منگل 11 اگست 2020 - 4:28:42 شام

ای این ای سی کی عالمی مستقبل کی توانائی کے سربراہ اجلاس میں شرکت


ابوظبی، 14 جنوری، 2020 (وام) ۔۔ امارات نیوکلیئر انرجی کارپوریشن، ای این ای سی نےابو ہفتہ استحکام 2020 کے تحت ہونے والے عالمی مستقبل کی توانائی کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی ہے۔ ای این ای سی نے اجلاس کو متحدہ عرب امارات کی توانائی کی حکمت عملی 2050 سے آگاہ کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس حکمت عملی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 70 فیصد کمی، صاف توانائی کے استعمال میں 50 فیصد کا اضافہ اور صدی کے وسط تک توانائی کی کارکردگی میں 40 فیصد بہتری شامل ہے۔ جوہری توانائی متحدہ عرب امارات کے گرڈ میں قابل تجدید ذرائع کی بڑھتی ہوئی سطح کو بیس لوڈ بجلی فراہم کرنے کی تکمیل کرے گی جبکہ اسی دوران متحدہ عرب امارات کے بجلی کے شعبے سے کاربن کے اخراج کا بھی خاتمہ کای جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ براکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ کے مکمل آپریشنل ہونے پر یہ متحدہ عرب امارات کے بجلی کی طلب کا 25 فیصد پورا کرے گا اور اس سے سالانہ 21 ملین ٹن کاربن کے اخراج کو روکنے میں مدد ملے گی۔ ای این ای سی کی آپریٹنگ اور بحالی کا ماتحت ادارہ نواہ انرجی کمپنی اپنی آپریشنل تیاری کی سرگرمیوں کے ساتھ مستقل اور محفوظ طریقے سے ترقی کر رہا ہے اور توقع ہے کہ پہلی جوہری ایندھن اسمبلیوں کو یونٹ 1 میں اس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران لوڈ کردیا جائے گا۔ ایف اے این آر اس وقت آپریٹنگ لائسنس کی درخواست کے سخت جائزے لے رہا ہے اور IAEA اور WANOکے سینئر جوہری ماہرین نے آپریٹنگ انفراسٹرکچر کی مضبوطی کا بھی متعدد بار جائزہ لیا ہے۔ قومی ریگولیٹری جائزے اور بین الاقوامی طور پر کامیاب توثیق کے بعد ہی FANR یونٹ 1 کے آپریٹنگ لائسنس کی منظوری دے سکے گا۔ براکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ کا یونٹ 1 جلد ہی دنیا بھر میں پرامن جوہری توانائی کے تقریبا 450 پلانٹس میں سے ایک بن جائے گا۔ نیوکلیئر توانائی محفوظ طریقے سے دنیا کی تقریبا 10 فیصد بجلی کی ضروریات پورا کرتی ہے اور توانائی کے شعبے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر کنٹرول پانےمیں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ پُرامن جوہری توانائی کم کاربن والی توانائی کا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا وسیلہ ہے۔ 2018 میں اس توانائی کے ذریعے 2,627 ملین ٹن CO2 کے اخراج کو روکا گیا ۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302816112

WAM/Urdu