اماراتی طلبہ کا تیار کردہ مصنوعی سیارہ جون میں خلاء میں بھیجا جائے گا


راس الخیمہ، 19 مارچ، 2020 (وام) ۔۔ امریکن یونیورسٹی آف راس الخیمہ کے طلبہ کا تیار کردہ مصنوعی سیارہ جون 2020 میں روس سے سویوز 2 راکٹ کے ذریعے خلاء میں بھیجا جائے گا۔ سنٹر آف انفارمیشن، کیمونیکشن اور نیٹ ورکنگ ایجوکیشن اینڈ انوویشن کے ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرعبدالحلیم جلاد نے کہا ہے کہ MeznSat Nanoسیٹلائٹ کو زمین سے 565 کلومیٹر کے مدار سے گرین ہاؤس گیس کی concentrations کا پتہ لگانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ منصوبہ کامیابی کے ساتھ تنقیدی جائزے کا اہم مرحلہ پاس کرچکا ہے اور مارچ 2020 میں جانچ کے مرحلے پر آگے بڑھنے سے پہلے سیٹلائٹ اسپیس لیب میں کلین روم میں تعمیر کے آخری مراحل سے گزر رہا ہے۔ یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی، امریکن یونیورسٹی آف راس الخیمہ اور خلیفہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا اشتراک عمل ہے۔ MeznSat متحدہ عرب امارات میں طلباء کا تیار کردہ پہلا سائنسی سیٹلائٹ ہوگا۔ اس منصوبے کا مقصد متحدہ عرب امارات کی خلائی صنعت کو قابل، تجربہ کار اور تربیت یافتہ گریجویٹس فراہم کرنا ہے تاکہ متحدہ عرب امارات میں اس شعبے میں تحقیق کی راہ ہموار ہو۔ اس منصوبے میں انڈرگریجویٹ طلباء کو MeznSat کا ڈیزائن تیار کرنے اور اسکی تعمیر کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور یہ متحدہ عرب امارات کے آس پاس کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین کی سطح کے حوالے سے اعداد و شمار جمع کرنے اور تجزیہ کرنے کے لئے استعمال ہوگا۔ اس منصوبے کا مقصد خلائی ایجنسی کے استعداد کار کی ترقی کے اسٹریٹجک اہداف کا ادراک کرنا، سائنسی تحقیق کو فروغ دینا اور قومی خلائی شعبے کی سرگرمیوں کو مربوط کرنا ہے۔ مدار میں آنے کے بعد طلباء کی ٹیم متحدہ عرب امارات کے گراؤنڈ اسٹیشن پر حاصل کردہ ڈیٹا کی نگرانی اور تجزیہ کرے گی۔ ماحول کی نگرانی میں شامل عمل اور مہارت روایتی زمینی مشاہداتی پروگراموں کے دوران کام کرنے والے افراد کی طرح ہی ہے۔ اس منصوبے سے اماراتی نوجوانوں کو متحدہ عرب امارات کے قومی خلائی پروگرام اور اس کے مستقبل کے منصوبوں کے لئے ضروری مہارتیں تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302831816

WAM/Urdu