محمد بن زاید نے دس اداروں کو زاید پائیداری ایوارڈ دیئے

  • محمد بن زايد يكرم الفائزين بـ"جائزة زايد للاستدامة 2020"
  • محمد بن زايد يكرم الفائزين بـ"جائزة زايد للاستدامة 2020"
  • محمد بن زايد يكرم الفائزين بـ"جائزة زايد للاستدامة 2020"
  • محمد بن زايد يكرم الفائزين بـ"جائزة زايد للاستدامة 2020"
  • محمد بن زايد يكرم الفائزين بـ"جائزة زايد للاستدامة 2020"
  • محمد بن زايد يكرم الفائزين بـ"جائزة زايد للاستدامة 2020"
  • محمد بن زايد يكرم الفائزين بـ"جائزة زايد للاستدامة 2020"
  • محمد بن زايد يكرم الفائزين بـ"جائزة زايد للاستدامة 2020"
ویڈیو تصویر

ابوظبی، 13 جنوری، 2020 (وام) ۔۔ ابوظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نھیان نے ابوظبی ہفتہ استحکام کے آغاز پر دس اداروں کو زاید پائیداری انعام کے ایوارڈ پیش کیے۔ 3 ملین ڈالر کے اس سالانہ انعام کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنیوں، غیر منافع بخش تنظیموں اور ہائی اسکولوں کے جدید، موثر اور متاثر کن حل کے اعتراف میں ایوارڈ دیئے جاتے ہیں۔ پہلے یہ ایوارڈ صرف توانائی سے متعلقہ حل پر دئیے جاتے تھے تاہم 2018 سے اسے پانچ شعبوں جن میں صحت، خوراک، توانائی، اور عالمی ہائی اسکول بھی شامل ہیں تک وسعت دی گئی۔ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ محمد نے کہا کہ ہر سال زاید پائیداری انعام اپنے عالمی مشن پر استحکام اور مختلف شعبوں میں جدت طرازی کی نئی ​​کامیابیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اگلے 50 سال کی تیاری میں ہم نے اپنے بانی والد مرحوم شیخ زاید کے اس وژن کو پورا کرنے کا عہد کیا ہوا ہے جو انھوں نے پائیدار مستقبل کے لئے پیش کیا۔ انھوں نے کہاکہ متحدہ عرب امارات صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید آل نھیان کی سربراہی میں زاید پائیداری انعام جیسے متعدد پروگراموں اور اقدامات کے ذریعے استحکام کو مزید تقویت بخشتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات معاشروں کی خدمت کرنے اور ضرورت مندوں کو دینے کا پیغام پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ ایوارڈ جیتنے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے شیخ محمد نے کہا کہ آنے والے جدت پسند پائیداری کے چیمپئن بنتےہوئے ہماری سماجی و ثقافتی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ شیخ محمد نے جیتنے والوں کو مبارکباد پیش کی اور پانچ کیٹیگریز میں انعامات پیش کیے۔ عالمی ہائی اسکولوں کی کیٹیگری کو چھ عالمی خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تقریب میں متحدہ عرب امارات اور بیرون ملک سے مختلف سربراہان مملکت، وزراء اور دیگر سینئر حکام اور ماضی کے فاتحین نے بھی شرکت کی۔ صحت کے شعبے میں سویڈن کے GLOBHEکو ڈرون پر مبنی خدمات میں مدد کے لئے ملکیتی عالمی ڈرون ڈیٹا پلیٹ فارم کے لئے ایوارڈ ملا۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے 48 ممالک میں 3,600سے زیادہ ڈرون پائلٹ خود کار طریقے سے ڈیٹا کے تجزیاتی پلیٹ فارم سے منسلک ہیں۔ اس نظام کے ذریعے ملاوی اور جھیل وکٹوریہ میں ہیضے اور ملیریا کی وبا سے متاثرہ ایک لاکھ افراد کو سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے صحت کی خدمات فراہم کی گئیں۔ کھانے کی کیٹیگری میں گھانا کی اوکاوفو فاؤنڈیشن کو اس کے اسمارٹ فون ایپلی کیشن کے لئے ایوارڈ دیا گیا۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے کاشتکاروں کو کیڑے مار ادویات کے کو کم کرنے اور فصلوں کی پیداواری صلاحیت اور فصلوں کی کٹائی میں 50 فیصد تک اضافہ کرنے میں مدد ملی ہے جس سے ان کے منافع اور آمدنی میں اضافہ ہوا۔ توانائی کی کیٹیگری میں 2020 کا ایوارڈ (EWB) Electrician Without Borders کو ملا۔ اسے یہ ایوارڈ بین الاقوامی غیر منافع بخش امدادی ایجنسی کو مہاجر کیمپوں میں اعلی معیار کے شمسی آلات کی فراہمی اور مہاجرین کو سامان کی مرمت کے لئے تربیت فراہم کرنے پر دیا گیا۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والی سیرس امیجنگ اس سال پانی کی کیٹیگری میں فاتح رہی۔ اسے زراعت میں پانی کے استعمال کو بہتر بنانے کے لئے ملکیتی اسپیکٹرل امیجنگ سینسرز اور اے سیرس امیجنگ کی ڈیٹا سے چلنے والی ٹیکنالوجیوں کے زیادہ موثر طریقوں کے استعمال پر یہ انعام دی گیا ۔سیرس امیجنگ اس وقت امریکہ اور آسٹریلیا میں تقریبا دس لاکھ ایکڑ اراضی کو خدمات فراہم کررہی ہے۔ زاید پائیداری سے متعلق انعام کی جیوری اور آئس لینڈ کے سابق صدر اولافر راگنار گرسمن نے کہا کہ ہر سال زاید پائیداری انعام کے فاتح ہمیں حیران کرتے ہیں اور ایسی جدت سے ہمارے دل موہ لیتے ہیں جو دنیا کے سب سے پسماندہ لوگوں کیلئے مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت اور زاید پائیداری انعام کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے کہا کہ ہم متحدہ عرب امارات کی دانشمندانہ قیادت کے وژن اور ہدایت کی انتہائی قدر کرتے ہیں جو انعام کی کامیابی اور مقاصد کے لئے لازمی ہے۔ انھوں نے اس سال کے ایوارڈ کے تمام فاتحین کو مبارکباد پیش کی ۔ ڈاکٹر الجابر نے کہاکہ ایوارڈ کے مقاصد مستقبل کی ضروریات پوری کرنے اور چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے جدت پسندوں کی اگلی نسل کی تیاری ہے۔ عالمی ہائی اسکولوں کے زمرے میں چھ عالمی خطوں سے چھ سکول ایوارڈ وصول کرتے ہیں اور اپنے اسکول یا مقامی کمیونٹی کے لئے تیار کردہ حل کی تشکیل یا ان میں اضافے کے لئے تجاویز پیش کرتے ہیں۔ یہ کیٹیگری 2012 میں متعارف کرائی گئی تھی اور اس کا مقصد نوجوانوں کو جدت پسند اور پائیداری کی ترغیب دینا ہے تاکہ وہ پائیدار مستقبل کی تیاری میں کردار ادا کرسکیں ۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302815914

WAM/Urdu