منگل 14 جولائی 2020 - 10:12:47 صبح

محمد بن راشد نے ڈی آئی ایف سی کے ڈیٹا تحفظ کا نیا قانون جاری کردیا


دبئی ، 1 جون ، 2020 (وام) ۔۔ نائب صدر و وزیراعظم عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے دبئی کے حکمران کی حیثیت سے دبئی انٹرنیشنل فنانشل سنٹر ، ڈی آئی ایف سی کا ڈیٹا پروٹیکشن قانون نمبر 5 مجریہ 2020 جاری کردیا – اس نئے قانون سے اعلی ترین عالمی معیار والا یہ مالیاتی مرکز اپنے ڈیٹا کے تحفظ کو بڑھا کر مشرق وسطی ، شمالی افریقہ کے خطے میں اپنے قائدانہ کردار کو مستحکم کرنے کے قابل ہوگا – یہ نیا قانون یکم جولائی 2020 سے نافذالعمل ہوگا جبجہ ڈیٹا تحفظ سے متعلق موجود قانون نمبر 1 مجریہ 2007 تب تک نافذالعمل رہے گا ۔ نیا قانونی اقدام ، ڈی آئی ایف سی کو خطے میں ایسی جدید ترین صلاحیت کا حامل بنائے گا ۔ ڈی آئی ایف سی اتھارٹی کے بورڈ نے ڈیٹا تحفظ کے قواعد کی منظوری بھی دی ہے جس میں تمام متعلقہ امور کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ نئے قانون میں متعلقہ موضوع سے متعلق بہترین عالمی قانونی اقدامات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا جس میں جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن ، جی ڈٰ پی آر ، کیلیفورنیا کنزیومر پرائیویسی ایکٹ اور دیگر شامل ہیں – ڈیٹا تحفظ سے متعلق نئے قانون و قواعد سے ڈی آئی ایف سی کو یورپیئن کمیشن ، برطانیہ اور دیگر عالمی مقامات پر توثیقی پیشرفت میسر آئے گی جوکہ اس کے کاروبار کی خاطر ڈیٹا منتقلی کو آسان بنائے گی – اس نئے اقدام سے کنٹرولرز کا حتساب اور اس کا عمل موثر بنے گا ، ڈیٹا تحفظ کے انسپکٹرز کی تعیناتی ہوگی ، ڈیٹا تحفظ کے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے گا اور افراد اور ان کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق کنٹریکٹ کی ذمہ داریاں بھی لاگو ہونگیں – اس نئے قانون میں حکومتی اتھارٹیز کے مابین ڈیٹا کے تبادلے کا باقاعدہ ڈھانچہ قائم ہوگا ۔ قانون کی خلاف ورزی پر عمومی جرمانہ ، انتظامی جرمانہ اور پہلے سے عائد جرمانہ کی حد میں اضافہ کو بھی اس نئے قانون میں متعارف کرایا گیا ہے – ڈی آئی ایف سی کے گورنر عیسی کاظم کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ اپنے ایکوسسٹم کو موثر ریگولیٹری بنیاد پر استوار کررہا ہے جس میں اصولوں اور قواعد کی سخت پاسداری کو یقینی بنایا گیا ہے ، اس حوالے سے بہترین عالمی معیار بھی مدنظر رکھے گئے ہیں ، یہ پیشرفت ڈی آئی ایف سی کو بہترین عالمی مرکز بنانے میں معاون ہوگی اور اس کی عالمی ساکھ بھی مزید مستحکم بنے گی – کورونا وائرس کی حالیہ وباء کی عالمی صورتحال میں اس نئے قانون کا نفاذ یکم جولائی سے رکھا گیا ہے تاہم اس قانون کے اطلاق میں آنے والے کاروبار کو تین مہینے کی رعایتی مدت بھی دی گئی ہے تاکہ وہ اس کیلئے خود کو تیار کرسکیں – ترجمہ ۔ تنویر ملک http://www.wam.ae/en/details/1395302845726

WAM/Urdu