ہفتہ 24 اکتوبر 2020 - 5:18:55 صبح

شیخ محمد ذاتی طور پر طبی عملے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں: فلپائنی نرس

  • nurse jessa (2)
  • nurse jessa (3)
  • nurse jessa (1)
ویڈیو تصویر

دبئی، 28 مئی 2020 (وام)۔۔ فلپائن کی ایک نرس کا کہنا ہے کہ متعدی بیماری میں مبتلا ایسے مریض جو الگ تھلگ کمروں میں تنہائی سے بھی لڑ رہے ہوں کو امید دلانا نرسنگ کا ایک اہم حصہ ہے۔ دبئی کے راشد اسپتال میں متعدی بیماریوں کے یونٹ میں کام کرنے والی 31 سالہ نرس جیسہ ڈان ایباگ نے کہا کہ مایوسی کے وقت ہم اپنے مریضوں کو روحانی، ذہنی اور جذباتی مدد فراہم کرنے کے لئے امید کا ایک ذریعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ابو ظبی کے ولی عہد نے ذاتی طور پر میری تعریف کی تو مجھے لگا کہ وہ امید پیدا کرنے والی تمام نرسوں کا اعتراف کررہے ہیں۔ انھوں نے یہ باتیں ابوظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نھیان کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے بعد امارات نیوز ایجنسی، وام کو بتائیں۔ شیخ محمد نے COVID-19 پر قابو پانے کی کوششوں پر تمام فرنٹ لائن میڈیکل ورکرز کے کردار کو سراہا۔ نرس جیسہ ڈان ایباگ نے کہا کہ شیخ محمد کے الفاظ نے میری اور میری ساتھی نرسوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ بڑے پیمانے پر مریضوں اور معاشرے میں امید پیدا کریں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نرسوں کو محسوس ہوا کہ کچھ حد تک ہم بھی ہیرو ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شیخ محمد نے مجھے ایک بہترین نرس اور امید کا ایک ذریعہ بننے کی ترغیب دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ متعدی بیماری کے مریضوں کی نرسنگ خطرناک ہے۔ کئی گھنٹوں تک بھاری بھرکم ذاتی حفاظتی سازوسامان کے ساتھ پی پی ای پہننا اکثر بنیادی ذاتی ضروریات کی قربانی دینا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ نرس جیسہ ڈان ایباگ نے کہا کہ جب مریضوں کی حالت تشویشناک ہوتی ہے اور مصنوعی نظام تنفس استعمال کئے جاتے ہیں تو یہ زیادہ دباؤ والا کام ہوتا ہے۔ ہم نرسیں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور ان مریضوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں ہم انکے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب تشویشناک حالت والے مریض ٹھیک ہوجاتے ہیں اور دلی شکریہ کا اظہار کرتے ہوئے مسکراہٹ کے ساتھ گھر چلے جاتے ہیں تو ہمیں اپنی ملازمت میں انسانیت کے جزبے کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ نرس نے کہا کہ مریضوں کا علاج معالجہ اور دیکھ بھال کرنا آدھا حصہ ہے جبکہ باقی مریض کی ذہنی اور جذباتی تندرستی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر مریض کی کلاس یا نسل سے قطع نظر اس کی دیکھ بھال کرنا اس سمت میں پہلا قدم ہے۔ نرس جیسہ ڈان ایباگ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنے شہریوں اور غیر ملکیوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں پوری دنیا سے تمام قومیتوں کے لوگوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے جس سے ایک ایسا معاشرتی ماحول پیدا ہواہے جو دوسروں کی ہمدردی اور نگہداشت کی ہماری پیشہ ورانہ اقدار کے مطابق ہے۔ نرس نے کہا کہ شیخ محمد سے بات کرنے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ کس طرح اعلی قیادت سے لے کر حکومت اور معاشرے کی نچلی سطح تک یہ اقدار مؤثر طریقے سے پائی جاتی ہیں۔ فلپائن کے شہر ڈومگیٹی شہر سے تعلق رکھنے والی نرس ایباگ نے بتایا کہ انھیں غیر ملکی ہونے کے باوجود یہ موقع ملا۔ انکا کہنا تھا کہ وہ ایک فلپائنی ہیں اور انھیں لگا کہ متحدہ عرب امارات میں فلپائنی برادری کے لئے ایک پہچان ہے۔ انھوں نے کہا کہ شیخ محمد سے بات کرتے ہوئے انھیں ایسا لگا جیسے وہ مجھے طویل عرصے سے جانتے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ پہلے انھیں خوف تھا کہ وہ کیسے شیخ محمد سے گفتگو کریں گی۔ تاہم کچھ ہی سیکنڈ میں مجھے ان کی حقیقی شخصیت اور عاجزی کا احساس ہوا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے ان سے بات کرکے بہت راحت ملی۔ انھوں نے میری اورمیرے خاندان کی خیریت دریافت کی۔ انھوں نے کہا کہ شیخ محمد سے بات کرکے انھیں بہت اچھا لگا اور یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اس وبائی مرض کے دوران انکی تمام کوششوں کو بے حد سراہا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے کوئی بڑے خواب نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کا آغاز کرنا چاہیں گی اور یہ انکا خواب ہے۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302845089

WAM/Urdu