جنوبی کوریا متحدہ عرب امارات کے تعاون سے عالمی جوہری منڈیوں کی تلاش کا خواہاں ہے: سفیر

  •  مع سفير كورية الجنوبية ----3
  •  مع سفير كورية الجنوبية ----7
ویڈیو تصویر

ابوظبی، 19 مارچ، 2020 (وام) ۔۔ ابوظبی کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر میں جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات کے کامیاب تعاون نے عالمی جوہری توانائی کی منڈیوں میں مواقع تلاش کرنے کی خاطر دونوں ملکون کے درمیان مزید تعاون کے دروازے کھول دئیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں جنوبی کوریا کے سفیر کوون یونگ وو نے امارات نیوز ایجنسی، وام کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ انھیں امید ہے کہ دونوں ملک تعاون کے اگلے مرحلے میں داخل ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات دیگر ممالک کی جوہری توانائی کی منڈیوں میں داخل ہونے کے لئے باہمی تعاون کر سکتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی فیڈرل اتھارٹی برائے نیوکلیئر ریگولیشن، ایف اے این آر نے 3 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ اس نے جوہری ایندھن کی اسمبلیوں کو براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ 1 میں لوڈ کرنے کی نگرانی کی ہے جو جنوبی کوریا کے کنسورشیم کے ذریعے تعمیر کیا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ متحدہ عرب امارات باضابطہ طور پر عرب دنیا کا پہلا ایٹمی توانائی چلانے والا ملک بن گیا ہے۔ جنوبی کوریا کے سفیر نے واضح کیا کہ دونوں ملکوں نے اب تک بیرون ملک منصوبوں پر مشترکہ تعاون کے بارے میں کوئی باضابطہ بات چیت نہیں کی ہے۔ کوون یونگ وو نے کہا کہ ایٹمی بجلی پیدا کرنے میں جدید تکنیکی صلاحیتوں کے پیش نظر کوریا اس شعبے میں ایک نئی طاقت بن کر ابھرا ہے اور ہمیں مستقبل میں مزید مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر اس طرح کے مواقع کو بروئے کار لاسکتے ہیں۔ کوریائی سفیر نے توقع ظاہر کی کہ براکہ ایٹمی بجلی گھر میں کوریا اور متحدہ عرب امارات کے کامیاب تجربے کی وجہ سے مشرق وسطی کے خطے میں مشترکہ تعاون کے لئے اس طرح کے کئی مواقع پیدا ہونگے ۔ انھوں نے کہا کہ براکہ کوریا کے لئے اس لئے اہم ہے کیونکہ یہ ہمارا بیرون ملک جوہری توانائی کا پہلا منصوبہ ہے۔ یہ نئے ماحول (صحرا) میں ایٹمی بجلی گھر بنانے کا کوریا کا پہلا تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے جدید اور قابل اعتماد جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ملک کی حیثیت سے کوریا کی صلاحیت ثابت ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں مستقبل میں اچھے مواقع میسر آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم اس خطے میں اس طرح کے مشکل منصوبے انجام دینے کے اہل ہیں۔ اس سال دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کی 40 ویں سالگرہ منارہے ہیں اور ایسے میں ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون گذشتہ برسوں میں سب سے اہم پیش رفت ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات دفاع ، توانائی ، جوہری توانائی ، زراعت ، ماحولیات ، تعلیم ، ثقافت اور بہت سارے دیگر اہم شعبوں میں تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کی شراکت داری جنوبی کوریا کے صدر مون جا ان کے 2018 میں متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کا باعث بنی۔ انہوں نے کہا کہ براکہ پاور پلانٹ میں تعاون سے باہمی تعلقات میں تمام شعبوں کو فروغ ملا ہے۔ معاشی تعلقات کے بارے میں جنوبی کوریا کے سفیر نے کہا کہ 2019 میں دوطرفہ تجارت 13 ارب ڈالر رہی جو اطمینان بخش نہیں ہے۔ انہوں نے اسے فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ متحدہ عرب امارات میں توانائی ، تعمیرات ، بینکاری ، سفر اور سیاحت کے شعبوں میں تقریباََ 170 کورین کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ کورین سفیر نے کہا کہ کوریا اور متحدہ عرب امارات چوتھے صنعتی انقلاب میں تعاون کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے خصوصی معاشی زون [فری زون] اور دنیا کی پہلی مصنوعی ذہانت کی یونیورسٹی محمد بن زاید یونیورسٹی برائے مصنوعی ذہانت نے بھی تعاون کے نئے شعبے کھولے ہیں۔ نئے کورونا وائرس، COVID-19 کے بارے میں جنوبی کوریا کے سفیر نے کہا کہ اگرچہ جنوبی کوریا سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں سے ایک ہے تاہم انکی حکومت نے اس وائرس سے نمٹنے کے لئے جامع کوششوں سے صورتحال پر قابو پالیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے فضائی نقل و حمل کے عالمی مرکز کے طور پر COVID-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بہت ذمہ داری سے کام کیا ہے۔ کوریائی سفیر نے امید ظاہر کی کہ کوریا، متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک مل کر بہت جلد اس وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302831770

WAM/Urdu