی تنصیبات سے نکلنے والی CO2 کو جمع کرکے اسے تیل کے ذخیروں میں انجکٹ کرنا ہے تاکہ خام بحالی میں اضافہ ہو ۔ اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کے مطابق CCUS توانائی کے شعبے میں کاربن کی روک تھام کے طویل مدت اقدامات میں ایک اہم ٹیکنالوجی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ متعدد یورپی ممالک اس شعبے میں ایک قدم پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ تمام تر مشکلات اور تحفظات کے باوجود پائیدار توانائی کی صنعت کے لئے متحدہ عرب امارات نے CCUS شعبے کی کامیابی اور مستقبل میں توانائی کی منتقلی کے لئے ایک معاون ریگولیٹری اور پالیسی پر مبنی ماحول کا وجود ثابت کیا ہے۔ مبادلہ انوسٹمنٹ کمپنی کے پیٹرولیم اور پیٹرو کیمیکلز کے سی ای او موسابہ الکعبی نے کہا ہے کہ کئی ایسے اہم تکنیکی چیلنجز ہیں جو توانائی کی منتقلی میں آسانی پیدا کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مستقبل میں عالمی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لئے توانائی کے تمام وسائل بشمول ہائیڈرو کاربن اور قابل تجدید ذرائع کی ضرورت ہوگی۔ الکعبی نے کہا کہ ان کی زیادہ سے زیادہ کارکردگی کے ساتھ اہم بات یہ ہے کہ ہم صنعت میں کاربن کا اخراج کم کرنے کو مواقع میں تبدیل کرنے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ادنوک نے کاربن کے اخراج پر قابو پانے کا پروگرام 2009 میں شروع کیا تھا جس سے تیل کی بہتر بازیابی کے لئے اس خطے کے پہلے CO2 انجیکشن منصوبے کا آغاز ہوا۔ 2016 میں ادنوک اور مصدرنے تجارتی پیمانے پر CCUS سہولت شروع کرنے کے لئے تعاون کیا جو امارات اسٹیل پلانٹ سے 0.8 ملین ٹن CO2 کا اخراج روکتی ہے۔ 2019 میں ادنوک نے ملک میں اپنی دوسری CCUS سہولت تیار کرنے کا اعلان کیا جو تیل کی بازیابی کے لئے اس کی گیس پروسیسنگ سے 1.9 اور 2.3 ملین ٹن CO2 کا اخراج روکے گی۔ اٹلانٹک کونسل کے آب و ہوا اور اعلی درجے کی توانائی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ لیونگسٹن نے کہا کہ ورلڈ بینک ہمیں بتاتا ہے کہ اگر پیرس معاہدے کو پورا کرنے میں ہمارے پاس کوئی گنجائش ہے تو ہمیں فی ٹنCO2 اخراج روکنے کیلئے 70ڈالر یا اس سے زیادہ کی ضرورت ہے۔ لیونگسٹن نے امارات کی نیوز ایجنسی، وام کو بتایا کہ عالمی بینک اور پیرس معاہدے کے اہداف کو پورا کرنے کے لئے کاربن پر قابو پانا ضروری ہے۔ CCUS ٹیکنالوجیز کو استعمال کرنے کے لئے متحدہ عرب امارات کی کوششوں کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لیونگسٹن نے کہا کہ آگے کی سوچ رکھنے والی کمپنیاں اس سلسلے میں اقدامات کررہی ہیں اور وہ واقعی یہ یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ وہ کل کی ٹیکنالوجیز تیار کررہی ہیں۔ گلوبل سی سی ایس انسٹی ٹیوٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کا CCUS ٹیکنالوجی اپنانے کا تجربہ کامیاب ثابت ہوا ہے جس کے تحت 2017 میں سیمنٹ کی صنعت کے لئے CO2 کی قیمت 140 تک پہنچ گئی جبکہ قدرتی گیس اور لوہے اور اسٹیل کے لئے بالترتیب 97 اور 90 ڈالر ہے۔ اٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو جان رابرٹس نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے خطے خاص طور پر متحدہ عرب امارات اندرونی توانائی کی تنوع کی حکمت عملیوں کا مطالعہ کرنے کے لئے ایک دلچسپ خطہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں post-fossil پرمنحصر توانائی کی صنعت کی تلاش میں زبردست اعتماد ہے۔ اٹلانٹک کونسل گلوبل انرجی فورم سال توانائی ایجنڈا مرتب کرنے کے لئے حکومتی، صنعتی اور پالیسی سازرہنماؤں کا ایک بین الاقوامی اجتماع ہے۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ https://wam.ae/en/details/1395302815278

WAM/Urdu