ہفتہ 26 ستمبر 2020 - 7:35:00 شام

امن کیلئے  حوصلے ،مستقبل کی تشکیل کیلئےعلم کی ضرورت ہوتی ہے: شیخ عبداللہ

  • كلمة عبدالله بن زايد خلال مراسم توقيع معاهدة السلام مع دولة إسرائيل
  • توقيع " معاهدة السلام " بين الإمارات و إسرائيل و " إعلان دعم السلام " بين البحرين و إسرائيل
  • كلمة عبدالله بن زايد خلال مراسم توقيع معاهدة السلام مع دولة إسرائيل
ویڈیو تصویر

ابوظبی، 15 ستمبر،2020 (وام) ۔۔ امور خارجہ اور بین الاقوامی تعاون کے وزیر شیخ عبداللہ بن زاید آل نھیان نے کہا ہے کہ امن کیلئے حوصلے اور مستقبل کی تشکیل کے لئے علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں متحدہ عرب امارات۔اسرائیل امن معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شیخ عبداللہ نے کہاکہ ہم آج دنیا کو یہ بتانے کے لئے یہاں آئے ہیں کہ ہمارا نقطہ نظر اور رہنما اصول امن ہے۔ انھوں نے متحدہ عرب امارات کی قیادت خاص طور پر شیخ محمد بن زاید آل نھیان اور عوام کا سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں آج یہاں امن کا ہاتھ بڑھانے اور امن کا ہاتھ لینے کے لئے کھڑا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے دین میں ہم کہتے ہیں کہ اے خدا تو سلامتی ہے اور امن تجھ ہی سے ہے۔ امن کی تلاش ایک اہم اصول ہے تاہم اصول اس وقت حقیقیت کا روپ دھارتے ہیں جب وہ عمل میں بدل جاتے ہیں۔ شیخ عبداللہ نے کہا کہ آج ہم مشرق وسطی کے قلب میں تبدیلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں ایک ایسی تبدیلی جو پوری دنیا میں امید کو جنم دے گی۔ انھوں نے کہا کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کی کوششوں کے بغیر ممکن نہیں تھا جنہوں نے ہم سب کے یہاں تک پہنچنے کے لئے سخت محنت اور خلوص سے کام کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سارے عمل میں کردار ادا کرنے پر وہ خاص طور پر اپنے ہم منصب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو، امریکی صدر کے سینئر مشیر جیریڈ کشنر اور امریکہ میں مقیم امن پر یقین رکھنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتےہیں ۔ شیخ عبداللہ نے کہا کہ وہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا بھی فلسطینی علاقوں کے الحاق کو روکنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے کے لئے ہماری مشترکہ خواہش کو تقویت دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم آج ایک نئے رجحان کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو مشرق وسطی کے لئے ایک بہتر راہ پیدا کرے گا۔ یہ امن معاہدہ جو امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے لئے ایک تاریخی کارنامہ ہے اس کا مثبت اثر پڑتا رہے گا کیوں کہ ہمارا یقین ہے کہ اس کی بازگشت کی عکاسی پورے خطے پر ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ امن کے علاوہ ہر آپشن تباہی، غربت اور انسانی تکلیف کی علامت ہے۔ اماراتی وزیر خارجہ نے کہا کہ آج کی ملاقات سے یہ نیا وژن پورے خطے کے مستقبل کے لئے عملی شکل اختیار کرنے لگا ہے۔ یہ نعرہ نہیں ہے جو ہم سیاسی فائدے کے لئے اٹھاتے ہیں بلکہ ہر ایک مستحکم، خوشحال اور محفوظ تر مستقبل کیلئے آگے بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب ہر طرف سائنس کا دور دورہ ہے خطے کے نوجوان اس عظیم انسان دوست تحریک میں حصہ لینے کے منتظر ہیں۔ شیخ عبداللہ نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ متحدہ عرب امارات استحکام اور انسانی صلاحیتوں کی نشوونما کی طرف جانے والی تحریک میں ایک نئے وژن کے ساتھ شامل ہوگا جس کا مقصد امن، خوشحالی اور مستقبل کی طرف دیکھنے والوں کے لئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مشرق وسطی میں امریکہ کا کردار مثبت ہے اور اس کا ثبوت اس معاہدے سے ملتا ہے جس پر ہم آج وائٹ ہاؤس میں دستخط کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکی صدر نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا اور یہ پوری دنیا کے امن پسند لوگوں کے لئے انسانی تاریخ میں ہمیشہ مشعل راہ رہے گا۔ شیخ عبداللہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں ہمارے لئے یہ معاہدہ ہمیں فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے قابل بنائے گا اور ایک مستحکم اور خوشحال خطے میں خود مختار ریاست کی امیدوں کا ادراک کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ گزشتہ امن معاہدوں کا تسلسل ہے۔ ان تمام معاہدوں کا مقصد استحکام اور پائیدار ترقی کیلئے کام کرنا ہے۔ اماراتی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس مشکل سال میں جب دنیا COVID-19 وباء کا شکار ہے متحدہ عرب امارات نے اپنی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں کو مزید تقویت بخشی ہےجسکی بنیاد ملک کے بانی شیخ زاید نے رکھی تھی ۔ بانی قوم نے ہمیں سکھایا کہ مذہبی اور نسلی وابستگی سے قطع نظر دوسروں کی بلاامتیاز مدد کی جائے۔ شیخ عبداللہ نے کہا کہ اس مشکل وقت کے دوران متحدہ عرب امارات مریخ کی تحقیقات شروع کرنے میں کامیاب رہا۔ انھوں نے کہا کہ مریخ مشن واقعی یہ امید پیدا کرتی ہے کہ اگر ہماری حکومتیں اور لوگ سائنس کے شعبے میں کام کریں تو ہمارا خطہ اس شعبے میں ترقی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ سال بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہلے عرب خلاباز ھزع المنصوری کو بھیجنے کے بعد ایک پر امن جوہری بجلی گھر شروع کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاہدے سے خطے میں جامع امن کے امکانات کھل گئے ہیں۔ شیخ عبداللہ نے کہا کہ امن کیلئے حوصلے اور مستقبل کی تشکیل کے لئے علم کی ضروت ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ قوموں کی ترقی کے لئے اخلاص اور استقامت کی ضرورت ہے۔ ہم آج دنیا کو یہ بتانے کے لئے آئے ہیں کہ یہ ہمارا نقطہ نظر ہے اور یہ کہ امن ہی ہمارا اصول ہے۔ جو لوگ صحیح طریقے سے کام شروع کرتے ہیں خدا کے فضل سے انھیں کامیابیاں نصیب ہونگی۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302870198

WAM/Urdu