منگل 14 جولائی 2020 - 11:28:10 صبح

وزیر ماحولیات کا صحرا میں چاول کاشت کرنے کے اماراتی۔کوریامنصوبے میں پیش رفت کا اعلان


ابوظبی، 02 جون2020 (وام)۔۔ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کے وزیر ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے صحرا میں چاول کی کاشت کے امکان تلاش کرنے کے متحدہ عرب امارات اور کوریا کے مشترکہ تحقیقی پروگرام کے پائلٹ مرحلے کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات اس منصوبے کو رورل ڈویلپمنٹ ایڈمنسٹریشن، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات یونیورسٹی کی شراکت میں چلا رہی ہے۔ پائلٹ مرحلے میں سخت مقامی حالات میں فصلوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں پیشرفت ریکارڈ کی گئی ہے۔ ابتدائی نتائج سے فی ہزار مربع میٹر میں 763 کلوگرام چاول کی پیداوار کامیابی سے مکمل کی گئی۔ بلومبرگ نیوز ایجنسی کے ساتھ انٹرویو میں ڈاکٹر الزیودی نے کہا کہ یہ جدید منصوبہ مشرق وسطی میں اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے۔ اگر یہ منصوبہ بڑے پیمانے پر کامیاب ہوا تو اس خطے میں زراعت کا مستقبل تبدیل ہوجائے گا اور اسے دوسرے بنجر علاقوں میں بھی آزمایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چاول ایک سب سے اہم غذا ہے جو اس خطے میں روزانہ استعمال کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ان فصلوں کو اگانے کے لئے جدت اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں جن کی مقامی سطح پر زیادہ مانگ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہم اپنے وسائل کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ ایسی فصلوں اور طریقہ کار کو آپنایا جائے جو ہمارے صحرا کی آب و ہوا کے لئے موزوں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس عمل میں ہم ہر مرحلے میں جدید حل تلاش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر الزیودی نے کہا کہ ہم اس پیداواری تعاون پر آر ڈی اے اور متحدہ عرب امارات یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یہ پروگرام زرعی شعبے میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مقامی یونیورسٹیوں کو شامل کرنے کی وزارت کی کوششوں سے ہم آہنگ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ دیگر تحقیقی پروگراموں اور کھانے سے متعلق اقدامات کو ایک بنیادی لائن فراہم کرے گا اور زراعت کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات میں محققین اور طلباء کے لئے ایک حوالہ فراہم کرے گا۔ وزیر ماحولیات نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد موجودہ وبائی مرض کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت میں اتار چڑھاو کے پیش نظر درآمدی پیداوار کے مقامی متبادل کو محفوظ بنانے کے لئے قومی مہم کی حمایت کرنا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں جنوبی کوریا کے سفیر کوون یونگ وو نے کہا کہ کورین حکومت اور سفارتخانے کو اس امر پر خوشی ہے کہ 19-COVID کی وجہ سے پیدا ہونے والی اس مشکل صورتحال کے دوران زراعت کے شعبے میں دونوں ممالک کے تعاون میں پہلی ٹھوس کامیابی حاص ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کے پاس زراعت اور تحفظ خوراک کے شعبے میں طویل تجربہ اور جدید ٹیکنالوجی ہے جو وہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اشتراک کرنے کے لئے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات مشرق وسطی اور افریقہ میں کوریا کا واحد خصوصی اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔ یونگ وو نے کہا کہ انکی حکومت پروگرام کے دوسرے مرحلے میں وزارت ماحولیات کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی اور اس مرحلے میں پانی کی بچت کی ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کورین حکومت متحدہ عرب امارات کے ساتھ زراعت کے دیگر اہم شعبوں جیسے اسمارٹ گرین ہاؤس منصوبوں اور کھجور کے کیڑوں پر قابو پانے میں بھی تعاون کرے گی۔ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کے عمل کے بعد منصوبے کے ماہرین نے گرمی، نمکینی اور مٹی کی ناقص حالت کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھنے کی بنا پر عاصمی (جپونیکا) اور 478 FL (انڈیکا) چاول کی اقسام کا انتخاب کیا۔ اس منصوبے کو شارجہ میں وزارت کے تحقیقی مرکز الدھید میں کیا گیا جہاں نومبر 2019 میں یہ بیج بوئے گئے اور مئی 2020 میں 180 دن کے بعد تین مراحل میں کاٹا گیا ۔ فصلوں کے لئے استعمال ہونے والی لاگت اور پانی کی مقدار کو کم کرنے کے لئے پروجیکٹ ٹیم نے زیر زمین ڈرپ آبپاشی کا نظام نصب کیا۔ نتائج کی نگرانی اور ریکارڈنگ کی سہولت کے لئے پلاٹ کو تین بلاکس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلا بلاک 5 مئی کو، دوسرا 10 مئی کو اور تیسرا 30 مئی کو کاٹا گیا تھا۔ کٹے ہوئے چاول کی جانچ مکمل کرنے کے بعد اسے صرف تجارتی استعمال میں لایا جائے گا تاکہ اس میں عالمی معیاروں کو یقینی بنایا جاسکے۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://www.wam.ae/en/details/1395302845874

WAM/Urdu