جمعرات 09 جولائی 2020 - 6:39:12 صبح

عرب امارات نے مشرق وسطی میں کوریئن ثقافت اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا : کوریائی وزیر

  • 2190417076984717178
  • 7331d397-69b9-4f0e-aad7-0eb40da81373.jfif

ابوظہبی ، 12 فروری ، 2020 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات تاریخی ثقافتی اور قدیم تہذیبی وسائل کا حامل ہونے کے ساتھ بڑی معیشت ہونے کے ناطے کوریائی ثقافت کو دیگر مشرق وسطی ممالک میں فروغ دینے کیلئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔ یہ بات جنوبی کوریا کے اعلی عہدیدار وزیر برائے ثاقفت ، کھیل و سیاحت پارک یانگ وو نے کوریائی اخبار دونگ اے ایبو میں اوپ ایڈ تحریر میں لکھی ۔ یہ اخبار کوریا کے تین بڑے اخباروں میں شامل ہے جس کی روزانہ اشاعت 12 لاکھ ہے – ان کے مطابق عرب امارات ، مشرق وسطی میں ثقافتی ڈائیلاگ کیلئے کوریا کا پہلا شراکت دار تھا ، اس نے کوریائی ثقافت کو فروغ دینے میں متحرک کردار ادا کیا ۔ ثقافتی تعاون کیلئے دونوں ممالک کے وسائل میں تعاون دونوں کی ثقافت کیلئے معاون ہے – کوریائی وزیر نے اپنے حالیہ دورہ عرب امارات کے دوران کوریا ، عرب امارات ثقافتی ڈائیلاگ 2020 کی تقریب میں شرکت کی تھی اور اس موقع پر انہوں نے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کیلئے تبادلہ خیال بھی کیا ۔ وزیر نے روایتی اماراتی ثقافت کے اظہار میں گہری دلچپسی بھی دکھائی اور اسے شاندار قرار دیا ۔ انہوں نے کہاکہ وہ جب اس موقع پر ایک تقریب میں سٹیج پر دکھائے جانے والے الایالا رقص میں شریک ہوئے تو انہیں خاصی رغبت محسوس ہوئی کیونکہ یہ رقص کوریا کے گنگن سولئی ڈانس سے خاصا ملتا ہے ۔ انہوں نے لکھا کہ سماجی رابطوں اور بحث و مباحثے کیلئے امارات کا مجلس کلچر بھی کوریا کے سارنگبنگ کلچر سے کافی مماثلت رکھتا ہے – مارچ 2018 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات تب فروغ ملا تھا جب کوریئن صدر مون جائی ان کے دورہ عرب امارات کے موقع پر انہیں خصوصی سٹریٹجک شراکت داری کی سطح پر لے جایا گیا تھا ۔ اس کے بعد ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر عزت مآب شیخ محمد بن زاید ال نھیان کے فروری 2019 میں دورہ کوریا کے بعد بھی دونوں ممالک میں تعلقات کو مستحکم و موثر بنانے کی نئی بنیاد رکھی گئی تھی – کوریائی وزیر لکھتے ہیں کہ انہوں نے دورہ عرب امارات میں عرب امارات کی ہم منصب نورا بنت محمد الکعبی سے ملاقات کی اور اس موقع پر ان کا جو پرتپاک خیرمقدم کیا گیا وہ قابل ستائش تھا ۔ انہوں نے اس دورے میں زاید یونیورسٹی کے کورین کلب کے ارکان سے بھی ملاقات کی تھی اور وہ وہاں کوریائی ثقافت اور زبان کی ترویج کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے – انہوں نے اماراتی ثقافت کو بھی کوریا میں فروغ دلانے کے عزم کا اظہار کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی 40 سالہ شراکت داری کو بھرپور منانے اور اسے مستحکم رکھنے کیلئے ثقافتی تعاون اور رابطے اہم کردار ادا کرتے ہیں – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://wam.ae/en/details/1395302823339

WAM/Urdu