مصدر اور سیپسا کا سپین و پرتگال میں قابل تجدید توانائی کیلئے اشتراکی منصوبہ


ابوظہبی ، 15 جنوری ، 2020 ، (وام) ۔۔ مبادلہ انوسیٹمنٹ کمپنی کے ذیلی ادارے اور دنیا میں قابل تجدید توانائی کی ممتاز کمپنی ، مصدر اور مبادلہ اور کیرلائل گروپ کے مشترکہ ملکیتی کمپنی سیپسا نے سپین اور پرتگال میں قابل تجدید توانائی منصوبوں کی تعمیر کیلئے مشترکا کمپنی کے قیام کا معاہدہ کرلیا – ففٹی ، ففٹی بنیادوں پر اس مشترکا منصوبے کا اعلان ابوظہبی پائیدار ہفتہ 2020 کے موقع پر کیا گیا ، اس موقع پر ایروسپیس ، قابل تجدید و آئی سی ٹی ، مبادلہ انویسٹمنٹ کمپنی کے سی ای او خالد عبداللہ القبیسی مبادلہ انویسٹمنٹ میں پٹرولیم و پروکیورمنٹ کے سی ای او اور سیپسا کے ڈائریکٹر و چیئرمین مصبح الکعبی بھی موجود تھے ۔ نئی کمپنی کا نام " کیپسا مصدر رینیوایبلز " ہوگا اور یہ اس منصوبے میں 5 سو سے 6 سو میگاواٹ بجلی پیداوار کے ابتدائی ہدف کیلئے ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرے گی – مصدر کے سی ای او محمد جمیل کا اس موقع پر کہنا تھا کہ قابل تجدید توانائی میں انکی کمپنی مضبوط ساکھ رکھتی ہے اور سپین و پرتگال کو اس شعبے میں تعاون فراہم کرنے کا یہ منصوبہ قابل فخر ہے ، جزیرہ نما ایبیرین خطے قابل تجدید توانائی کی پیداوار کیلئے پرکشش اہمیت کا حامل ہے اور یہ منصوبہ انکی کپمنی کی عالمی ساکھ مزید اجاگر کرنے میں بھی معاون ہوگا – سیپسا کے سی ای او فیلیپ بویسو کا کہنا تھا کہ توانائی کے تبدیل ہوتے عالمی تقاضوں میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع ناگزیر اور کلیدی اہمیت کے حامل ہوچکے ہیں ، مصدر کے ساتھ سپین اور پرتگال میں ایسے منصوبوں کیلئے اشتراک عمل اس شعبے میں گرانقدر ترقی کا ثبوت بھی ہے – پرتگال میں 2018 کے دوران کل بجلی طلب کا 55 فیصد قابل تجدید ذرائع سے حاصل کیا جارہا تھا اور یہ ملک 2030 تک اس حصہ کو 80 فیصد تک لے جانا چاہتا ہے ، سپین بھی اس دہائی میں اپنی بجلی کی ملی جلی طلب میں قابل تجدید ذرائع کا حصہ 74 فیصد کرنے کا ہدف بنائے ہوئے ہے – سپین میں مصدر کمپنی 2008 سے ٹریسول انرجی کی وساطت سے سرگرم ہے اور وہاں 1 لاکھ 7 ہزار سے زائد گھروں کو توانائی فراہم کررہی ہے ، اس نے وہاں دنیا میں پہلا 24 گھنٹے بجلی فراہم کرنے والا کمرشل بنیادوں کا سولر تھرمل پلانٹ بھی بنا رکھا ہے ۔ سیپسا نے سپین میں 8ء28 میگاواٹ بجلی پیداوار والا ونڈ فارم قائم کررکھا ہے ، یہ پیداوار 20 ہزار گھروں کی ضرورت پورا کرتا ہے جبکہ فضا میں 32 ہزار ٹن سالانہ کاربن کا اخراج بھی روکتا ہے – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://www.wam.ae/en/details/1395302816348

WAM/Urdu