وام رپورٹ : جاپانی وزیراعظم کا دورہ عرب امارات 48 سالہ گہرے تعلقات کا عکاس ہے

  • web size a1 en copy
  • eok4subwkailfw7

ابوظہبی ، 13 جنوری ، 2020 ، (وام) ۔۔ جاپان کے وزیراعظم شنزو ابے کا آج متحدہ عرب امارات کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان 48 سالہ سٹریٹجک شراکت داری میں ایک اہم سنگ میل ہے ۔ متحدہ عرب امارات کے 1971 میں قیام کے بعد اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے اولین ممالک میں جاپان بھی شامل ہے ، اس کے نتیجے میں جاپان میں عرب امارات کا سفارتخانہ دسمبر 1973 میں اور ابوظہبی میں جاپانی سفارتخانے کا قیام اپریل 1974 میں عمل میں آیا تھا – دونوں ممالک کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم ہوتے گئے اور دونوں ممالک کی قیادت کی خواہشات کے مطابق باہمی تعاون مضبوط بنیادوں پر استوار ہوا ۔ اسی کے نتیجے میں دونوں ممالک کی قیادت نے ایک دوسرے کے ملک کے دورے کیئے ، اس سلسلے میں مرحوم شیخ زاید بن سلطان النھیان نے مئی 1990 میں جاپان کا دورہ کیا اور وہاں جاپانی قیادت بالخصوص شہنشاہ اکیہیٹو سے ملاقات کی تھی – ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر عزت مآب شیخ محمد بن زاید ال نھیان نے 2007 میں جاپان کا تین روزہ تاریخی دورہ کیا اور تب وہاں شہنشاہ کے ساتھ ملاقات کے علاوہ وزیراعظم شنزو ابے سے بھی ملے ۔ پھر 2014 میں عزت مآب شیخ محمد بن زاید نے ٹوکیو میں شہنشاہ اکیہیٹو سے ملاقات کی جبکہ جاپانی وزیراعظم سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مختلف شعبوں میں وسعت اور استحکام دینے پر تبادلہ خیال بھی کیا – عزت مآب شیخ محمد بن زاید سے شنزو ابے کی 2018 میں ملاقات کے دوران دونوں ممالک میں سٹریٹجک تعاون پر تبادلہ خیال کے ساتھ باہمی تعلقات کو مختل شعبوں میں مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی ۔ اس دورے کے اختتام پر جاری مشترکا اعلامیہ میں دونوں ممالک نے ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا اور جامع سٹریٹجک شراکت داری اقدام ، سی ایس پی آئی کے فریم ورک کے تحت مشترکا حکمت عملی اور ویژن کی تشکیل پر زور دیا – متحدہ عرب امارات میں مقیم جاپانیوں کی تعداد 2016 میں چار ہزار ہوگئی تھی جبکہ سینکڑوں اماراتی باشندے بھی تعلیمی اور سرمایہ کاری مقاصد کیلئے جاپان میں تھے ۔ دونوں ممالک میں اقتصادی تعلقات مسلسل استحکام پاتے رہے ہیں اور دنیا میں جاپان ، عرب امارات کا بڑا تجارتی پارٹنر ملک ہے ۔ عرب امارات کی ترقی میں جاپان کی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا ہے ، خصوصا ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی ، قابل تجدید توانائی ، ہوابازی اور صحت عامہ شعبے میں یہ تعاون بہت قابل قدر ہے – جاپان کو تیل فراہمی والے ممالک میں عرب امارات دوسرا بڑا ملک ہے ، ستمبر 2019 میں جاپان کی کل تیل درآمدات کا 9ء29 فیصد عرب امارات سے آیا جبکہ 2018 میں جاپان نے ابوظہبی میں 40 سال کیلئے تیل کنسیشن حاصل کیا ۔ سیاحت کا شعبہ بھی دونوں ممالک میں تعلقات کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کرتا چلا آرہا ہے ۔ عرب امارات کی قومی ایئرلائنز جاپان کے کئی شہروں کیلئے روزانہ پروازیں چلارہی ہیں جن میں ہنیڈا ایئرپورٹ ، کنسئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ناریتا انٹرنیشنل ایئرپورٹ قابل ذکر ہیں – دونوں ممالک میں مضبوط ثقافتی تعلقات بھی قائم ہیں ۔ ایکسپو 70 اوسکا ، آفٹر ففٹی ایئرز میں ابوظہبی نے خصوصی پویلین قائم کیا تھا جبکہ ایکسپو 2020 دبئی میں قابل ذکر جاپانی شرکت متوقع ہے ۔ تعلیمی شعبے میں باہمی تعاون کا شاندار سلسلہ جاری ہے ، عرب امارات میں پہلے جاپانی سکول کا قیام 1978 کو عمل میں آیا تھا اور وہاں 2009 سے اماراتی طلبہ کیلئے عربی زبان ، اسلامی تعلیمات اور معاشرتی علوم کی تعلیم بھی شروع کی گئی – اس وقت بھی جاپان کے مختلف اعلی تعلیمی اداروں میں سو سے زائد اماراتی طلبہ بیچلرز ، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ان میں زیادہ تر کے مضامین انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ہیں – دونوں ملک خلائی تحقیق کے شعبے میں قابل قدر تعاون کررہے ہیں ، اکتوبر 2018 میں امارات کے مصنوعی سیارہ ، خلیفہ سیٹ کو جاپان کے تنیگاشیما خلائی مرکز سے راکٹ کے ذریعے خلاء میں بھیجا گیا تھا ۔ گزشتہ سال ستمبر میں محمد بن راشد خلائی مرکز نے جاپانی خلائی تحقیقاتی ادارے جاکسا کے تعاون سے روبوٹ کیمرا کے بارے میں تعلیمی ایونٹ منعقد کرایا تھا ۔ اماراتی خلاء باز ھزاع المنصوری نے اس میں بتایا تھا کہ عالمی خلائی سٹیشن سے کس طرح روبوٹ کیمرا کے ذریعے براہ راست نشریات کی جاتی ہیں – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://wam.ae/en/details/1395302815889

WAM/Urdu