محمد بن راشد کا دبئی فیوچر ڈسٹرکٹ کا آغاز، نئی معیشت کیلئے ایک ارب درہم کے فنڈ کا اعلان


دبئی، 14 جنوری، 2020 (وام) ۔۔ نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے دبئی کونسل کے دوسرے اجلاس کے دوران اعلان کیا کہ نئی معیشت کے لئے دبئی میں ایک نیا ڈسٹرکٹ تشکیل دیا جائے گا۔ "دبئی فیوچر ڈسٹرکٹ" کے نام سے نیا ڈسٹرکٹ دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر، امارات ٹاورز اور دبئی انٹرنیشنل فنانشل سنٹر کو براہ راست ایک پل کے ذریعے منسلک کرے گا اور یہ نئی معیشت کی ترقی کے لئے وقف مشرق وسطی کا سب سے بڑا ڈسٹرکٹ ہوگا۔ شیخ محمد نے نئی معیشت کی کمپنیوں کی مدد کے لئے ایک ارب درہم کا فنڈ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا جو دبئی فیوچر ڈسٹرکٹ سے کام کریں گی اور ان کے پاس دبئی کی نئی معیشت چلانے اور عالمی سطح پر اس شہر کو ترجیحی منزل بنانے کی صلاحیت ہوگی ۔ نیا ڈسٹرکٹ نئے فنڈ کے ساتھ کاروبار کے لئے غیرمعمولی مالی اعانت اور قانون سازی کی سہولیات فراہم کرے گا۔ شیخ محمد نے 2025 تک دبئی کی غیر ملکی تجارت کے حجم کے لئے ایک نئے 2 ٹریلین درہم کے ہدف کا اعلان بھی کیا اور اس مقصد کیلئے دنیا بھر میں 50 دفاتر قائم کیے جائیں گے۔ ان میں سے ہر ایک دفتر کو دبئی کی بے مثال تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے کا کام سونپا جائے گا۔ دبئی کونسل کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شیخ محمد بن راشد نے کہا کہ دبئی دنیا میں نئی معیشت کا دارالحکومت بن جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ 50 اہداف کا ایجنڈا جسے ہم اگلے پانچ سال میں حاصل کرنا چاہتے ہیں اس میں نئی معیشت پر مرکزی توجہ ہوگی۔ انکا کہنا تھا کہ دبئی کونسل امارت کے لئے نئے معاشی شعبے کھولنے اور اپنے موجودہ شعبوں کو تبدیل کرنے پر توجہ دے گی۔ شیخ محمد بن راشد نے کہا کہ ہم نئی بین الاقوامی شراکت داری کے ساتھ لاجسٹک، قانونی اور خدمات کے ذریعے مستقل ترقی کے ساتھ دبئی کی غیر ملکی تجارت میں ایک بڑی تبدیلی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تجارت اور سیاحت کو فروغ دینے کے لئے دبئی کے نئے دفاتر پوری دنیا میں قائم کئے جائیں گے اور بیرونی کوششوں کو یکجا کرنے سے دبئی کی معیشت کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ شیخ محمد بن راشد نے ہدایت کی کہ امارت کے سرکاری محکموں کے ڈائریکٹرز اور اور عوامی شخصیات کو پیغام بھیجے جائیں کہ وہ براہ راست مجھے ترقیاتی تجاویز پیش کریں۔ انھوں نے کہا کہ 2020 بہت بڑی ترقی کا آغاز ہوگا اور یہ وہ سال ہے جو ہمیں پوری طاقت کے ساتھ اگلے عشرے تک لے جائے گا۔ دبئی کے حکمران کی ہدایات میں آئندہ پانچ سالوں میں غیر تیل کی غیر ملکی تجارت کا حجم 2 ٹریلین درہم تک بڑھانے کے لئے ایک نیا مقصد طے کرنا شامل ہے۔ انھوں نے ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور سی ای او سلطان احمد بن سلیم کو امارت کے لئے نئی غیر ملکی منڈیوں کی تلاش ، رسد کا نظام تیار کرنے اور مقامی برآمدات کی مسابقت بڑھانے کی ذمے داری سونپی۔ ان ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور تمام پروموشنل طریقوں سے مطلوبہ اہداف کے حصول کو ممکن بنایا جائے گا۔ کمیٹی کو دبئی کی غیر ملکی تجارت کے لئے نئی مارکیٹیں کھولنے، اسٹریٹجک بین الاقوامی شراکت داری قائم کرنے، مقامی برآمدات کی مسابقت بڑھانے، نئے برآمدی شعبے کی تشکیل، دبئی میں رسد کے نظام کو فروغ دینے کے امکانات کی تلاش کے لئے اپنے قیام کے 30 دن کے اندر اندر ایک لائحہ عمل پیش کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ دبئی کونسل کے اجلاس کے دوران شیخ محمد نے کہا کہ دبئی کے تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے شعبوں کو فروغ دینے کے لئے دنیا بھر میں 50 دفاتر قائم کرکے بیرون ملک پروموشنل اور مارکیٹنگ کی کوششوں کو یکجاہونا چاہئے۔ یہ دفاتر عالمی سرمایہ کاروں، جدت کاروں، تاجروں، سیاحوں اور ہنرمندوں کی خدمت کے لئے مراکز فراہم کریں گے۔ وہ دبئی کی بین الاقوامی موجودگی بڑھانے، غیر ملکی آپریشنل اخراجات کم کرنے، عالمی تشہیری کوششوں کو دوگنا کرنے، دبئی کی اجناس، خدمات، علم، ثقافتی اور تخلیقی برآمدات میں اضافے، امارت کی سیاحت، سرمایہ کاری، مالی اور علمی آمدنی میں اضافہ اور صلاحیتوں اور طلباء کو راغب کرنے پر بھی کام کریں گے۔ دبئی فیوچر ڈسٹرکٹ کا اقدام بہت سے مشترکہ منصوبوں کے لئے ایک مرکز کی حیثیت سے کام کرنا ہے۔ اسے 4 جنوری 2020 کی اس دستاویز کے مطابق شروع کیا جائے گا جس کا اعلان شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کیا تھا۔ آنے والے دنوں میں مستقبل کی معیشت کے فروغ کیلئے ایک پرکشش سرمایہ کاری، تکنیکی، قانونی، خدمت اور سازگار ماحول کے ذریعے دس اقدامات کا آغاز کیا جائے گا جو خطے اور عالمی سطح پر اپنی نوعیت میں بہترین ہونگے ۔ پہلا اقدام دبئی فیوچر اکانومی فنڈ ہے۔ یہ دبئی اور خطے میں مستقبل کی معیشت کے کاروباری افراد کے لئے مختص ایک ارب درہم کا فنڈ ہے اور اس کے ذریعے ٹیک اسٹارٹ اپ کو ابتدائی مراحل میں ہر قسم کی مدد اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس فنڈ کا مقصد مستقبل کی معیشت کی کمپنیاں قائم کرنے، جی ڈی پی میں نئی ​​معیشت کی کمپنیوں کی شراکت میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دبئی کی مستقبل کی معیشت کی کمپنیوں میں نجی شعبے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں مدد دینے کے لئے دبئی کو ترجیحی منزل کے طور پر فروغ دینا ہے۔ مستقبل کی معیشت کی کمپنیوں کا دفتر دوسرا اقدام ہے جس میں مستقبل کی معیشت کی کمپنیوں کے لئے ایک دفتر قائم کیا جائے گا اور اسے مستقبل کے کاروباری افراد کو پانچ سالہ خصوصی رہائشی ویزا جاری کرنے کا کام سونپا جائے گا۔ یہ جدید منصوبوں کے لائسنس جاری کرنے، آئندہ کی معیشت کے کاروباری افراد کو بینکاری کی سہولیات فراہم کرنے ، تاجروں کو عالمی معیار کی قانونی خدمات پیش کرنے اور کام کے مقامات، تربیت کی خدمات اور ورکشاپس مہیا کرے گا۔ تیسرا اقدام مستقبل کی معیشت کی ٹیکنالوجیز کو جدت اور تجربہ کرنے کے لئے قانون سازی کے لائسنس کی فراہمی ہے۔ اس اقدام کے تحت مستقبل کی معیشت کے نئے کاروباری افراد اپنی جدتوں کو جانچنے کے لئے قانونی لائسنس حاصل کرسکیں گے۔ اس فہرست میں چوتھا اقدام مستقبل کی معیشت کے علمبرداروں کے لئے رہائش کی قیمتوں میں کمی ہے۔ اس اقدام کے تحت مستقبل کے معیشت کے کاروباری ماہرین 3,000 درہم سے کم قیمت پر رہائش کے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ڈسٹرکٹ 2071 رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز کے ساتھ مل کر مقررہ قیمت پر رہائش فراہم کرنے کیلئے کام کرے گا۔ پانچویں اقدام میں مستقبل کے معاشی کاروباریوں کو مالی اعانت فراہم کرنے اور ان سے مشورہ کرنے کے لئے ایک متحدہ پلیٹ بنایا جائے گا۔ اس اقدام کے ذریعے متعدد کاروباری افراد، ماہرین اور مستقبل کی معیشت میں سرمایہ کاروں کے لئے متحدہ پلیٹ فارم کے طور پر ڈسٹرکٹ 2071 میں جگہ مختص کی جائے گی تاکہ مستقبل کی معیشت کی کمپنیاں اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی سرگرمیاں شروع کرنے اور انھیں وسعت دینے کے لئے ضروری فنڈز اور مشاورت حاصل کرسکیں۔ مستقبل کی معاشی کمپنیوں کے لئے ایک نیا ایکسچینج چھٹا اقدام ہے۔ ڈی آئی ایف سی کے تحت مستقبل کی معیشت کی کمپنیوں کے لئے مختص اسٹاک ایکسچینج انہیں زیادہ لچکدار نظام میں مالی اعانت حاصل کرنے اور سرمایہ بڑھانے کی سہولت فراہم کرے گا۔ ساتویں اقدام میں مستقبل کی اکانومی کی کمپنیوں کے انکیوبیٹرز اور ایکسلٹر کے لئے سب سے بڑی جگہ کا قیام ہے۔ یہ جگہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا انکیوبیٹر ہوگی جو مستقبل کی معیشت کی کمپنیوں انکے ابتدائی مراحل میں جدت طرازی کی ترقی اور پروٹوٹائپس کی تربیت کے ذریعے مدد فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ شراکت داروں کے نیٹ ورک اور دستیاب سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔ فیوچر اکانومی ریسرچ سینٹر آٹھواں اقدام ہے۔ یہ متعدد خصوصی لیبارٹریوں (روبوٹکس، مصنوعی ذہانت وغیرہ) کے ذریعے تحقیق کے ڈیزائن میں کردار ادا کرے گا تاکہ یہ مرکز سرکاری اور نجی شعبے کے تعاون سے سائنسی تحقیق کا ایک پلیٹ فارم تشکیل دے۔ نویں اقدام کے تحت مستقبل کی معیشت کی کمپنیاں قومی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونگی ۔ اس پروگرام کا مقصد ملکیت کی ثقافت کو مستحکم کرنا اور ملک میں سرکاری و نجی یونیورسٹی کے طلباء کو معیشت کی کمپنیاں قائم کرنے کی ترغیب دینا ہے تاکہ طلبا اپنے جدید نظریات کو مستقبل کی معیشت کی کمپنیوں میں تبدیل کرنے کے لئے کام کر سکیں۔ آخر میں دبئی فیوچر ڈسٹرکٹ مستقبل کی معیشت اور کمپنیوں کے بارے میں سب سے بڑے اور اہم بین الاقوامی پروگراموں اور کانفرنسوں کی میزبانی کرے گا۔ ان پروگراموں کا مقصد مستقبل کے معاشی رہنماؤں کو بات چیت کرنے، ترقی کے امکانات کی کھوج لگانےاور اپنے منصوبوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے عالمی پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ دبئی فیوچر ڈسٹرکٹ پروجیکٹ میں دبئی کے تین نمایاں شعبے شامل ہیں: دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر ، امارات ٹاورز اور دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر۔ ان تمام نے اپنے قیام کے بعد سے دبئی اور متحدہ عرب امارات کی معیشت میں بڑی کامیابیوں کے حصول میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ علاقے ایک پل کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہوں گے۔ دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر، امارات ٹاورز اور دبئی انٹرنیشنل فنانشل سنٹر کا انضمام دبئی فیوچر ڈسٹرکٹ کو دنیا کا سب سے بڑا جدت کا علاقہ بنائے گا۔ اس سے دبئی کی خطے کا سب سے بڑا معاشی مرکز ہونے کی حیثیت مزید مضبوط ہوگی اور ان تاجروں کے لئے کامیابی کے زیادہ مواقع میسر آئیں گے جو مشرق وسطی، ایشیاء اور افریقہ کی منڈیوں تک رسائی چاہتے ہیں۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302816140

WAM/Urdu