جمعرات 06 اگست 2020 - 5:22:55 صبح

امارات کے کامیاب خلائی پروگرام چوتھے صنعتی انقلاب میں ایشیاء کی برتری کوفروغ دینگے

  • 1486657790201398248
  • jana-jpg1a
  • china_satellite_w900

ابوظبی، 29 جولائی ،2020 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کے خلائی پروگرام خاص طور پر مریخ مشن کی کامیابی روانگی چوتھے صنعتی انقلاب میں ایشیاء کی برتری کو فروغ دیں گے اور امارات کو دنیا بھر میں ترقی پذیر ممالک کی ترقی میں اہم مقام عطا کریں گے ۔ ابوظبی کی امارات ڈپلومیٹک اکیڈمی میں سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر نارائنپا جناردھن نے امارات نیوز ایجنسی، وام کو بتایا کہ ایشیائی ممالک چوتھے صنعتی انقلاب کے دوڑ میں آگے ہیں اور اس میں خلائی ٹیکنالوجی کا کردار بنیادی ہے۔ چین، بھارت، جنوبی کوریا اور جاپان اس میں سب سے آگے ہیں اور متحدہ عرب امارات اپنے کامیاب خلائی پروگراموں کے باعث ان میں شامل ہوگیا ہے۔ چوتھا صنعتی انقلاب ایک تکنیکی انقلاب ہے جو جسمانی، ڈیجیٹل اور حیاتیاتی ٹیکنالوجیز کو ضم کرتا ہے تاکہ نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں بے مثال مصنوعات اور خدمات کی فراہمی ہوسکے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایشیاء کے ان سرکردہ ممالک میں صف اول کی حیثیت اختیار کرے گا اور اس کی مشرق کی جانب پالیسی ان ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینے میں بھی مدد دے گی۔ وام کی گذشتہ دو ہفتوں کی رپورٹ کے مطابق چین، بھارت، جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ ساتھ امریکہ، روس اور یورپی یونین نے متحدہ عرب امارات کے مریخ مشن کو سراہا اور خلائی شعبے میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ خلائی سفارتکاری ڈاکٹر جناردھن نے کہا کہ خلا کو 21 ویں صدی میں سفارتی آلے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور خلائی سفارتکاری کے ایک حصے کے طور پر ان ایشیائی ممالک [اور دنیا بھر کی دیگر ترقی پذیر اقوام میں بھی] چوتھے صنعتی انقلاب کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ قربت پیدا ہورہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں متعدد مشہور اور بڑے منصوبے جو مغربی ممالک میں جاتے تھے اب ایشیائی ممالک کے لئے مختص کردیئے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چینی کمپنی ہواوے 5G موبائل نیٹ ورک کے حوالے سے خلیجی ممالک اور ایشیاء کے مابین تیار شدہ کثیر جہتی شراکت داری کا تجزیہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے حال ہی میں امریکی حکومت کی ملکیت جی پی ایس [گلوبل پوزیشننگ سسٹم، عالمی نیویگیشن سیٹلائٹ نظام] کے مقابلے میں اپنا آخری سیٹلائٹ لانچ کیا اور مکمل طور پر جی پی ایس گرڈ سے آزاد ہوگیا۔ خلا اور ایشیا کی ترقی چین نے جون میں اپنے BeiDou-3 نیوی گیشن سسٹم میں آخری سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں چھوڑا ہےجس سے چین خلا میں ایک بڑی طاقت کے طور پر سامنے آگیا ہے۔ چین اب جی پی ایس پر انحصار نہیں کرتا ہے۔ دس ارب ڈالر کی لاگت سے یہ نیٹ ورک 35 سیٹلائٹ پر مشتمل ہے اور عالمی سطح پر نیویگیشن کوریج فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹر جناردھن نے کہا کہ اس طرح کا جدید خلائی ٹیکنالوجی کی قیادت میں چوتھا صنعتی انقلاب ایشیائی معیشتوں کی نمو کا مرکز ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کئی دوسرے ممالک کے لئے مصنوعی سیاروں کی تیاری اور لانچنگ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید متحدہ عرب امارات بھی خلائی شعبے کی تجارتی اور ترقیاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اس کی پیروی کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس لئے خلائی سفارتکاری کا سارا تصور صرف ایک سفارتی آلہ ہونے سے آگے بڑھ کر ایک اہم معاشی آلہ بھی بن گیا ہے ۔ متحدہ عرب امارات اور ترقی پذیر ممالک ڈاکٹر جناردھن نے کہا کہ اس طرح کی خدمات پیش کرنے کے لئے اپنے کامیاب خلائی پروگراموں کے ساتھ متحدہ عرب امارات دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کی ترقی میں ایک بڑا اسٹیک ہولڈر ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ مستقبل صرف دو طرفہ تعلقات کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ کثیرالجہتی روابط کے بارے میں ہے۔ لہذا اگر آپ خلیجی ممالک کی خارجہ پالیسیوں پر نظر ڈالیں تو یہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے بارے میں نہیں ہےبلکہ وہ تیسرے ملک میں ایک دوسرے ملک کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عمان کے دقم میں چائنیز بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ بننے پر سعودی عرب اور چین۔پاکستان اقتصادی راہداری میں شرکت پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اس کی بڑی مثال ہیں۔ کثیر الجہتی تعلقات ڈاکٹر جناردھن نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور بھارت نے افریقہ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جن میں سے زیادہ تر ٹیلی ایجوکیشن اور ٹیلی میڈیسن کے بارے میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان سب کی اصل میں خلائی ٹیکنالوجی ہے۔ یہ سب ڈیجیٹل دنیا کے بارے میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات موجودہ معیشت سے ڈیجیٹل معیشت میں اس منتقلی کو آگے بڑھانے والا ہے۔ ڈاکٹر جناردھن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر متحدہ عرب امارات نے ایشیاء کے کچھ سرکردہ ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرلئے تو یہ دوسرے بہت سے ترقی پذیر ممالک کی ترقی میں ایک بہت اہم اسٹیک ہولڈر بن جائے گا۔ مریخ کے تازہ ترین مشن متحدہ عرب امارات کا مریخ مشن ملک کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر فروری 2021 میں سات ماہ میں 493.5 ملین کلومیٹر کا سفر طے کرکے مریخ کے مدار میں پہنچے گا۔ انھوں نے کہا کہ جب یہ تحقیقاتی مشن کامیابی کے ساتھ مریخ پر پہنچ جائے گا تو متحدہ عرب امارات امریکہ، روس، یوروپی یونین اور بھارت کے خصوصی کلب میں شامل ہوجائے گا۔ چین نے 23 جولائی کو مریخ کیلئے اپنا پہلا روور مشن شروع کیا جو فروری 2021 میں سرخ سیارے کے مدار میں پہنچے گا۔ ناسا اپنا اگلا مریخ روور 30 جولائی بروز جمعرات کو روانہ کرے گا جو 18 فروری 2021 کو سرخ سیارے کے جیزیرو کھائی کے اندر اترے گا۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://www.wam.ae/en/details/1395302858965

WAM/Urdu