عرب امارات میں کورونا کے مزید 7 مریض صحتیاب ، 85 نئے مریضوں کی تشخیص

  • الإمارات تعلن تسجيل 85 حالة إصابة جديدة بفيروس كورونا و شفاء 7 حالات إضافية
  • الإمارات تعلن تسجيل 85 حالة إصابة جديدة بفيروس كورونا و شفاء 7 حالات إضافية
ویڈیو تصویر

ابوظہبی ، 25 مارچ ، 2020 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس ، کووڈ 19 کے مزید 85 مریض تشخیص ہوئے ہیں جبکہ پہلے سے زیر علاج مریضوں میں سے مزید 7 صحتیاب بھی ہوگئے ہیں – مریضوں سے متعلق نئی معلومات وزارت صحت کی جانب سے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران جاری کی گئیں جس میں ملک کے صحت شعبہ کی سرکاری ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحوسنی نے بتایا کہ اس وباء کی صورتحال اور اس کی روک تھام کیلئے کیئے جانے والے اقداماےت پر روشنی ڈالی – انہوں نے بتایا کہ نئے مریضوں کا تعلق مختلف قومیت سے ہیں ، ان نئے 85 مریضوں میں ایک ، ایک مریض جبوتی ، کینیڈا ، ہنگری ، روس ، بلجیئم ، ماریشس ، تیونس ، سربیا ، وینزویلا ، سویڈن ، برازیل ، رومانیہ اور اومان کے ہیں ۔ دو ، دو مریض فلسطین ، انڈونیشیاء ، کولمبیا ، جاپان ، جرمنی ، مصر ، مراکش اور سپین کے ہیں ۔ تین ، تین مریض ہالینڈ ، آسٹریلیا ، جنوبی افریقہ ، فلپائن ، فرانس ، ہندوستان ، امریکا اور چین کے ہیں ۔ چار ، چار مریض سعودی عرب اور اٹلی کے ، پانچ ، پانچ مریض پاکستان اور ایران کے اور سات ، سات مریض عرب امارات اور برطانیہ کے ہیں ۔ نئے مریضوں کی تشخیص کے بعد اس وباء کے کل مریضوں کی تعداد 333 ہوگئی ہے – انہوں نے صحتیاب ہونے والے سات مریضوں کی تفصیلات بھی جاری کیں جس کے مطابق ان میں پانچ بنگلہ دیشی اور دو پاکستانی شامل ہیں ۔ انہیں مکمل صحتیاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے اور اس طرح کل صحتیاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 52 ہوگئی ہے – انہوں نے عوام کو صحت تحفظ کے احتیاطی اقدامات پر سختی سے عمل پیرا رہنے ، شہریوں کو گھروں پر ہی مقیم رہنے اور انتہائی ضرورت پر ہی باہر جانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر نئے مریض کی تشخیص متعلقہ حکام کی ذمہ داری کو بڑھا دیتی ہے کیونکہ انہوں نے اس نئے مریض سے رابطے میں آنے والے سب افراد کی جانچ کرنا ہوتی ہے ۔ اسی عمل کے دوران ہی مزید نئے کیسز سامنے آجاتے ہیں ۔ ایسا عموما ان افراد کے ساتھ ہوتا ہے جو بیرون ملک کا سفر کرکے آئے اور یہاں مقامی افراد کو وائرس کی منتقلی سبب بنے ۔ الحوسنی کا کہنا تھا کہ وباء کی روک تھام کے قانون پر عمل درآمد کیا جارہا ہے اور حفاظتی اقدامات کی پیروی نہ کرنے والوں کو اس قانون کے ذریعے قید اور جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://www.wam.ae/en/details/1395302832917

WAM/Urdu