منگل 29 ستمبر 2020 - 4:54:15 شام

مریخ پر مجوزہ اماراتی شہر کیلئے این وائی یو اے ڈی کی تحقیق برائے تابکاری کی مدد لی جائے گی

  • photo5958591147343458813
  • fg0i0418
  • photo5958591147343458815

بنسال عبدالقادر سے ابوظہبی ، 7 ستمبر ، 2020 (وام) ۔۔ تابکاری پر ہونے والی ایک نئی تحقیق نے متحدہ عرب امارات کے ان ارادوں اور عزم والے منصوبے کی حمایت کردی ہے جس کے مطابق مریخ پر پہلی انسانی آباد کاری 2117 میں ہوسکے گی ، یہ بات ایک سائنسدان نے امارات نیوز ایجنسی ، وام کو بتائی – طویل مدتی خلائی مشنز میں خلاء باز کی صحت پر تابکاری اثرات کا تحقیقی جائزہ لینے والے اور نیویارک یونیورسٹی ابوظہبی کے مرکز برائے خلائی سائنس کے محقق سائنسدان ڈاکٹر دیمیترا اتری نے بتایا کہ طویل مدتی خلائی مشنز میں تابکاری کا معاملہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور یہ خصوصا متحدہ عرب امارات کے مارس 2117 پراجیکٹ کے تناظر میں بہت اہم ہے – ان کی ٹیم نے آسٹرو فزیکل ذریعہ سے انسانی جسم کے مختلف اعضاء میں موجود تابکاری ڈوز کو بہت باریک بینی سے ناپا ہے – خلاء باز کی صحت پر تابکاری پیر کو اپنے انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ہم نے ریڈی ایشن علاج میں کینسر کے مریض کو دی جانے والی ڈوز کا خلاءباز کو درپیش تابکاری مواد کے حجم سے موازنہ کیا گیا ، ریڈی ایشن تھراپی کے ڈیٹا سے اس کے اعداد و شمار کو ترتیب دیتے ہوئے خلاء باز کی صحت کو درپیش ان خطرات کا جائزہ لیا گیا جوکہ اسے گلیکٹک کاسمک ریز اور شمسی طوفانوں کی وجہ سے خلاء میں لاحق ہوسکتے ہیں – اس علم کو حاصل کرنے کے بعد تابکاری اثرات کو کم کرنے کی ٹیکنالوجی ایجاد کرنے میں پیشرفت ہوگی جوکہ مریخ پر انسانی آبادکاری کیلئے عرب امارات کی کاوشوں میں معاون ہوگی ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی تحقیق کے نتائج جلد شائع کریں گے – مریخ پر پہلا شہر جیسا کہ 2017 میں یو اے ای مارس 2117 پراجیکٹ کا اعلان کیا گیا تھا ، اس کے تحت مریخ پر آئیندہ 100 سال میں پہلا شہر بنایا جانا ہے اور یہ پیشرفت مختلف سائنسی اتحاد کے ذریعے ہونا ہے ۔ اس منصوبہ کے تحت مریخ کی جانب سے زیادہ تیز رفتاری سے سفر کرنا ، توانای و خوراک پیدا کرنے والی گھروں کی تعمیر سے متعلق تحقیق کی جانا ہے – وام نے 12 جولائی 2020 کو اپنی رپورٹ میں ناسا کے سینئر سائنسدان کے حوالے سے بتایا تھا کہ 2117 میں مریخ پر پہلا انسانی شہر بسانے سے متعلق عرب امارات کا منصوبہ ، ممکن ہوسکتا ہے – ناسنا میں پلینٹری سائنٹفک ڈویژن کی ڈاکٹر لوری گلیز کا کہنا تھا کہ مریخ مشن پر کئی ممالک مصروف ہیں اور اس نے مریخ تک رسائی کیلئے عالمی صلاحیت کو بڑھایا ہے – آئی ایس ایس مشن کیلئے خلائی بائیالوجی لیبارٹری کی معاونت ڈاکٹر اتری کا کہنا تھا کہ ابوظہبی کی نیویارک جامعہ کے مرکز خلائی سائنس میں خلائی بائیالوجی لیبارٹری کے قیام کا منصوبہ عالمی خلائی مرکز پر عرب امارات کی تحقیق میں معاون ہوگی ۔ اس لیبارٹری کے دو مرکزی حصے ہونگے جن میں مائیکرو گریویٹی کمپوننٹ اور ریڈی ایشن کمپوننٹ شامل ہیں – متحدہ عرب امارات نے انسانی خلائی پرواز کے پروگرام کو شروع کررکھا ہے اور اس کا اگلا قدم عالمی خلائی سٹیشن پر سائنسی تجربات کرنے کا ہے ۔ ڈاکٹر اتری کا کہنا تھا کہ اس لیبارٹری میں ہونے والی تحقیق متحدہ عرب امارات کے خلائی ارادوں کو تقویت دیں گے اور مائیکرو گریویٹی کے آلات کا رواں سال کے آخر میں تجربہ بھی کیا جائے گا – ہوپ پروب ڈیٹا کا استعمال این وائی یو اے ڈی کا مرکز اس تحقیقی عمل کیلئے مریخ پر جانے والے اماراتی مشن ہوپ پروب کا ڈیٹا استعمال کرے گا ۔ اتری کا کہنا تھا کہ ہوپ پروب کا ڈیٹا گلیکٹک کاسمک ریڈی ایشن کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد دے گا اور شمسی طوفانوں سے ہونے والی تابکاری پر تحقیق میں بھی معاون ہوگا – انہوں نے کہا کہ ہوپ پروب کے ڈیٹا کو ناسا کے کیوروسٹی روور کے ڈیٹا سے ملا کر جائزہ لیا جائے گا جس سے مریخ کی سطح اور ماحول کے بارے میں زیادہ معلومات میسر آئیں گی اور یہ سب عمل مریخ پر کی کیمیائی ترکیب کو جلد سمجھنے میں معاون بنے گی – مریخ پر زندگی کی تحقیق ڈاکٹر اتری نے مریخ پر زندگی کی تحقیق سے متعلق بتایا کہ گزشتہ برسوں میں مریخ کی سطح کے بارے میں بہت تحقیق کی گئی ہے لیکن اس کے سب سرفیس ماحول کی زیادہ معلومات میسر نہیں ۔ انہوں نے نیچر سائنس جرنل میں جولائی کو شائع اپنی تحقیق میں ایک ایسا میکنزم تجویز کیا ہے جس کے استعمال سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مریخ پر اگر کبھی زندگی رہی تھی تو کیا وہ اس کی موجودہ سطح سے نیچے اپنی بقاء رکھ پائی تھی – روس اور یورپ کے مشترکا خلائی تحقیقاتی مشن ایکسو مارس کو 2022 میں بھیجا جانا ہے جو مریخ کی سطح سے دو میٹر نیچے تک کی تحقیق کرے گا ۔ انہوں نے کہاکہ اس مشن کے بعد 2023 کے سرما میں اس کے اہم نتائج سامنے آنے کی توقع ہے – ترجمہ ۔ تنویر ملک – http://www.wam.ae/en/details/1395302867981

WAM/Urdu